الحاد و زندقہ کی تحریک

عباسی خلیفہالمہدی کے دور حکومت میں عالم اسلام میں اٹھنے والا ایک فتنہ۔ الحاد کے لغوی معنی سیدھے راستے سے کترا جانا۔ دین سے پھرجانا اورملحد ہوجانا ہے۔ اسی طرح لفظ زند ایرانی آتش پرستوں مجوسیوں کی مذہبی کتاب کا نام ہے جس کا بانی زرتشت تھا۔ اصطلاحی معنوں میں الحاد و زندقہ کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جو دین اسلام سے پھر جائیں اور راہ صواب سے ہٹ جائیں۔ تاریخی طور پر اس کا تعلق خلیفہ مہدی کے دور میں چلنے والی اس خلاف اسلام تحریک سے ہے جو ایرانی مجوسیوں کے ایسے لوگوں پر مشتمل تھی جنھوں نے بظاہر اسلام قبول کر لیا تھا لیکن ایرانی قوم پرستی کے جذبہ سے مغلوب ہو کر یا بے دین فلسفیوں کی کج روی اور تشکیک پر مبنی افکار و نظریات سے متاثر ہو کر ملحدانہ اور زندیقانہ نظریات کو قبول کر لیا تھا۔ وہ اب عربوں اور ان کے لائے ہوئے دین یعنی اسلام کو تنقید و تنقیض کا نشانہ بنا کر اسلامی معاشرہ کو اپنی حقیقی بنیادوں سے ہٹا کر ملحدوں اور زندیقوں کے خود ساختہ نظریات کے مطابق ڈھالنا چاہتے تھے۔ مہدی چونکہ راسخ الیقین خلیفہ تھا اس لیے اس نے اس تحریک کے خاتمہ اور بیخ کنی کی بھرپور کوشش کی۔

اسبابترميم

اس ملحدانہ تحریک کو پھیلانے کے کئی اسباب اور وجوہات تھیں۔ جن میں سے چند پر یہاں روشنی ڈالی جائے گی۔

عجمیوں کی عرب دشمنیترميم

عربوں اور ایرانیوں کے درمیان قبل از اسلام بھی تاریخی آویزش موجود تھی۔ ظہور اسلام کے بعد دین شرق و غرب میں بڑی تیزی سے پھیلا۔ عربی و عجمی بڑی تعداد میں اسلام سے منسلک ہوئے۔ مجوسی ایران اسلامی یلغار کا مقابلہ نہ کر سکا۔ اور اسے اسلامی خلافت کا حصہ بننا پڑا۔ ایرانیوں کاجذبہ افتخار قومی تاریخی مسلمات میں سے ہے۔ یہ ایرانی مجوسی اسلام لانے کے باوجود اپنے اآپ کو اپنے ماضی سے کلیتا الگ نہ کر سکے۔ چنانچہ خلافت راشدہ کے زمانہ میں ابن سباء بظاہر مسلمان ہونے کے باوجود درپردہ ایرانی یہودی ہی رہا۔ مسلمانوں میں سب سے پہلا فتنہ اسی شخص کی سازشوں کی بدولت پروان چڑھا اور عجمی و عربی آویزش کے بیج بوئے گئے۔ فیروز لولو بھی ایرانی نژاد مجوسی تھا۔

ایرانی قوم پرستی کے جذباتترميم

بنو امیہ کے دور میں یہ آویزش باقاعدہ شکل اختیار کر گئی۔ عرب مسلمان حکمران عجمیوں اور ایرانیوں کے اسی سابقہ مشکوک طرز عمل کی بنا پر انہیں اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنے میں بڑی احتیاط سے کرتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی کے عہد ہائے حکومت میں بھی ان لوگوں نے فتنہ و فساد کا بازار گرم رکھا۔ عباسی تحریک میں ایرانی قوم پرستوں کی اکثریت شامل تھی۔ یہ اسلامی عقائد و نظریات میں اس قدر پختہ نہ تھے چنانچہ جونہی ان شعوبیو یعنی ایرانی قوم پرستوں کو عباسی خلافت کے دوران اقتدار حاصل وہ تو ان کی دیرینہ تمنائیں بر آئیں اور انہوں نے بالخصوص خلیفہ مہدی کے زمانے میں مسلم معاشرہ کی دینی بنیادوں اور اسلامی نظریات کی اساس اور اس کے عربی پس منظر کو مٹانے کے لیے الحاد و زندقہ کی تحریک پھیلانے میں بڑی سرگرمی دکھائی۔

عجمی وزرا اور اراکین حکومت کی سرپرستیترميم

عباسی خلافت کے عجمی وزراء، اہل دربار بر سر اقتدار مجوسی و ایرانی طبقہ نے عوامی سطح پر الحاد زندقہ کا فتنہ پھیلانے کی کوشش کی اور سرکاری سرپرستی میں اسلام کی تضحیک کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

