خودکار نقد شماری آلہ یا اے ٹی ایم آٹومیٹڈ ٹیلر مشین (Automated teller machine / ATM) جسے خودکار زر شماری آلہ اور نقدی آلہ (cash machine) بھی کہا جاتا ہے، ایک شمارندی مواصلاتی اختراع ہے جو کسی مالیاتی ادارے (financial institution) کے عملا کو تحویلدار (cashier)، منشی (clerk) یا نقد شمار (bank teller) کی ضرورت کے بغیر عوامی جگہوں پر مالیاتی معاملات (financial transactions) تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ اِس کو بعض اوقات خودکار بینکاری آلہ (automatic banking machine) بھی کہا جاتا ہے۔

ایک امریکی ساخت کا خود نقد شماری آلہ

دنیا کی پہلی اے ٹی ایم 27 جون 1967 میں لندن کے علاقے این فيلڈ میں باركلیز بینک کی ایک شاخ میں لگائی گئی تھی۔

اے ٹی ایم کی گولڈن جوبلی کے موقع پر جون 2017 میں باركلیز بینک نے اس پہلی مشین کو سونے کی مشین میں تبدیل کر دیا۔

دنیا کی بلند ترین اے ٹی ایم سطح سمندر سے 4600 میٹر یعنی 15000 سے زائد فٹ کی بلندی پر لگائی گئی ہے۔ یہ مشین پاک چین سرحد پر واقع گلگت بلتستان کے علاقے خنجراب کے زیرو پوائنٹ پر نصب ہے۔ جو پاکستان کے سرکاری بینک نیشنل بینک آف پاکستان نے نصب کی تھی۔

پاکستان کے قومی بینک کی بلند ترین اے ٹی ایم کی تنصیب سے قبل دنیا کی بلند ترین اے ٹی ایم کا ریکارڈ بھارت کے یو ٹی آئی بینک کو حاصل تھا جس نے بھارتی ریاست سکم میں 14300 فٹ کی بلندی پر اے ٹی ایم مشین نصب کی تھی، ریاست سکم کی سرحد بھی چین سے ملتی ہے۔

نگار خانہ

ترمیم

نیز دیکھیے

ترمیم