جامعۃ المنتظر یا حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر پاکستان کے شہر لاہور میں ساٹھ سال سے قائم پاکستان بھر میں اہل تشیع کی سب بڑی دینی درسگاہ ہے اس کی تاسیس 1954ء میں ہوئی۔ مولانا سید صفدر حسین نجفی مرحوم نے اپنے استاد حضرت مولانا اختر عباس نجفی کے ساتھ مل کر اس جامعہ کی بنیاد رکھی لوگوں کو اس کام کی طرف توجہ دلائی جناب الحاج شیخ محمد طفیل کو اس عظیم کام کے آغاز کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس وقت کے لاہور کے اہم علاقہ موچی دروازہ میں حسینہ ہال ایک سو روپے ماہوار کرایے پر حاصل کیا گیا۔ 1956ء میں ادارہ رجسٹرڈ کرایا گیا۔ 1958ء میں ایک عمارت محلہ داراشکوہ میں خریدی گئی مگر محکمہ اوقاف سے تنازع کی بنا پر استعمال میں نہ لائی جا سکی۔
دسمبر 1960ء میں دارالشریعہ وسن پورہ 32 ہزار روپے میں خریدا گیا۔ 1965 ء میں جامعۃ المنتظر کا ٹرسٹ تشکیل پایا۔ 1969 ء عالی جناب خان بہادر سید محمد حسین نقوی، حاجی شیخ غلام حسین اور جناب محمد عباس مرزا کی کاوشوں سے حسینی ٹرسٹ ماڈل ٹاؤن نے ایچ بلاک ماڈل ٹاؤن میں 21 کنال سے زائد رقبہ جامعۃ المنتظر کے لیے وقف کیا اس طرح دونوں ٹرسٹ، باہمی انضمام سے خدمت دین و تعلیمات اہل بیت علیہم السلام کی نشر و اشاعت کے لیے یکجا ہو گئے۔
خدائے تعالی کا جتنا بھی شکر کیا جائے وہ کم ہے الحمد اللہ حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور خدا تعالی کے فضل، محمد و آل محمد علیہ السلام کی برکت، وابستگان کی انتھک کوششوں اور جملہ مومنین کی دعاؤں سے اپنی علمی زندگی کے پچاس سال پورے کر چکا ہے، اس ساٹھ سالہ دور میں کچھ انقلاب بھی آئے نشیب و فراز کا سامنا بھی رہا۔ کبھی ملکی سربراہ خود یہاں تشریف لائے اور کبھی پولیس کو یہاں لوٹ مار اور دہشت پھیلانے کے لیے بھیج دیا۔ اچھے اور سنہری ایام کے ساتھ ساتھ سختیوں کے دور بھی آتے رہے۔ مگر یہ علمی مرکز اپنے علمی سفر کی جانب رواں دواں رہا۔ حتی کہ پچاسواں سنگ میل بھی عبورکرگیا۔ علم کی روشنی پھیلانا تو اس کا بنیادی ہدف تھا ہی مگر اس کے علاوہ اس ادارہ نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر قوم کی خدمت کی وہ کونسی مذہبی اور قومی تحریک تھی جس کو اس ادارہ سے مدد و رہنمائی حاصل نہیں ہوئی۔
ان ساٹھ سالوں میں جہاں اس حوزہ علمیہ نے ہزاروں کی تعداد میں علما اور مبلغین قوم کو فراہم کیے وہاں ساتھ ساتھ شیعہ مطالبات کمیٹی سے لے کر وفاق علماء شیعہ پاکستان تک۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان سے لے کر کالعدم تحریک جعفریہ پاکستان تک کالعدم اسلامی تحریک پاکستان سے لے کر جعفریہ کونسل تک جملہ اداروں کو وسیع بنیادیں فراہم کیں۔ امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ("آئی۔ ایس۔ او") اور امامیہ آرگنائزیشن (" آئی۔ او ") کے ضمن بھی اس کی خدمات کو بھلایا نہیں جا سکتا۔
حوزہ علمیہ جہاں ایک قومی یونیورسٹی ہے وہاں قوم کی امیدوں اور امنگوں کا مرکز بھی ہے۔ جب بھی کوئی مشکل مقام آیا ہے اس ادارہ نے مکمل رہنمائی کی ہے۔ اور اس کا تدارک کرنے کی سعی کی ہے۔
اسلامی انقلاب ایران کو مکمل طور پر پاکستان کی سطح تک بلکہ بیرون ملک بھی روشناس کرایا ہے۔ اس انقلاب کی برکتوں کے ذکر میں جامعۃ المنتظر اور اس کے متعلقین خصوصا ابوذر زمان حضرت آقائی سید صفدر حسین نجفی اعلی اللہ مقامہ، جو اس حوزہ علمیہ کے 35 سال تک پرنسپل رہے۔ کا نام ضرور آئے گا کیونکہ
اتنا کہاں بہار کی رنگینوں میں جوش
شامل کسی کا خون تمنا ضرور تھا
جہاں اس حوزہ علمیہ نے دیگر مراکز اور دینی مدارس کا اجرا کیا ہے وہاں اسلامی لٹریچر اور تظریات کو بھی عام کیا ہے۔ وہاں ساتھ ساتھ بھکر کنونشن سے لے کر اسلام آباد کے اجتماع تک کراچی کی شورش سے لے کر کوئٹہ کی گرفتاریوں تک ہنگو کے قتل عام سے لے کر سیالکوٹ کی شہادتوں تک جامعہ کی خدمات کو نہیں بھلایا جا سکتا۔
اس لیے یہ کہنے میں کوئی باک نہ ہو گا کہ گلگت کے پہاڑوں سے لے کر کرچی کے ساحلوں تک کوئٹہ کے سہاروں سے لے کر لاہور کے مرغزاروں تک جہاں جامعہ کے علم کی کرنیں پھوٹ پھوٹ پڑتی ہیں ساتھ ساتھ قومی خدمات کے ستارے بھی چمکتے نظر آتے ہیں دعا ہے کہ۔
اے خدا ایں جامعہ قائم بدار
فیض او جاری بود لیل و نہار

مزید دیکھیے

ترمیم