وزن سے مراد وہ قوت ہے جو ہر جسم سیارے کی کشش ثقل کی وجہ سے محسوس کرتا ہے۔ اوزان جس کا واحد وزن ہے سے تول کے باٹ مراد لیے جاتے ہیں؛ درہم، دینار، رطل، دانق، استار؛ یہ سب تو ل کے اوزان ہیں۔[1]

وزن بطور مقدار

ترمیم

کسی چیز کی مقدار معلوم کرنے کو وزن کرنا کہا جاتا ہے عرف عام میں وزن وہ مقدار ہے جو ترازو یا کانٹے(بھاری اشیاء وزن کرنے کا آلہ)سے معلوم ہو[2]
آزادانہ گرتی ہوئی ہر چیز کا وزن صفر ہوتا ہے۔ اسی طرح تیرتی ہوئی ہر چیز کا وزن بھی صفر ہوتا ہے مگر اس کی کمیت میں کوئی فرق نہں پڑتا۔
اسی طرح زمین کے گرد گھومتے ہوئے مصنوعئ سیارے میں کسی چیز یا خلا نورد کا وزن صفر ہو جاتا ہے مگر اس کی کمیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اگر کسی بلند عمارت میں نصب لفٹ elevator نیچے جانا شروع کرتی ہے تو لفٹ میں موجود ہر چیز کا وزن کم ہو جاتا ہے مگر جب لفٹ رکنے لگتی ہے تو وزن بڑھنے لگتا ہے۔

اگر زمین پر کسی چیز کا وزن ایک ہو تو سورج پر اس کا وزن لگ بھگ 28 گنا بڑھ جائے گا حالانکہ اس چیز کی کمیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔ مختلف سیاروں پر اسی چیز کا وزن مندرجہ ذیل ہو گا۔

اجرام فلکی زمین کے مقابلے میں
اس پر کسی چیز کا وزن
کشش ثقل کا اسراع
m/s²
سورج 27.90 274.1
عطارد 0.3770 3.703
زہرہ 0.9032 8.872
زمین 1 9.8226[3]
چاند 0.1655 1.625
مریخ 0.3895 3.728
مشتری 2.640 25.93
زحل 1.139 11.19
یورینس 0.917 9.01
نیپچون 1.148 11.28

حوالہ جات

ترمیم
  1. مفتاح الاوزان - مؤلف : مفتی عبد الرحمن القاسمی عظیم آبادی - ناشر : الامۃ ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ، حیدرآباد، انڈیا
  2. المفردات: راغب اصفہانی
  3. This value excludes the adjustment for centrifugal force due to Earth’s rotation and is therefore greater than the 9.80665 m/s² value of معیاری کشش ثقل.