مزدک (میانہ فارسی: ) (وفات تقریباً 524ء یا 528ء) ایک فارسی فلسفی تھا جو نیشاپور کا رہنے والا تھا پہلے زرتشتیت کا موبد تھا بعد میں اپنا مذہب ایجاد کیا۔مزدکیت کے زمانہ بعد بھی کچھ مزدکی زندہ رہے اور دور دراز علاقوں میں آباد ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ مسلم فتح کے بعد ان کے عقائد شاید شاید شیعہ اسلام کے انتہا پسند فرقوں کے ساتھ مل کر، ان پر اثر ڈالتے ہیں اور خطے میں بعد میں طاقتور انقلابی مذہبی تحریکوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ امام مقنع کا گروہ، جس نے خدا کا اوتار ہونے کادعوی کیا اور شیعہ کے مغربیہ فرقہ اور حدیث میں بھی پیروکاروں اور یہاں تک کہ کچھ ترک بھی تھے نے مزدک کے قوانین اور اداروں کو برقرار رکھا۔ 9 ویں صدی میں، خرمین، ممکنہ طور پر مزدکیت سے پیدا ہونے والے ایک مذہبی شیعہ فرقے نے، عباسی خلافت کے خلاف بابک خرمامیکی قیادت میں ایک بغاوت کیاور کچھ بیس سال تک خلافت کی افواج کے خلاف بڑی حدود کا دفاع کیا۔ دیگر کئی شیعہ عقائد بھی مزدکیت سے منسلک ہیں اور اکثر معاصر مصنفین نے اس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ 16 ویں صدی کے قزلباش اور فارس میں ایک شیعہ تحریک جس نے صفویوں کو حکمران اور شیعیت کو ایران کے مضبوط مذہب کے طور پر قائم کیا ۔ ”خرمین کے روحانی نسل“اور اسی وجہ سے، مزدکیوں کے نظریات سے متاثر جس نے عربوں کے خلاف ایران کو عجمیت کے نعرے پہ متحد کیا۔شیعہ عقائد میں زیادہ تر مزدکیت کے آثار اور جھلکیاں نظر آئیں گی، ابو مسلم خراسانی بھی مزدکیت کا ہی پیروکار تھا۔

مزدک
شاہنامہ میں موجود مزدک کی سزا و پھانسی کا منظر۔

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 5ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 529ء (78–79 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاد زرتشت خرگان   ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فلسفی ،  سیاست دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مزدک کا فلسفہ

ترمیم

تمام انسان مساوی ہیں کسی کو کسی پر کوئی فوقیت نہیں، ہر وہ چیز جو ایک انسان کو دوسرے انسان سے بالا تر کر دے وہ اس قابل ہے کہ اسے مٹا کر رکھ دیا جائے مزدک نے کہا کہ دو چیزیں ہیں جو انسان کے درمیان میں ناجائز امتیازات کی دیواریں چنتی ہیں جائداد اور عورت کسی جائداد پر کسی کا حق ملکیت نہیں اور نہ کوئی عورت کسی ایک شخص سے نکاح کا حق رکھتی ہے تمام لوگوں کو جائداد سے فائدہ اٹھانے اور عورت سے لطف اندوز ہونے کا حق ہے۔ اس وجہ سے لوگ اس کی تحریک کا حصہ بنے۔ جب کیقباد کسریٰ مزدک کے دام تزویر میں آ گیا جب حکومتی سرپرستی حاصل ہوئی تو مزدک ایک آدمی کی بیوی دوسرے کے حوالے کر دیتا اسی طرح مال، کنیزیں،غلام اور زرعی زمینیں لوگوں میں بانٹتا اس کی بے حیائی کی انتہا یہاں پر پہنچی کہ کیقباد کو اس کی بیوی کے متعلق کہا کہ یہ میرے ساتھ رات گزارے گی کیقباد نے بھی اسے قبول کیا یہ نوشیرواں کی ماں تھی جس نے منت سماجت اور اور مال و دولت کے بدلے آبرو ریزی سے ایران کی مادر ملکہ کو بچایا۔ کیقباد کے مرنے کے بعد نوشیروان نے مزدک کو قتل کرا دیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی بیٹا اپنے باپ اور باپ اپنے بیٹے کو نہ پہچانتا تھا۔حیوان کو ذبح کرنا حرام قرار دیا گیا صرف زمین کی نباتات اور حیوانات سے حاصل شدہ چیزیں(دودھ، گھی وغیرہ)استعمال کی اجازت تھی [1]

مزدکیت

ترمیم

ایران کے رہنے والے مزدک اور مانی لوگوں کا مذہب یہ ہے کہ عورت ایک مشترکہ متاع ہے لہٰذا ہر عورت کو ہر شخص استعمال کر سکتا ہے اس میں نکاح کی حدود وقیود کی ضرورت نہیں۔ ان میں ماں بہن بیٹی وغیرہ کا بھی کوئی امتیاز نہیں، عورت صرف عورت ہے اور ہر آدمی کی شہوت رانی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔[2]یہی لفظ مزدکیت اشتراکیت یا کمیونزم کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔مزدک نے سب سے پہلے دولت اور وسائل کی یکساں تقسیم کا فلسفہ دیا تھا۔ اسی نسبت سے اشتراکیت کو مزدکیت بھی کہتے ہیں۔علام اقبال نے مثال دی- مزدکیت فتنہ فردا نہیں اسلام ہے (اقبال کی نظم ابلیس کی مجلس شوریٰ کا مصرع)[3]

حوالہ جات

ترمیم
  1. ضیاءالنبی جلد اول صفحہ 89 پیر محمد کرم شاہ ،ضیاء القرآن بپلیکیشنز لاہور
  2. تفسیر معالم العرفان۔ مولانا صوفی عبد الحمید سواتی
  3. ارمغان حجاز صفحہ17