زمرہ جات


اسلامی نجکاری (انگریزی:Islamic Trade) قرآن، حدیث اور فقہی اصولوں کے مطابق داخلی اور بین الاقوامی تجارت کو کہا جاتا ہے۔ اسلام ميں تجارت پر خاصہ زور ديا گيا ہے چاہے وہ ملکی ہو يا بين الاقوامی۔
ايک حديث ميں آتا ہے کہ " رزق کے دس ميں سے نو حصّے تجارت ميں ہے ۔" [1]
مزيد فرمايا کہ " سچے اور امانت دار تاجر کا حشر نبيوں اور صديقوں اور شہيدوں کے ساتھ ہو گا ۔" [2]
تجارت ميں ترغيب کے ساتھ ساتھ اسلام تجارت کو دو بڑے حصوں ميں بانٹتا ہيں ايک حلال تجارت اور دوسرا حرام تجارت۔ حرام تجارت ميں سودی تجارت، شراب کی تجارت، سؤر کے گوشت وغيرہ کی تجارت وغيرہ شامل ہيں جبکہ سود، قمار، سٹے بازی اور دھوکا وغيرہ سے پاک تجارت کو حلال تجارت کہا جاتا ہے۔
مسلمان ممالک کے اندر ايک جگہ سے دوسری جگہ سامان تجارت لے جانے پر کوئی محصول وصول نہيں کيا جائے گا۔ اور جيسا کہ اسلام ميں کوئی سرحدات مسلمان علاقوں کے درميان نہيں ہيں لہٰذا تمام اسلامی ممالک کو ايک ہونا چاہيے ليکن موجودہ دور ميں ايسا نہيں لہٰذا مسلمان ممالک کے درميان مال تجارت کی درآمدات و برآمدات پر کوئی محصول وصول نہيں کيا جائے گا۔ اور رہی بات غیر مسلم ممالک سے تجارت کی، تو جو ممالک مسلمان ممالک کی اشياء پر محصول وصول نہيں کريں گے تو ان کے مال تجارت پر محصول وصول نہيں کيا جائے گا اور جوممالک مسلمان ممالک کے مال تجارت پر محصول لگاتے ہيں تو ان ممالک کے مال تجارت پر محصول لگايا جائے گا۔ لہٰذا اسلام کے ملکی اور بين الاقوامی تجارت کی قوانين کے نفاذ سے ملکی اور بين الاقوامی تجارت نہايت سہل ہو جائے گی اور چھوٹے سے چھوٹے تاجر کو اپنا مال دوسرے ممالک کی منڈيوں ميں بيچنے کا موقع مل جائے گا اور بين الاقوامی تجارت ميں بيسوں گنا اضافہ ہو جائے گا جس سے ہر چيز کی قيمت نہايت کم ہو جائے گی ۔[3]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. کنزالعمال
  2. ترمذی
  3. Muhammad Sharif Chaudhry (2003)۔ "Fundamentals of Islamic Economic System: Islamic Trade"۔ MuslimTents.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 دسمبر 2014