مرکزی مینیو کھولیں

لندن، برطانیہ کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔[8] تقریباًً دو ہزار سال پرانی آبادی، جس کے تاریخی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی بنیاد قدیم رومیوں نے رکھی تھی۔[9] اس آبادی کے قیام سے آج تک لندن بہت سے تحریکوں اور عالمگیر واقعات کا مظہر رہا ہے، جس میں انگریزی کا ارتقا، صنعتی انقلاب اور قدیم رومیوں کا احیاء بھی شامل ہیں۔[10] مرکزِ شہر اب بھی وہی قدیم شہرِ لندن ہے، جس میں اب بھی قرون وسطٰی کی حدود نظر آتی ہیں، تاہم کم از کم اُنیسویں صدی سے نام “لندن“، اُن تمام علاقوں تک پھیل گیا، جو اس کے اطراف و اکناف میں آباد ہوئے تھے۔[11] اور آج آبادیوں کا یہ ہجوم لندن، برطانیہ کے علاقوں[12] اور عظیم لندن کے انتظامی علاقے [13] اور مقامی طور پر منتخب ناظم اور لندن دستور ساز مجلس کا حامل ہے۔[14] لندن دنیا کے ممتاز تجارتی، معاشی اور ثقافتی مراکز میں سے ایک ہے[15] اور دنیا بھر کی سیاسی، تعلیمی، تفریحی، صحافتی، فیشن اور فنون لطیفہ اس کے گہرے اثرات، اس کے بین الاقوامی شہر ہونے کے شاہد ہیں۔[16] لندن چار یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ کا حامل ہے: ویسٹمنسٹر محل اور کلیسائے ویسٹمنسٹر، کلیسائے سینٹ مارگریٹ، لندن بُرج، گرینچ کی تاریخی آبادی اور شاہی نباتیاتی باغیچہ، کیو۔[17] یہ شہر اندرون ملک و بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔[18] لندن بہت سے قسم کے لوگ، مذاہب اور ثقافتوں کا گہوارہ ہے، اس شہر میں تین سو سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔[19]2006ء کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہاں کی آبادی 75,12,400 ہے جو عظیم لندن کی حدود میں ہے۔[20] یہ آبادی کے لحاظ سے یورپی اتحاد کا سب سے بڑا شہر ہے۔[21] سن 2001ء کے اعداد و شمار کے مطابق لندن کے شہری علاقوں کی آبادی 82,78,251 [22] جبکہ میٹروپولیٹن علاقوں کی آبادی ایک کڑور بیس لاکھ سے ایک کڑور چالیس لاکھ کے لگ بھگ تھی۔[23][24]

