مجلس ترقی ادب

پاکستان کا علمی و ادبی ادارہ

مجلس ترقی ادب لاہور میں قائم پاکستان کا ایک علمی و ادبی ادارہ ہے جو حکومت پنجاب کے ماتحت کام کرتا ہے، جس کا مقصد اردو کے کلاسیکی ادب اور علوم انسانی پر تالیفات و تراجم شائع کرنا ہے۔ یہ ادارہ جولائی 1954ء میں قائم ہوا۔ اس ادارے کے موجودہ ناظم اردو کے ممتازشاعر، ادیب، نقاد، ڈراما نگار ،کالم نگار اور محقق منصور آفاق ہیں۔ اس ادارہ کا علمی جریدہ صحیفہ کے نام سے شائع ہوتا ہے جو 1957ء سے تسلسل کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔

مجلس ترقی ادب
Majlistaraqiadabmono.png
مجلس ترقی ادب
قسمعلمی و ادبی ادارہ
قانونی حیثیتسرکاری
نصب العیناردو کلاسیکی ادب کی کتابیں شائع کرنا
صدر دفاتر2-کلب روڈ، لاہور
مقام
باضابطہ زبان
اردو
ناظم
منصور آفاق
اشاعتمقالات سر سید
مقالات محمد حسین آزاد
رسوم ہند
مغربی زبانوں کے ماہر علما
نیرنگ خیال
جامع الحکایات ہندی
منبع تنظیمیں
محکمہ اطلاعات و ثقافت، حکومت پنجاب
ویب سائٹhttp://www.mtalahore.com

قیامترميم

مئی 1950ء میں اس وقت کی حکومت مغربی پاکستان نے اردو زبان کی ترقی کے لیے ایک لاکھ روپے کی امداد سے محکمہ تعلیم کی نگرانی میں ایک ادارہ قائم کیا جس کا نام مجلس ترجمہ رکھا۔ تب اس ادارے کا کام صرف اتنا تھا کہ مشعرق و مغرب کی بلند پایہ علمی کتابیں منتخب کر کے ان کے اردو ترجمے کرائے اور انہیں شائع کرے۔ جولائی 1954ء میں ادارے کو ایک نئی شکل دی گئی اور اس کا نام مجلس ترقی ادب رکھا گیا، بعد ازاں حکومتِ مغربی پاکستان نے اپنے 10 فروری 1958ء کے اعلامیے کے ذریعے مجلس ترقی ادب کی تشکیلِ نو کی۔ اغراض و مقاصد اور آئین کو نئے سرے سے ترتیب دیا گیا، نئے ارکان نام زد کر کے اس کا بورڈ بنایا گیا اور وزیرِ تعلیم کو اس کا صدر مقرر کیا گیا۔ پھر 1975ء میں یہ ادارہ حکومتِ پنجاب کے محکمہ اطلاعات کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ اب یہ ادارہ محکمہ اطلاعات و ثقافت کے زیر نگرانی کام کرتا ہے۔[1]

اغراض و مقاصدترميم

  • اردو کے کلاسیکی ادب کی ترویج
  • ادبِ عالیہ کی اشاعت
  • علمی و ادبی کتابوں کے تراجم اور (حسب ضرورت) متون کی اشاعت
  • ادبی مقالات و مسودات کی اشاعت[1]
  • کتابوں پر انعامات اور ایوارڈز کی تقسیم
  • سال کی خوبصورت ترین نظم پر انعام
  • سال کے سب سے اعلی مضمون پر انعام

لائبریریترميم

مجلس ترقی ادب نے بتدریج اپنی لائبریری فعال بنا لی ہے جس میں فی الحال ستائیس ہزار (27,000) سے زائد علمی و ادبی اور دس ہزار سے زائد جرائد موجود ہیں، ان میں نادر کتب بھی سینکڑوں کی تعداد میں شامل ہیں۔[1]

ناظمینترميم

مطبوعاتترميم

  • مقالات سر سید (16 جلدیں)
  • مکتوبات سر سید (2 جلدیں)
  • خطوط بنام سرسید
  • خطبات سر سید
  • مسافران لندن
  • سر سید کی سائنٹفک سوسائٹی
  • کلیاتِ نثر حالی (2 جلدیں)
  • مقالات محمد حسین آزاد (3 جلدیں)
  • باقیات شلی
  • نثر اکبر الہٰ آبادی
  • دیوان غالب (نسخہ عرشی)
  • کلیات غالب فارسی (3 جلدیں)
  • مرقع غالب
  • یادگار غالب
  • غالبیاتِ مہر
  • رسوم ہند
  • مغرب کے اردو لغت نگار
  • مغربی زبانوں کے ماہر علما
  • آغا حشر کے ڈرامے (5 جلدیں)
  • جامع الحکایاتِ ہندی
  • کلیات سودا (4 جلدیں)
  • کلیات میر (6 جلدیں)
  • کلیات مصحفی (9 جلدیں)
  • کلیات میر سوز (2 جلدیں)
  • کلیات شاہ نصیر (4 جلدیں)
  • کلیات ناسخ (2 جلدین)
  • منتخب میراثی انیس
  • جدید فارسی شاعری
  • اردو املا
  • سخن دان فارس
  • پاکستان میں فارسی ادب
  • تاریخ ادبِ اردو (4 جلدیں)
  • مقالات حافظ محمود خان شیرانی (10 جلدین)
  • مقالات مولوی محمد شفیع (2 جلدیں)
  • مقالات عبد الستار صدیقی
  • تزک جہاں گیری
  • سیاحت نامہ کشمیر و پنجاب
  • سر سید کا سفرنامہ پنجاب
  • جنگ آزادی میں اردو کا حصہ
  • قائد اعظم اور آزادی کی تحریک
  • 1857ء اخبار اور دستاوزیں
  • اردو صحافت انیسویں صدی میں
  • تاریخ پنجاب

جریدہترميم

مجلس ترقی ادب ایک علمی جریدہ صحیفہ کے نام سے شائع کرتا ہے۔ اس جریدے کا اجرا جون، 1957ء میں سید عابد علی عابد کی تحریک و تجویز پر ہوا۔ یہ ایک سہ ماہی جریدہ ہے۔ اس جریدے کے مدیران میں سید عابد علی عابد (بانی مدیر)، ڈاکٹر وحید قریشی، احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر یونس جاوید اور شہزاد احمد تھے۔ موجودہ مدیر فضل حق قرشی ہیں۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ تعارف، فہرست مطبوعات، مجلس ترقی ادب لاہور، صفحہ 1