المستعصم باللہ

سینتیسویں اور آخری عباسی خلیفہ

ابواحمد المستعصم باللہ عبد اللہ بن منصور المستنصر (1213–1258) آخری عباسی خلیفہ تھے جن کے دور میں منگول وحشی بغداد پر حملہ آور ہوئے اور اسے تباہ و برباد کیا۔ ان کو قالین میں لیپیٹ کر گھوڑوں کی سموں سے ہلاک کیا گیا کیونکہ توہم پرست منگولوں کو باور کرایا گیا تھا کہ اگر خلیفہ کا خون دوران میں ہلاکت زمین پر گرا تو رنگ لائے بغیر نہیں رہے گا۔

المستعصم باللہ أبو أحمد عبد اللہ بن المستنصر باللہ
خلیفۃ الاسلام خلافت عباسیہ، بغداد
امیر المومنین
Dinar Abbasside - al-Musta'sim bi-llah - 641 AH.jpg
المستعصم باللہ کے زمانہ خلافت میں ضرب کیا جانے والا عباسی دینار- زمانہ 641ھ/ 1243ء
خلافت عباسیہ کا سینتیسواں خلیفہ-
بغداد میں خلافت عباسیہ کا آخری خلیفہ
5 دسمبر 1242ء20 فروری 1258ء
(15 سال 2 ماہ 15 دن شمسی)
پیشروالمستنصر باللہ
جانشینبغداد میں عباسی خلفاء کا انقطاع
احمد المستنصر باللہ الثانی قاہرہ میں
ملکہقرۃ العین
والدالمستنصر باللہ
پیدائش610ھ/ 1213ء
وفاتبدھ 14 صفر 656ھ/ 20 فروری 1258ء
(عمر: 45 سال شمسی)
مذہبسنی اسلام

ان کا سولہ سالہ دور خلافت (1244ء-1258ء) زیادہ تر عیش وعشرت اور غفلت میں گذرا۔ انہیں منگول یلغار اور ان کے ہاتھوں اسلام کی بیخ کنی کا بالکل ادراک نہ ہو سکا۔ حتیٰ کہ ان کا وزیر ابن العلقلمی ان کے پہلو میں بیٹھ کر منگولوں سے خط کتابت کرتا رہا اور انھیں بغداد پر حملہ کرنے کی ترغیب دیتا رہا۔

چھوٹی شاخ بنو ہاشم
پیدائش: 1213ء وفات: 20 فروری 1258ء
مناصب سنت
ماقبل  خلیفہ اسلام
5 دسمبر 1242ء20 فروری 1258ء
مابعد