اخلاقی قدروں کی پامالیترميم

العلاء معری نے اس دور کے نامور عجمیوں مثلا بشار بن برد ۔ابو نواس اورابو مسلم خراسانی کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ نظریات کے لحاظ سے زندیق تھے اور الحاد زندقہ کی تحریک کی زبرسدت پشت پناہی انہیں حاصل تھی۔ الجاحظ کے نزدیک یہ تحریک محض عقائد تک محدود نہ تھی بلکہ اباحت پسندی اس کا مطلوب تھا اور اخلاقی حدود سے آزادی اس کا بنیادی مقصد تھا۔ ابن عبد ربہ کے بقول عوام میں یہ بات عام طور پر معروف تھی کہ شراب، زنا اور رشوت زندقے کے لوازمات تھے۔ اپنے گھناونے عزائم اور فاسد خیالات کو عام کرنے کے لیے وہ دین و دینی معاملات میں ہر طرح کی تاویل کو جائز سمجھتے تھے۔ دوسرے الفاظ میں وہ اپنے ان گندے خیالات ہی کو اصل دین قرار دے کر لوگوں میں مروج کرنے کے لیے کوشاں تھے۔

مانی و مزدک کے خیالات کا احیاءترميم

ان ملحدوں اور زندیقوں میں ایک گروہ ایسا تھا جو اسلامی حکومت کی موجودگی میں اسلامی معاشرہ کی بنیادوں کو منہدم کرنے اور اس کی جگہ مانی، زرتشت اور مزدک کے کافرانہ اور اشتراکی نظریات کے احیاء کے لیے کوشاں تھا۔ مزدک کے نظریات جو اشتمالیت پر مبنی تھے موجودہ اشتراکیت سے کہیں زیادہ برے تھے۔ اس کے نزدیک زر، زن، زمین سب انسانوں کی مشترکہ ملکیت تھیں۔ لہذا رشتہ ازدواج ان کے نزدیک ایک بے معنی شغل تھا۔ بہن، بھائی، زن و شوہر وغیرہ جیسے پاکیزہ رشتوں کو ان کے نزدیک کوئی تقدس حاصل نہ تھا۔ مرد بیک وقت کئی ایک عورتوں سے اور عورتیں بیک وقت کئی ایک مردوں سے جنسی تعلقات رکھ سکتی تھیں۔

قوم پرست شعرا و ادبا کی کوششیںترميم

بنو عباس کے عہد میں شعوبیوں اور مجوسیوں کے بڑے بڑے شعرا اور ادبا پیدا ہوئے جو الحاد و زندقہ کے زبردست موید تھے۔ انہوں نے بڑی بڑی کتب تحریر کرکے عربوں اور اسلام کی مذمت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ شعر و شاعری اور ادبیات کے نام پر ان لوگوں نے اپنے مشاہر کے گن گانے شروع کر دیے۔ علم و ادب کے پردے میں بے حیائی، فسق و فجور، بے پردگی۔ زنا اور شراب نوشی کو رواج دینے کی مہم چلائی گئی اور اللہ تعالٰیٰ کی قائم کردہ حدود کا مذاق اڑایا جانے لگا۔ شاہنامہ فردوسی جو فارسی رزمیہ ادب کا شاہکار سمجھا جاتا ہے عرب اور اسلام دشمنی کی واضح دلیل ہے۔ اس مجموعہ میں فردوسی طوسی نے شعوبیوں کی پیروی کرتے ہوئے عربی زبان کے دو اڑھائی فیصد الفاظ بھی استعمال نہ کیے۔ عربی الفاظ اور لغت سے قصداً گریز کیا گیا عجمی جنگوں میں رستم و اسفندیار کے مقابلہ میں کسی صحابی رسول کا ذکر تک اس نے گوارا نہ کیا۔ اور جب شاہنامہ مکمل ہوا تو بڑے فخریہ انداز میں اس نے دعوی کیا کہ میں نے شاہنامہ کی تدوین میں جو تیس سال دکھ اٹھائے اس سے میں نے عجم کو زندہ کر دیا۔

قرآن و حدیث کی من گھڑت تاویلاتترميم

ان نو مسلم مجوسیوں نے عربی ادب کی مذمت ہی نہیں کی بلکہ قرآن کریم کی من مانی تاویلات کرکے ذخیرہ احادیث کے مقابلہ میں ہزاروں من گھڑت جھوٹی حدیثیں لکھ کر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر دیا۔ ایسے ہی ایک زندیق ابن ابی العوجار نے گرفتار ہونے کے بعد اقرار کی کہ اکیلے اس نے چار ہزار جعلی احادیث وضع کیں۔ کوفہ کے گورنر نے اسے اس جرم میں سزائے موت دی اور ایک شخص یونس بن ابی فردہ نے اسلام اور عرب کی مذمت میں ایک کتاب لکھ کر عیسائیوں کے قیصر روم کو پیش کرکے انعام و اکرام پایا۔ ان حالات میں خیلفہ مہدی کو ملحدوں اور زندیقوں کے خلاف جہاد کرنا پڑا۔

