ایمی اعزاز امریکا کا ایک ایسا اانعام ہے جو ٹی وی پروڈکشنز کو دیا جاتا ہے۔ ایمی ٹی وی کی دنیا کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ اس کا مقابلہ فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں کے سب سے بڑے اعزازات کے ساتھ کیا جا سکتا ہے جیسے فلم کے لیے سب سے بڑا اعزاز اکیڈیمی اعزاز (آسکر اعزاز )، تھیٹر کے لیے ٹونی اعزاز اور موسیقی کے لیے گریمی اعزاز ہے۔

ایمی اعزاز
اعزاز برائےExcellence in the television industry
ملکریاستہائے متحدہ امریکا
پیش کردہATAS/NATAS/IATAS
سال اجراجنوری 25، 1949؛ 71 سال قبل (1949-01-25)
باضابطہ ویب سائٹATAS Official Emmy website
NATAS Official Emmy website
IATAS Official Emmy website

چونکہ ایمی امریکی ٹیلی ویژن کے مخلتف شعبوں کا احاطہ کرتا ہے لہذا تقریباََ پورا سال انعامات کی تقسیم کی مختلف تقاریب منعقد ہوتی ہیں لیکن سب سے زیادہ اہمیت پرائم ٹائم ایمی (Primetime Emmys) اور ڈے ٹائم ایمی (Daytime Emmys) کو دی جاتی ہے، جس میں شام اور دن کے بہترین پروگراموں کو انعامات کو دیے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ میں، کھیلوں سے متعلق پروگرام، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی پروگراموں، دستاویزی فلموں اور کئی علاقائی پروگراموں کے لیے خصوصی ایمی اعزاز ہیں

ایمی کے انعامات کی تقسیم تین خود مختار تنظیوں، ٹیلی اکیڈیمی آف ویژن آرٹس اینڈ سائنسز کی اکیڈمی (ATAS)، نیشنل اکیڈیمی آف ٹیلی ویژن آرٹس اینڈ سائنسز (NATAS) اور انٹرنیشنل اکیڈیمی آف ٹیلی ویژن آرٹس اینڈ سائنسز کے ذمہ ہے۔

تاریخترميم

ایمی اعزاز کا آغاز 25 جنوری 1949ء میں امریکا کے شہر لاس اینجلس میں ہوا۔ جس کا انعقاد ٹیلی ویژن آرٹس اینڈ سائنسز کی اکیڈمی (ATAS) نے لاس اینجلس اتھلیٹ کلب میں کیا۔ اس انعام کا بنیادی مقصد لاس اینجلس میں بنے والے پروگراموں کی حوصلہ افزائی کرنا تھی۔ 1950ء میں نیشنل اکیڈیمی آف ٹیلی ویژن آرٹس اینڈ سائنسز (NATAS) کا قیام عمل میں آیا، جس نے اس اعزاز کو ملکی سطح پر پہنچایا اور پورے امریکا کے پروگراموں کو ان انعامات کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ شروع میں ایمی اعزاز کی ایک ہی تقریب ہوا کرتی تھی جس میں پورے ملک کے بہترین پروگراموں کو نوازا جاتا تھا لیکن 1974ء میں ڈے ٹائم ایمی کے شروع ہونے سے سلسلہ تبدیل ہو گیا۔ اس کے جلد بعد ہی عالمی ٹی وی کے پروگراموں کو بھی انعامات دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

پاکستانی ایمیترميم

پاکستان کی شرمین عبید چنائے نے پاکستان کے لیے پہلا اور ابھی تک آخری ایمی جیتا ہے۔ شرمین کے علاوہ پاکستانی نژاد نارویجندیا خان بھی 2012ء کا ایمی اعزاز جیت چکی ہیں

بیرونی روابطترميم