زمرہ جات


تعریف

ترمیم

تکافل عربی زبان کا لفظ ہے جو کفالت سے نکلا ہے اور کفالت ضمانت اور دیکھ بھال کو کہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں باہم ایک دوسرے کا ضامن بننایا باہم ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرنا مراد ہے۔[1]

’تکافل‘ کی بنیاد بھائی چارے، امدادِ باہمی اور ’تبرع‘ کے نظریے پر ہے، جو شریعت کی نظر میں پسندیدہ ہے۔ دورِ جدید میں تکافل کو روایتی انشورنس کے متبادل کے طور پر بطور اسلامی انشورنس کے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس نظام میں تمام شرکا باہم رسک شیئر کرتے ہیں اور شرکا باہمی امداد و بھائی چارے کے اس طریقے سے مقررہ اصول و ضوابط کے تحت ممکنہ مالی اثرات سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ روایتی انشورنس کے مقابلے میں تکافل کا نظام ایک عقدِ تبرُع ہے جس میں شرکا آپس میں ان خطرات کو تقسیم کرتے ہیں، تکافل نظام کے عقد تبرع کے نتیجے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی قسم کا سود کا عنصر موجود نہیں ۔

قرآن و سنت میں تکافل کا تصور

ترمیم

تکافل کا تصور کوئی نیا ایجاد کردہ تصور نہیں ہے ،بلکہ واضح طور پر قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں یہ تصور موجود ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں باہمی امداد اور تعاون کی بڑی ترغیب دی گئی ہے اور یہی باہمی امداد ہی تکافل کی بنیاد ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری ہے:

وَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی(المائدہ 5:2)

ترجمہ: نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔

اِِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِِخْوَۃٌ (الحجرات 49: 10)

ترجمہ:مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

اس تعاون اور باہمی بھائی چارے کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور ایک دوسرے کے لیے سہارا بن جائیں اور مصیبت میں کام آئیں جیسا کہ بھائی آپس میں کرتے ہیں۔ انھی اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے دنیا میں بھائی چارے، اخوت، ہمدردی اور باہمی تعاون کی خوش گوار فضا قائم ہو سکتی ہے اور یہی نظریہ تکافل کی بنیا د ہے۔ یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ تکافل صرف مسلمانوں کے لیے نہیں۔ کوئی بھی فرد جو اس کا رکن بنے گا وہ اس سے استفادہ کر سکے گا۔ ملائیشیا میں مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی اسلامی بنکوں اور تکافل کمپنیوں کے ساتھ معاملات کرتے ہیں۔ یہ معاہدہ باہمی تعاون و تناصر پر مبنی ہے، چنانچہ اس میں ایک دفعہ یہ بھی ہے کہ ’’ہر گروہ کو عدل ا نصاف کے ساتھ اپنی جماعت کا فدیہ دینا ہوگا‘‘ یعنی جس قبیلے کا جو قیدی ہوگا، اس قیدی کے چھڑانے کا فدیہ اسی قبیلے کے ذمے ہوگا۔

ایک واقعہ

ترمیم

ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! میں اپنے اونٹ کو باندھ کر اللہ پر توکل کروں یا اس کو چھوڑ دوں، پھر اللہ پر توکل کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسانہ کرو، بلکہ پہلے اونٹ کو باندھو اور پھر اللہ تعالٰیٰ پرتوکل کرو۔(صحیح ترمذی 2771)

تکافل کا طریقۂ کار

ترمیم

تکافل کے نظام میں کمپنی کی حیثیت وکیل یا مینیجر کی ہوتی ہے۔ ’تکافل نظام‘ میں سب سے پہلے کمپنی کے شیئر ہولڈر کچھ رقم باقاعدہ وقف کرتے ہیں۔ اس رقم سے ایک وقف پول یا فنڈ (Participant's Takaful Fund )قائم کیا جاتا ہے۔ جہاں ان شیئر ہولڈروں کی حیثیت وقف کنندہ کی ہوتی ہے۔ وقف فنڈ سے ارکان کا تعلق محض ’عقدِ تبرع‘ کا ہوتا ہے۔ وقف فنڈ کی ملکیت وقف کنندہ سے وقف کی طرف منتقل ہوجاتی ہے، البتہ اس وقف کے منافع سے وہ استفادہ کرتے ہیں۔ اس وقف فنڈ کو PTF کا نام دیا گیا ہے۔

فقہ سے استدلال

ترمیم

فقہ کا مشہور اصول ہے کہ شرط الواقف کنص الشارع، یعنی وقف کرنے والے کی شرط صاحبِ شریعت کے فرمان کی مانند ہے۔ اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے واقف، وقف فنڈ میں کچھ شرائط عائد کرتے ہیں۔ جس میں ایک شرط یہ بھی ہوتی ہے کہ جو شخص بھی اس وقف فنڈ کو عطیہ دے گا، اس وقف فنڈ سے وقف شرائط کے مطابق وہ فوائد کا مستحق ہوگا۔