لندن
London
مملکت متحدہ اور انگلستان کا دار الحکومت
Heron TowerTower 4230 St Mary AxeLeadenhall BuildingWillis BuildingLloyds Buildingکینری وارف، لندن20 Fenchurch Streetلندن شہرلندن انڈرگراؤنڈبگ بینٹریفالگر اسکوائرلندن آئیٹاوربرجدریائے ٹیمزLondon montage. Clicking on an image in the picture causes the browser to load the appropriate article.
اس تصویر کے متعلق
اوپر سے گھڑی وار: لندن شہر پیش منظر میں مع کینری وارف دور پس منظر میں، ٹریفالگر اسکوائر، لندن آئی، ٹاوربرج اور لندن انڈرگراؤنڈ کی علامت بگ بین کے سامنے
لندن London is located in انگلستان
لندن London
لندن
London
لندن London is located in مملکت متحدہ
لندن London
لندن
London
لندن London is located in یورپ
لندن London
لندن
London
لندن London is located in زمین
لندن London
لندن
London
انگلستان میں مقام##مملکت متحدہ میں مقام##یورپ میں مقام##زمین پر مقام
متناسقات: 51°30′26″N 0°7′39″W / 51.50722°N 0.12750°W / 51.50722; -0.12750متناسقات: 51°30′26″N 0°7′39″W / 51.50722°N 0.12750°W / 51.50722; -0.12750
خود مختار ریاست مملکت متحدہ
ملک انگلستان
علاقہ لندن عظمیٰ
آباد از رومی سلطنت 47 عیسوی[1]
بطور لوندینیوم
کاؤنٹی لندن شہر اور لندن عظمیٰ
اضلاع لندن شہر اور 32 برو
حکومت
 • قسم ذمہ دار اتھارٹی
 • جسم گریٹر لندن اتھارٹی
 • منتخب ادارہ لندن اسمبلی
 • میئر صادق خان (لیبر پارٹی)
 • لندن اسمبلی 14 حلقہ جات
 • مملکت متحدہ پارلیمان 73 حلقہ جات
 • یورپی پارلیمان لندن
رقبہ
 • لندن عظمیٰ 1,572 کلو میٹر2 (607 مربع میل)
 • شہری 1,737.9 کلو میٹر2 (671.0 مربع میل)
 • میٹرو 8,382 کلو میٹر2 (3,236 مربع میل)
بلندی[2] 11 میل (36 فٹ)
آبادی (2017)[4]
 • لندن عظمیٰ 8,825,000
 • کثافت 5,590/کلو میٹر2 (14,500/مربع میل)
 • شہری 9,787,426
 • میٹرو 14,040,163[3]
نام آبادی لنڈنر
کاکنی (مکالماتی)
جی وی اے (2016)[5]
 • کل پاؤنڈ اسٹرلنگ396 بلین (امریکی ڈالر531 بلین)[6]
 • فی کس پاؤنڈ اسٹرلنگ45,046 (امریکی ڈالر60,394)[7]
منطقۂ وقت گرینوچ معیاری وقت (UTC)
 • گرما (گرمائی وقت) برطانوی موسم گرما وقت (UTC+1)
ڈاک رمز علاقے
ٹیلی فون کوڈ
پولیس لندن شہر پولیس اور میٹروپولیٹن پولیس
بین الاقوامی ہوائی اڈے ہیتھرو (ایل ایچ آر)
سٹی (ایل سی وائی)
لندن عظمی سے باہر:
گیٹوک (ایل جی ڈبلیوو)
اسٹینسٹیڈ (ایس ٹی این)
لوٹن (ایل ٹی این)
ساوتھ اینڈ (ایس ای این)
GeoTLD ۔london
ویب سائٹ london.gov.uk