مہمرہ سرخ پوشوں کی کوششیںترميم

جرجان کا علاقہ زندیقوں کی سرگرمیوں کاخصوصی مرکز بن چکا تھا۔ یہ لوگ بھی ملحدوں کی طرح اخلاقی بے راہ روی۔ اخلاق باختگی شراب و زنا اور ہر طرح کی انارکی پھیلانے کے مشتاق تھے۔ وہ الام اور اہل اسلام سے نفور تھے۔ وہ دراصل مزدک کے قائک تھے اور اس کے ملحدانہ اشتمالی و اشتراکی نظریات پر مبنی معاشرہ کی تخلیق کے لیے کوشاں تھے۔ یہ لوگ اپنی شناخت کے لیے سرخ لباس پہنتے تھے اس لیے مہمرہ کہلاتے تھے۔ یہ لوگ مادر پدر آزادی اور زر، زن زمین کی اجتماعی ملکیت کے قائل تھے۔ وہ نکاح کے جواز کو بھی تسلیم نہ کرتے تھے۔ رشتوں کا تقدس ان کے نزدیک فضول روایت تھی وہ مرد و زن کے آزادنہ اختلاط اور میل ملاپ کے قائل تھے۔ حرام و حلال کی تمیز ان کے نزدیک ضروری نہ تھی۔ مہدی نے بجا طور پر ان کی بیخ کنی کے لیے پورسی ریاستی قوت استعمال کی اور ان کا مکمل صفایا کرنے میں کامیاب رہا۔

الحاد و زندقہ کا استیصالترميم

خلیفہ مہدی نے اس فرقے کے خلاف مختلف اقدامات اٹھائے۔ مہدی نے علما سے درخواست کی کہ وہ اسلامی عقائد و نظریات کے دفاع اور فروغ اور ملحدوں و زندیقوں کے قلع قمع کے لیے اپنے علم اور فقاہت کو بروئے کار لائیں اور ان دین و ایمان کے رہزنوں کا مدلل جواب دیں چنانچہ علما و صلحائے وقت نے ملحدوں اور زندیقوں کے فتنہ اور ان کے فاسد نظریات کے بطلان کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کر دیں۔ انہوں چھوٹے چھوٹے رسائل اور کتب لکھ کر نیز اپنے مواعظہ حسنہ کے ذریعے معاشرہ میں ٹھہراو پیدا کرکے اس فتنہ کا استیصال کیا۔ اس کے علاوہ مہدی نے ان ملحدوں کے محاسبہ کے لیے ایک مستقل احتساب کا محمکمہ ائم کیا۔ یہ محکمہ ایسے مشتبہ اور مجرم ذہن کے لوگوں پر مسلسل کڑی نگاہ رکھتا اور انہیں بروقت سزائیں دیتا۔ یہ سب کچھ اس لیے ضروری تھا کہ اسلام میں ارتداد کی سزا کا باقاعدہ تلقین ہے۔ بعض لوگوں کو خود مہدی گرفتار کرکے سزائے موت دیتا۔ وہ اس بارے میں بہت چوکنا تھا اور ملک کے اساسی نظریہ اسلام سے انحراف یا غداری کی کوئی صورت اس کے لیے قابل قبول نہ تھی۔ اس لیے بروقت اقدامات کی بدولت الحاد و زندقہ کے پیروکار اور قائدین محتاط ہو گئے اور بالآخر فتنہ مکمل طور پر اپنی موت آپ مرگیا۔

خلیفہ مہدی کو اس فتنہ عظیمہ کے اثرات بد کا اس قدر احساس تھا کہ اس کا اندازہ اس کی وصیت سے لگایا جاسکتا ہے۔ جس میں اپنے جانشین کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر کرتا ہے کہ:

اگر یہ حکومت میرے بعد تمہارے ہاتھ میں آئے تو مانی کے پیروکاروں کا استیصال کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھ۔ ا یہ لوگ اولاً عوام کو ظاہراً بھلایوں کی طرف بلاتے ہیں مثلاً فواحش سے اجتناب، دنیا میں زہد و آخرت کے لیے عمل کی تلقین کرتے ہوئے لوگوں کو یہ تاکید کرتے ہیں کہ وہ گوشت نہ کھائیں اور پانی کے نزدیک نہ بھٹکیں اور کسی جانور کو ہلاک نہ کریں۔ پھر انہیں ایک خدا کی بجائے دو خداؤں پر ایمان کی طرف لے جاتے ہیں اور آخر کار بہنوں اور بیٹیوں سے نکاح جائز۔ پیشاب سے غسل حلال قرار دیتے ہیں اور بچوں کو اغواء کرتے ہیں تاکہ انہیں ضلالت پر پرورش کر سکیں۔

یوں مختلف اقدامات کی وجہ سے مہدی اس فتنے پر قابو پانے میں کامیاب رہا اور اپنے آنے والی نسلوں کو بھی اس فتنے کے استیصال کی تلقین کی۔