وقف کے اندر چوں کہ اس بات کی گنجایش ہے کہ وہ مخصوص طبقے یا افراد کے لیے ہو، مثلاً کوئی شخص اپنے باغ کو اس شرط کے ساتھ وقف کرے کہ اس کا پھل صرف فلاں شخص کو یا میری اولاد کو دیا جائے یا میری زندگی میں مجھے ملتا رہے، وغیرہ تو یہ شرائط لگا نا نہ صرف جائز بلکہ مندرجہ بالا اصول کی روشنی میں ان کی پابندی بھی لازمی ہے۔ اسی طرح تکافل سسٹم میں وقف کرنے والا، وقف کے مصالح کے پیش نظر وقف کے دائرے کو مخصوص افرا د تک محدود اور وقف فنڈ سے استفادہ کرنے کی مخصوص شرائط مقرر کر سکتا ہے۔

تکافل کی اقسام

ترمیم

تکافل کی دو اقسام ہیں : 1۔ جنرل تکافل 2۔ فیملی تکافل

عمومی (جنرل) تکافل

ترمیم

عمومی تکافل میں اثاثہ جات، یعنی جہاز، موٹر اور مکان وغیرہ کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تکافل کی رکنیت فراہم کی جاتی ہے۔ اگر اس اثاثے کو جس کے لیے تکافل کی رکنیت حاصل کی گئی ہو کوئی حادثہ لاحق ہو جائے تو اس نقصان کی تلافی ’وقف فنڈ‘ (پی ٹی ایف) سے کی جاتی ہے۔ کمپنی اس وقف فنڈ کو منظم کرتی ہے اور وکالہ فیس وصول کرتی ہے۔ نیز اس فنڈ میں موجود رقم کو سرمایہ کاری کی غرض سے شرعی کا روبار میں لگاتی ہے، جس کی مختلف شرعی شکلیں اور صورتیں ہوتی ہیں۔ اس میں فنڈ رب المال ہوتا ہے اور کمپنی مضارب ہوتی ہے، جب کہ نفع کا خاص تناسب طے ہوتاہے۔ اس تناسب سے کمپنی کو بحیثیت مضارب اپنا حصہ ملتا ہے اور باقی نفع و قف فنڈ میں جاتا ہے ،جو فنڈ کی اپنی ملکیت ہوتا ہے۔

فیملی تکافل یا لائف تکافل

ترمیم

تکافل کی اس قسم میں انسانی زندگی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تکافل رکنیت فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں شرکا کو تکافل تحفظ کے ساتھ ساتھ حلال سرمایہ کاری کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ شریک تکافل جب کسی تکافل کمپنی میں رکنیت حاصل کر لیتا ہے تو ایک مخصوص مدت کے لیے ایک خاص رقم (پریمیم) ماہانہ یا سالانہ بنیاد پر ادا کرتا ہے جس میں سے کچھ رقم وقف فنڈ میں جمع کی جاتی ہے، اس میں وقف فنڈ کے علاوہ ایک اور فنڈ ہوتا ہے جس کا نام پی آئی اے (Participant's Investment Account) ہے۔ یہ شریک تکافل کا سرمایہ کاری فنڈ ہوتا ہے، جب کہ جنرل تکافل میں شریک تکافل کا پی آئی اے اکاؤنٹ نہیں ہوتا۔

خلاصہ

ترمیم

المختصر یہ کہ* شریک تکافل کی جانب سے ادا کر دہ زر تعاون دو مدات میں تقسیم ہوتا ہے۔ رقم کا کچھ حصہ بطور تبرع وقف فنڈ میں چلا جاتا ہے اور باقی ماندہ حصہ سر ما یہ کاری میں لگایا جاتا ہے۔* تکافل تحفظ کے سلسلے میں تما م کلیمزکی ادایگی وقف پول سے کی جاتی ہے۔* اسی طرح سال کے آخر میں کلیمز کی ادایگی اور اخراجات منہا کرنے کے بعد شریعہ بورڈ سے منظوری لے کر سرپلس (بچ جانے والی رقم) کو شرکا کے درمیان تقسیم کیا جاتاہے۔ * ہر سال کے اختتام پر تمام ادایگیوں کے بعد بچ جانے والی رقم کو ’سر پلس‘ کہتے ہیں۔ * نقصان کی صورت میں تکا فل آپریٹر اپنی وکالہ فیس میں کچھ اضافہ کیے بغیر وقف فنڈ کو قرض حسنہ فراہم کرتا ہے۔

== مزید دیکھیے ==* اسلامی بینکاری* اسلامی معاشیات * تکافل کی اقسام

حوالہ جات

ترمیم
  1. "تکافل: ایک تعارف تصنیف زاہدحسین اعوان"۔ 16 مارچ 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2010 

بیرونی روابط

ترمیم