تاریخترميم

 
1300ء کا لندن، قرونِ وسطٰی کی حدود نمایاں ہیں۔

لفظ لندن کا اشتقاقی مفہوم ہنوز صیغہء راز میں ہے۔ ابتدائی اشتقاقی وضاحتوں کو جیوفرے آف منماؤتھ برطانیہ کی قبل از تاریخ سے جوڑا جاتاہے۔ ایک قیاس یہ بھی ہے کہ یہ نام اسے اس وقت کے برطانوی بادشاہ لد کی بدولت ملا، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اُس نے لندن پر قبضہ کر لیا اور اسے کیرلد کے نام سے موسوم کیا، کیرلد وقت کے ساتھ ساتھ کیرلدن اور پھر آخر کار لندن ہو گیا۔ اس سلسلے میں اور بھی کئی قیاس آرائیاں ہیں، جو گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں، جن میں سے زیادہ تر کے مطابق یہ نام ویلزی یا برطانوی لفظ سے اخذ کردہ ہے جبکہ بعض کے مطابق یہ متروک شدہ پرانی انگریزی حتٰی کے بعض کے مطابق یہ لفظ عبرانی سے اخذ شدہ ہے۔
انگريزوں كا دعوي ہے كہ قديم رومى دور ميں بهى لندن ايكـ سر گرم مركز تها ـ يہ چہوٹا سا گاؤں دريائے تهيمز كے كنارے اس طرح آباد كيا گيا كہ ايكـ طرف سے دريا اس كى حفاظت كرتا تها ـ تاريخ بتاتى ہے كہ جن دنوں عرب مسلمانوں كى تهذيب ہسپانیہ يعنى اسپین ميں عظمت كى بلنديوں كو چہو رهى تهى ـ ان دنوں لندن ايكـ چہوٹے سے گاؤں كى حثيت ركهتا تها ـ جهاں كى دلدلى اور بنجر زمين پر چند جہونپڑى نما مكانات اور كچى سڑكيں تهيں اور لوگ بهى ذيادہ تر وحشى اور غاروں كے باسى تہے ـ چناچہ جب انگريزوں كى فوج رچرڈ شير دل كى قيادت ميں صلاح الدین ایوبی سے صليبى جنگوں ميں مقابلہ كرنے گئى تو اس کی اكثريت كهالوں ميں ملبوس تهى اور مسلمان فوج كے لباس اور هتهيار ديكهـ كررچرڈ كے فوجى دنگ رہ گئے ـ 1258ء كے سقوط بغداد كے عظيم الميے كے بعد جب تەذيب كا سورج مغرب ميں طلوع ہوا تو يورپى اقوام نے اپنے شہر منظم كرنے شروع كئيے ـ يورپ ميں شہر بسانے كے لئيے پہلے كوئى يادگارمثلا فوارا يا گهنٹا گهر قسم كى چيز تعمير كر كے اس كے گرد ايكـ بهت بڑا گول چوراها بنايا جاتا تها۔ جس سے كچهـ فاصلے پر اردگرد گولائى ميں مكانات بننے شروع ہو جاتے تہے اور يوں شەر وجود ميں آجاتا تهاـ اس كے برعكس مشرق ميں پہلے ايكـ سيدها طويل بلكہ مستطيل بازار تعمير كيا جاتا ہے جس كے اردگرد مكانات تعمير كئے جاتے هيں ـ انگريزوں نے برصغير ميں جو شہر آباد كئے ان ميں اپنا انداز اپنايا چناچہ لائل پور موجودہ فیصل آباد اور گوجرانوالہ ميں یہی اُصول اپنایا گياـ اصل لندن بهى ايكـ فوارے كے گرد آباد ہے جس كا نام پكاڈلى سركس ہےـ اس فوارے پكاڈلى سركس كے چاروں طرف چهـ بازار نكلتے هيں جو آدھے آدھے ميل لمبے هيں، اصل شہر لندن كى بس یہى حدود هيں يعنى ایک ميل لمبا اور ایک ميل چوڑا ـ انگريزوں كى كالونياں ہونے كى وجہ سے جب دور دور كى دولت سمٹ كر لندن پہنچى تو چند ہزار كى آبادى سے يہ شہر لاكہوں كا شہر بن گيا اور لندن كے گرد مضافاتى بستياں بنائى گئيں اور انهيں مكمل شەروں كے اختيارات دئيے گئے چناچہ لندن شہر سے كہيں بڑے بارہ شہر لندن کے گرد 1940ء ميں آباد كئيے گئے ـ ان شہروں كو ہوم كاؤنٹى كا نام ديا گيا ـ برطانیہ بھر ميں ايسى كاؤنٹيوں كى تعداد 32 ہے، جن ميں سے بارہ لندن ميں ہیں ـ لندن شہر اور اس كى كاونٹيوں كا موجودہ كل رقبعہ 610 مربع میل ہے، جسے عظيم لندن كہا جاتا ہے ـ ایک محتاط اندازے كے مطابق روزانہ گيارہ سے بارہ لاكهـ افراد لندن ميں داخل ہوتے، گہومتے پهرتے ہیں اور شام كو واپس جاتے هيں اور ٹرانسپورٹ كے بەترين نظام سے فائدہ اٹهاتے هيں جو ہائى ويز سے لے كر ريل كے جديد نظام تكـ پهيلا ہوا ہے ـ لندن كے بین الاقوامی ہوائی اڈے ہیتھرو پرقريبا ساڑے چار كروڑمسافر سالانہ سفر كرتے هيں دنيا كى سب سے پەلى زير زمين ريل گاڑى1863ء ميں لندن ميں چلائى گئى ـ دوسرى جنگ عظيم ميں زير زمين ريل گاڑى كے نظام كو كافى نقصان پەنچا ـ اب اس كى پٹريوں كى كل لمبائى254 ميل ہے ـلندن كا كوئى مقام ايسا نەيں جو اس كى دسترس سے باہرہو ـ

