زمرہ جات


وقف کسی شے (چیز)کو اپنی ملک سے خارج کرکے خالص اللہ تعالیٰ کی مِلک کردینا اس طرح کہ اُس کا نفع بندگانِ خدا میں سے جس کو چاہے ملتا رہے۔[1]

وقف کی تعریف

ترمیم

کسی بھی چيز کی اصل کو روک کر رکھنے اور اس میں ہبہ یا وراثت کے تصرف نہ کرنے بلکہ کسی بھی قسم کا تصرف نہ کرنے کو وقف کہا جاتا ہے تاکہ اس چيز کے نفع کو وقف کرنے والے کی ارادہ کے مطابق خیر و بھلائی کے کاموں میں صرف کیا جا سکے ۔

سب سے بہتر وقف

ترمیم

سب سے بہتر وقف یہ ہے کہ اسے خیر و بھلائی کے کاموں میں وقف کیا جائے اور اگر غیر مسلموں کو وقف سے فائدہ دینے میں انہيں اسلام کی طرف راغب کرنے اور دعوت دینے کا مقصد ہو اور غیر مسلم کے اسلام قبول کرنے کی امید ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ فرضی زکوۃ جب غیر مسلموں کو تالیف قلب کے لیے دی جا سکتی ہے تو وقف کا مال بالاولیٰ دیا جا سکتا ہے، لیکن اولیٰ اور بہتر یہ ہے کہ اسے خیر و بھلائی کے کاموں میں صرف کیا جائے کیونکہ اس کا نفع اورفائدہ تو یقینی ہے نہ کہ متوقع ۔

اور یہ بھی ممکن ہے کہ وقف اسلامی اقتصادی نظام کے فعال ہونے میں شامل کیا جائے وہ اس طرح کہ وقف کا حاصل ہونے والا مال شرعی طور پر جائز تجارتی کاموں میں لگایا جائے تا کہ اس کا نفع اور زيادہ اورعام ہو۔

وقف کرنے میں متوقع مشکلات وقف کرنے والے کے ورثاء اور رشتہ داروں کی جانب سے پیدا ہو سکتی ہیں اور اسی طرح وقف کا نفع مستحقین پر صرف کرنے میں بھی کچھ مشکلات متوقع ہیں ۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. بہارشریعت ،ج2،حصہ 10 ،ص523

بیرونی روابط

ترمیم

اسلامی سوال و جوابآرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ islam-qa.com (Error: unknown archive URL)