بورس فرانز بیکر (Boris Franz Becker) (پیدائش: 22 نومبر 1967ء، لیمن، جرمنی) جرمنی سے تعلق رکھنے والے سابق عالمی نمبر ایک ٹینس کھلاڑی تھے۔ وہ چھ مرتبہ گرینڈ سلام سنگلز کے فاتح اور ایک اولمپک طلائی تمغا یافتہ رہے اور 17 سال کی عمر میں ومبلڈن کے مردوں کے سنگلز جیت کر اس کی تاریخ کے کم عمر ترین فاتح بنے۔

بورس بیکر
Boris Becker - 2019102190927 2019-04-12 Radio Regenbogen Award 2019 - Sven - 1D X MK II - 0283 - B70I6481-2.jpg
 

شخصی معلومات
پیدائشی نام (جرمن میں: Boris Franz Becker ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 22 نومبر 1967 (53 سال)[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش شویتس
میونخ
ومبلڈن، لندن
زیورخ  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Germany.svg جرمنی  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قد 191 سنٹی میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2048) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وزن 85 کلو گرام  ویکی ڈیٹا پر (P2067) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استعمال ہاتھ دایاں (رائٹ ہینڈڈ)  ویکی ڈیٹا پر (P552) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
کل انعامی رقم 25080956 امریکی ڈالر  ویکی ڈیٹا پر (P2121) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ٹینس کھلاڑی[1][8]،  کاروباری شخصیت[8]،  شطرنج باز،  پوکر کھلاڑی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کھیل ٹینس  ویکی ڈیٹا پر (P641) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کھیل کا ملک Flag of Germany.svg جرمنی  ویکی ڈیٹا پر (P1532) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
بامبی ایوارڈ (1985)  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

جس وقت انہوں نے 17 سال 7 ماہ کی عمر میں ومبلڈن جیتا تھا، اس وقت یہ سب سے کم عمری میں کوئی بھی گرینڈ سلام جیتنے کا ریکارڈ تھا تاہم بعد ازاں اسے امریکہ کے مائیکل چینگ نے 17 سال 3 ماہ کی عمر میں فرنچ اوپن جیت کر توڑ دیا۔ اس طرح بورس بیکر صرف ومبلڈن کے کم عمر ترین فاتح رہ گئے۔

1987ء میں ڈیوس کپ میں بیکر اور جان میکنرو نے ٹینس کی تاریخ کے طویل ترین مقابلوں میں سے ایک مقابلہ کھیلا۔ بیکر نے 4-6، 15-13، 8-10، 6-2 اور 6-2 سے مقابلہ جیتا (اس وقت ڈیوس کپ میں ٹائی بریک نہیں ہوتے تھے)۔ یہ مقابلہ 6 گھنٹے اور 39 منٹ جاری رہا۔

آپ اپنے کیریئر میں 7 مرتبہ ومبلڈن کے حتمی مقابلے تک پہنچے جن میں سے تین میں فتح نے آپ کے قدم چومے جبکہ 4 مرتبہ آپ کو شکست ہوئی۔ ومبلڈن کے علاوہ آپ تین مزید گرینڈ سلام کے حتمی مقابلوں تک پہنچے اور تینوں میں فاتح قرار پائے۔ ان میں 1989ء کا یو ایس اوپن، 1991ء اور 1996ء کے آسٹریلین اوپن شامل ہیں۔ وہ کلے کورٹ بھی کبھی بھی کوئی سنگلز خطاب جیتنے میں ناکام رہے تاہم بیکر اور مائیکل اسٹچ کی جوڑی نے 1992ء کے بارسلونا اولمپکس میں کلے کورٹ پر سونے کا تمغا جیتا۔

آپ 12 ہفتوں تک عالمی نمبر ایک کھلاڑی رہے اور طویل عرصہ ایوان لینڈل اور اسٹیفن ایڈبرگ سے پیچھے دوسرے درجے پر فائز رہے۔

بیکر اپنے جذباتی پن کی وجہ سے بھی معروف تھے۔ جب برا کھیلتے تو خود پر بری طرح چیختے اور کبھی کبھار اپنا ریکٹ بھی زمین پر دے مارتے لیکن جان میکنرو کی طرح اُن کا یہ غصہ کبھی بھی حریف پر نہیں اترتا تھا۔ 2003ء میں انہوں نے اپنی سوانح حیات Augenblick, verweile doch (انگریزی: The Player) کے نام سے لکھی۔

  1. ^ ا ب مصنف: Bud Collins — عنوان : The Bud Collins History of Tennis — اشاعت دوم — صفحہ: 546 — ناشر: New Chapter Press — ISBN 978-0-942257-70-0
  2. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118813501 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  3. ڈسکوجس آرٹسٹ آئی ڈی: https://www.discogs.com/artist/2965427 — بنام: Boris Becker — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Boris-Becker — بنام: Boris Becker — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  5. بنام: Boris Becker — فلم پورٹل آئی ڈی: https://www.filmportal.de/ea38c46e53414cb5bb0d85840956214f — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000018208 — بنام: Boris Becker — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. https://brockhaus.de/ecs/julex/article/becker-boris — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. http://id.loc.gov/authorities/names/n2002116591.html