اعتماد الدولہ قمر الدین خاں

اعتماد الدولہ قمر الدین خاں – میر محمد فاضل (وفات: 21 مارچ ء) مغلیہ سلطنت کا صدرِ اعظم تھا جس کا تعلق ترک مغل اشرافیہ سے تھا۔اعتماد الدولہ کا والد محمد امین خاں تورانی بھی مغلیہ سلطنت کا صدرِ اعظم تھا۔

اعتماد الدولہ قمر الدین خاں
Itimad ad Daula, Qamar-ud-din.jpg
 

معلومات شخصیت
تاریخ وفات 21 مارچ 1748  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد معین الملک،  انتظام الدولہ  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد محمد امین خاں تورانی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
صدر اعظم مغلیہ سلطنت   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
1724  – 21 مارچ 1748 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نظام الملک آصف جاہ اول 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

سوانحترميم

ابتدائی حالاتترميم

قمر الدین خاں کا نام میر محمد فاضل اور خطابِ شاہی اعتماد الدولہ ہے۔ کسی بھی تاریخ کی کتاب میں قمر الدین خاں کے ابتدائی حالات میسر نہیں آ سکے۔ صمصام الدولہ شاہنواز خان نے مآثر الامراء میں بھی ابتدائی حالات نہیں لکھے، محض دربار سے وابستگی اور درباری مناصب و مراتب کے احوال ہی لکھے ہیں۔

مغل دربار میں رسائیترميم

قمر الدین خاں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے آخر زمانۂ حکومت میں مغل دربار سے وابستہ ہوا۔ مناسب عہدہ اور قمر الدین خاں کا خطاب اورنگزیب عالمگیر سے تفویض ہوا۔ مغل شہنشاہ محمد فرخ سِیَر کے عہدِ حکومت میں عمدہ منصب اور احدیوں کی بخشی گری پر مقرر ہوا۔ محمد فرخ سِیَر کے چوتھے سالِ جلوس (1716ء) میں صوبہ لاہور کے ناظم (گورنر) عبدالصمد دلیر جنگ کے ساتھ سکھوں کے خلاف مہم پر مقرر ہوا۔ مغل شہنشاہ محمد شاہ کے پہلے سال جلوس (1719ء) سادات بارہہ سے تعلق رکھنے والے حسین علی خان کے مرنے کے بعد جبکہ اُس کے بھانجے غیرت خاں نے سادات بارہہ کے لوگوں کو لے کر شاہی لشکر پر چڑھائی کی تو قمر الدین خاں نے شہرت حاصل کی اور بہادری دکھائی۔ اِس کے بعد چھ ہزاری ذات، چھ ہزار سوار کا منصب، بخشی گری کے ساتھ ساتھ داروغہ غسل خانہ پر مقرر ہوا۔ 1721ء میں جب قمر الدین خاں کے والد محمد امین خاں تورانی کی وفات ہوئی تو محمد شاہ نے اگرچہ دکن سے نظام الملک آصف جاہ کو اپنے حضور بلوایا تھا مگر قمر الدین خاں کے منصب میں اِضافہ ہوا اور اعتماد الدولہ کا خطاب دیا گیا۔ نظام الملک آصف جاہ نے جب حالات موافق نہ دیکھے تو وہ محمد شاہ کی حضوری سے دل برداشتہ ہوکر کسی بہانے سے واپس دکن چلا گیا۔ قمر الدین خاں 1137ھ مطابق 1725ء میں منصبِ وزارت پر فائز ہوا اور مدتوں اِس عیش و آرام میں زندگی بسر کی۔ [1]

وفاتترميم

متعدد ماخذات میں تحریر ہے کہ قمر الدین خاں کی وفات احمد شاہ ابدالی کے حملہ ہندوستان کے دوران توپ کا گولہ لگنے سے ہوئی مگر صمصام الدولہ شاہنواز خان نے قمر الدین خاں کے متعلق موت کا بیان لکھتے ہوئے اِسے قتل قرار دِیا ہے جو اُس کے کسی رشتہ دار نے کیا تھا۔ [2]

مزید دیکھیےترميم

  1. صمصام الدولہ شاہنواز خان: مآثر الامراء، جلد 1، صفحہ 250۔
  2. صمصام الدولہ شاہنواز خان: مآثر الامراء، جلد 1، صفحہ 251۔