جاوید اختر (کرکٹ کھلاڑی)

جاوید اختر (پیدائش: 21 نومبر 1940ء دہلی، بھارت)|(انتقال: 8 جولائی 2016ء راولپنڈی) ایک پاکستانی کرکٹ کھلاڑی ہے۔[1] جنھوں نے پاکستان کی طرف سے 1 ٹیسٹ میچ کھیلا وہ ایک آف اسپنر تھے جس نے اول درجہ کی سطح پر کامیابی حاصل کرتے ہوِئے 18.17 کی اوسط سے اپنی وکٹیں لیں، لیکن اپنے واحد ٹیسٹ میں وکٹ لینے میں ناکام رہے۔

جاوید اختر
ذاتی معلومات
پیدائش21 نومبر 1940(1940-11-21)
دہلی, برطانوی ہند
(اب بھارت)
وفات8 جولائی 2016(2016-70-80) (عمر  75 سال)
راولپنڈی، پنجاب، پاکستان
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازیدائیں ہاتھ کا آف بریک گیند باز
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
واحد ٹیسٹ (کیپ 39)5 جولائی 1962  بمقابلہ  انگلینڈ
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ فرسٹ کلاس
میچ 1 51
رنز بنائے 4 835
بیٹنگ اوسط 4.00 15.75
100s/50s -/- -/-
ٹاپ اسکور 2 88
گیندیں کرائیں 96 9148
وکٹ - 187
بولنگ اوسط - 18.21
اننگز میں 5 وکٹ - 12
میچ میں 10 وکٹ - 3
بہترین بولنگ - 7/56
کیچ/سٹمپ -/- 38/-
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو، 12 جون 2017

ٹیسٹ کرکٹ میں موقع ملا مگر

ترمیم

جاوید اختر کو 21 سال کی عمر میں 1962ء کے سیزن میں انگلستان کے خلاف لیڈز کے میدان پر ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع ملا اس کو ایک اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ حسیب احسن کی غیر موجودگی میں پاکستان سے ایک طویل پرواز کے ذریعے انھیں انگلستان طلب کیا گیا تھا تاہم جاوید اختر کے لیے یہ یاد رکھنے والا میچ نہیں تھا کیونکہ وہ 52 رنز دینے کے باوجود وکٹ نہ لے سکے اور پاکستان ایک اننگز اور 117 رنز سے میچ ہار گیا۔

ایمپائرنگ کیریئر

ترمیم

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایمپائرنگ ان کی منتظر تھی اور انھوں نے 20 ٹیسٹ میچوں اور 51 ایک روزہ میچوں میں فیصلے صادر کِئے انھوں نے سیالکوٹ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ایک روزہ میچ سے بطور ایمپائرنگ کیرئیر کا آغاز کیا اور 1997ء سے 1999ء تک یہ فرائض انجام دیتے رہے 1999ء کے عالمی کپ میں انگلستان اور بھارت کے درمیان گروپ میچ ان کا بطور ایمپائر آخری میچ تھا جو انھوں نے سپروائز کیا۔لیکن ان کا کیریئر اس وقت شدید تنازعے کی زد میں ختم ہو گیا جب 1998ء میں ہیڈنگلے میں ان پر انگلینڈ کی حمایت کا الزام لگا جب انھوں نے سیریز کے فیصلہ کن میچ میں انگلینڈ کے حق میں آٹھ مشکوک فیصلے دیے۔ 2000ء میں کنگ کمیشن بنا جس میں اس پر جنوبی افریقی مندوب علی باوچر نے ان پر میچ میں نامناسب رویے کا الزام لگایا، علی باوچر کے اس دعویٰ کی جاوید اختر نے سختی سے تردید کی ۔ باوچر نے بعد میں جاوید اختر کی طرف سے اپنے خلاف لگائے گئے توہین کے الزامات کا جواب دینے کے لیے پاکستان میں عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا مگر جاوید اختر اس کے بعد کسی میچ میں بطور ایمپاِِئر اپنے فرائض ادا نہ کر سکے۔

اعدادوشمار

ترمیم

جاوید اختر نے صرف ایک ٹیسٹ کھیلا جس کی 2 اننگز میں 1 مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر 4 رنز بنائے جس میں 2 ناٹ آوٹ ان کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ انھیں 4.00 کی اوسط حاصل ہوئی جبکہ 61 فرسٹ کلاس میچوں کی 63 اننگز میں 10 بار ناٹ آئوٹ رہ کر انھوں نے 835 رنز بنائے۔ 88 ان کا بہترین سکور تھا۔ 15.75 کی اوسط سے بنائے گئے ان رنزوں میں 5 نصف سنچریاں بھی شامل تھیں۔ انھوں نے فرسٹ کرکٹ میں 3407 رنز دے کر 187 وکٹیں حاصل کیے تھے۔ 56 رنز کے عوض 7 وکٹیں ان کا کسی ایک اننگ میں بہترین ریکارڈ تھا 37.67 کی اوسط سے لی گئی وکٹوں میں 12 دفعہ کسی ایک اننگ میں 5 یا 5 سے زائد وکٹ اور میچ میں 3 دفعہ 10 یا 10 سے وکٹ بھی شامل تھے[2]

انتقال

ترمیم

ان کا انتقال 8 جولائی 2016ء کو راولپنڈی میں ہوا۔ ان کی عمر 75 سال 230 دن تھی۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین۔ "Javed Akhtar (cricketer)" 
  2. https://www.espncricinfo.com/player/javed-akhtar-40875