اخلاق ہندی میر بہادر علی حسینی کی تصنیف کردہ ایک کتاب ہے جسے انھوں نے فورٹ ولیم کالج میں لکھا تھا۔ یہ کتاب دراصل مفتی تاج الدین کی فارسی کتاب مفرح القلوب کا ترجمہ ہے[1] اور مختلف سبق آموز حکایتوں اور نقلوں پر مشتمل ہے۔ 1803ء میں چھپ کر منظر عام پر آئی اور یوں اردو زبان کی تاریخ میں نثر کی پہلی کتاب قرار پائی جو چھاپہ خانے سے چھپ کر نکلی۔

اخلاق ہندی کی دوسری طباعت، لندن سے 1868نذپتفغذپبggggzvbjjgAbj میں ہوئی، اس نسخے کا سرورق

تاریخترميم

انگریز عہدہ داروں اور فوجیوں کو مقامی زبانیں اور رسم و رواج کی تعلیم کے لیے کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج قائم کیا گیا تھا جہاں مقامی لوگوں کو ملازم رکھا گیا۔ ان کا کام ہندوستان کے گلی محلے کی بولی کو کتابی صورت میں پیش کرنا تھا۔ ان ملازمین کو منشی کا نام دیا جاتا اور انھی میں سے ایک کو ان سب پر میر مقرر کیا جاتا۔ منشی بہادر علی حسینی بھی میر مقرر ہوئے۔ پہلی کتاب ان کی ہی لکھی ہوئی تھی جو ایک فارسی کتاب مفرح القلوب کا ترجمہ ہے۔[2][3]اس کتاب کے دیباچے سے معلوم ہوتا ہے کا یہ کتاب جان گلكرسٹ کے فرمان پر ترجمہ ہوئی۔ اس کے بعد اس کتاب کو 1868 میں برطانیہ سے سید عبد اللہ نے شائع کروایا۔ اس کی ایک جدید طباعت 2010 میں بھارت سے ہوئی، پاکستان میں اس کو کچھ عرصہ پہلے مجلس ترقی ادب لاہور نے چھاپا تھا جو اب نایاب ہے۔[4]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. رضا علی عابدی، کتابیں اپنے آباء کی، صفحہ25-28
  2. (یہ کتاب "ھتو پدیش" نامی کتاب سے فارسی میں ترجمہ ہوئی پھر اس فارسی سے اردو میں ترجمہ ہوئی) دیباچہ کتاب
  3. بابو رام سکینہ، تاریخ ادب اردو (حصہ نثر) صفحہ 7
  4. فہرست مجلس ترقی ادب لاہور، جولائی 2009