حوالہ جاتترميم

  1. Number 1 Poultry (ONE 94)، Museum of London Archaeology, 2013۔ Archaeology Data Service, The University of York.
  2. "London weather map"۔ The Met Office۔ اصل سے جمع شدہ 26 اگست 2018 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 اگست 2018۔ 
  3. "Metropolitan Area Populations"۔ Eurostat۔ 16 نومبر 2017۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 نومبر 2017۔ 
  4. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ ons-pop-estimates نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  5. "Regional gross value added (income approach) – Office for National Statistics"۔ www.ons.gov.uk۔ 
  6. "XE: Convert GBP/USD. United Kingdom Pound to United States Dollar"۔ www.xe.com۔ 
  7. "XE: Convert GBP/USD. United Kingdom Pound to United States Dollar"۔ www.xe.com۔ 
  8. "سن 2006ء میں دنیا کے عظیم اور وسیع ترین شہری علاقے"۔ City Mayors.com۔ 
  9. "قدیم رومی سلطنت"۔ لندن کا عجائب گھر۔ 
  10. "قدیم رومی طرزِ تعمیر"۔ Ontario Architecture۔ اخذ کردہ بتاریخ 2008-05-06۔ 
  11. ڈیوڈ ملز (2001-02-22)۔ مقامات کے نام، لندن کی لغت۔ آکسفورڈپیپرز۔ آئی ایس بی این 978-0-19-280106-7۔ او سی ایل سی 45406491۔ 
  12. ملفِ حقیقت: لندن "سرکاری دفاتر برائے انگریزی علاقہ جات"۔ لندن کے سرکاری دفاتر۔ 
  13. ہاورڈ الکوک (1994)۔ مقامی حکومت: حکمتِ عملی و انتظام برائے مقامی حکومت۔ روڈلیج۔ صفحہ 368۔ آئی ایس بی این 0-415-10167-0۔ 
  14. بل جانز؛ ڈینس کوانگ، مائیکل موران، فلپ نورٹن (2007)۔ سیاستِ برطانیہ۔ پئیرسن ایجوکیشن۔ صفحہ 868۔ آئی ایس بی این 1-4058-2411-5۔ 
  15. "لندن بہ لحاظ سے بین الاقوامی معاشی مرکز" (PDF)۔ CityOfLondon۔ نومبر 2005۔ 
  16. * "دنیا کے شہروں کی فہرست"۔ جامعہء لوگبورو، برطانیہ۔ 
  17. "فہرستیں: عظیم برطانیہ کے متحدہ ممالک اور شمالی آئرلینڈ"۔ ثقافتِ دنیا۔ 
  18. "برطانونی روزگار میلہ;— بیرون ملک کا دورہ"۔ وائے ایکس بیرون ممالک روزگار۔ اصل سے جمع شدہ 2008-06-07 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 2008-06-07۔ 
  19. "برطانیہ کے لوگوں میں بولی جانے والی زبانیں"۔ CILT۔ اخذ کردہ بتاریخ 2008-06-06۔ 
  20. "منتخب عمر کے افراد کے گروہ، مقامی برطانون اربابِ اقتدار" (XLS)۔ دفتر برائے سرکاری اعداد و شمار۔ 
  21. "یورپی اتحاد کا سب سے بڑا شہر:2001 میں ستر لاکھ سے زائد مکین"۔ www.statistics.gov.uk۔ 
  22. "عمومی شہری آبادی:مردم شماری 2001 شہری علاقوں کے اعداد و شمار"۔ www.statistics.gov.uk۔ 
  23. "فرہنگ جغرافیہ"۔ دنیا کے میٹروپولیٹن علاقے۔ اصل سے جمع شدہ 2007-09-30 کو۔ 
  24. "لندن میٹرو پولیٹن علاقوں کی آبادی"۔ ناشر آبادتیاتی۔ 28 اگست 2007۔