°

برج ریکٹیفائر
Brueckengleichrichter IMGP5380.jpg
Diode bridge in various packages
Typeنیم موصل
InventedKarol Pollak in 1895
Electronic symbol
Diode bridge.svg
2 متبادل رو (AC) inputs converted into 2 راست رو (DC) outputs
چار ڈائیوڈ کو جوڑ کر بنایا گیا برج ریکٹیفائر۔ دونوں پیلے تاروں سے اے سی کرنٹ داخل ہوتا ہے جبکہ لال اور نیلے تاروں سے ڈی سی کرنٹ خارج ہوتا ہے۔ ڈائیوڈ پر موجود چاندی جیسی لکیر ڈائیوڈ کے مثبت (پوزیٹو) سرے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

برج ریکٹیفائر کو ڈائیوڈ برج بھی کہتے ہیں۔ یہ چار ڈائیوڈ کو مخصوص ترتیب سے جوڑ کر بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ عموماً بنا بنایا بھی دستاب ہوتا ہے جس کی چار ٹانگیں (pins) ہوتی ہیں۔ یہ اے سی (AC) کو ڈی سی (DC) بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ دو پِن سے آلٹرنیٹنگ کرنٹ (AC) برج ریکٹیفائر میں داخل ہوتا ہے۔ برج ریکٹیفائر کے اندر وہ ڈائریکٹ کرنٹ (DC) میں تبدیل ہوتا ہے اور بقیہ دو پِنوں سے باہر نکلتا ہے۔

برج ریکٹیفائر کا دوسرا اہم استعمال خود ڈی سی کے لیے ہوتا ہے۔ اے سی کے دونوں تار کسی بھی ترتیب میں لوڈ کے ساتھ لگائے جا سکتے ہیں۔ لیکن ڈی سی کے دو تاروں میں ایک پوزیٹو ار دوسرا نیگیٹو ہوتا ہے (یعنی ڈی سی میں پولارٹی ہوتی ہے)۔ اگر ڈی سی کے تار غلط لگ جائیں تو برقی آلات خراب ہو سکتے ہیں۔ لیکن برج ریکٹیفائر لگا دینے سے ڈی سی آلات غلط پولارٹی (polarity) کو خودبخود درست کر لیتے ہیں۔ گھر میں نصب ٹیلیفون کے تار اگر اُلٹے بھی لگ جائیں تو ٹیلیفون خراب نہیں ہوتا کیونکہ اس میں پہلے ہی سے برج ریکٹیفائر (ڈائیوڈ برج) موجود ہوتا ہے۔

مزید دیکھیےترميم