مرکزی مینیو کھولیں

جہانگیر خان پاکستان کے سابقہ عالمی نمبر 1 اسکواش کے کھلاڑی ہیں۔

جہانگیر خان
جہانگیر خان
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
رہائش کراچی, پاکستان
پیدائش 10 دسمبر 1963ء (عمر 55 سال)کراچی، پاکستان
ریٹائر 1993
اعلی ترین درجہ بندی نمبر 1
ورلڈ اوپن فاتح (1981, 1982, 1983, 1984, 1985, 1988)
آخری ترمیم: 19 ستمبر 2010ء۔

ولادتترميم

10 دسمبر 1963ء دنیائے اسکواش کے سب سے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان کی تاریخ پیدائش ہے۔

خاندانترميم

جہانگیر خان کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی گھر نواں کلے پشاور تھا ان کے والد روشن خان خود بھی اسکواش کے معروف کھلاڑی تھے اور 1957ء میں برٹش اوپن اسکواش ٹورنامنٹ جیت چکے تھے۔ روشن خان اپنے بڑے بیٹے طورسم خان کواسکواش کا عالمی چیمپئن بنانا چاہتے تھے اور ان کی تمام توجہ بھی انہیں پر مرکوز تھی کہ 26 نومبر 1979ء کو طورسم خان وفات پاگئے۔ طورسم خان کی وفات کے بعد روشن خان نے جہانگیر خان کو اسکواش کے مقابلوں کے لیے تیار کیاجنہوں نے اپریل 1981ء میں پہلی مرتبہ برٹش اوپن اسکواش ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔

عالمی اعزازترميم

جہانگیر خان پہلے برس تو برٹش اوپن نہیں جیت سکے مگر اسی برس انہوں نے اپنے ہم وطن قمر زمان کو ورلڈ اوپن اسکواش ٹورنامنٹ کے فائنل میں شکست دے کر کامیابیوں اور کامرانیوں کے اس سفر کا آغاز کیا جس کی کوئی مثال اسکواش کی دنیا میں توکجا کھیلوں کی دنیا میں بھی دور دور تک نہیں ملتی۔ جہانگیر خان 1993ء تک اسکواش کی دنیا پر راج کرتے رہے اس دوران انہوں نے دنیائے اسکواش کی ہر بڑی چیمپئن شپ جیتی اور 1981ء سے 1986ء تک ہر مقابلے میں ناقابل شکست رہے۔ اپنے کیریئر میں انہوں نے دس مرتبہ برٹش اوپن اور چھ مرتبہ ورلڈ اوپن اسکواش ٹورنامنٹ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کا 6 مرتبہ ورلڈ اوپن اسکواش ٹورنامنٹ جیتنے کا ریکارڈ تو جان شیر خان توڑ چکے ہیں مگر ان کا 10 مرتبہ برٹش اوپن جیتنے کا ریکارڈ آج بھی برقرار ہے۔[1] جہانگیر خان کو اسکواش کی عالمی تنظیم ورلڈ اسکواش فیڈریشن کا آئندہ 4 سال کے لیے اعزازی صدر ر ہے، اس سے قبل بھی اسکواش کی عالمی تنظیم کے اعزازی صدر کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں واضح رہے کہ جہانگیر خان انٹرنیشنل اسکواش سرکٹ میں ایک ناقابل شکست کھلاڑی تصور کیے جاتے تھے جب کہ ان کے حوالے سے یہ بھی مشہور ہے کہ انہوں نے مسلسل 555 میچز میں کامیابی کو اپنے گلے لگایا،

ورلڈ اوپن فائنلترميم

جیت (6)
سال فائنل میں مخالف فائنل میں اسکور
1981 جیف ہنٹ 7–9, 9–1, 9–2, 9–2
1982 ڈین ولیمز 9–2, 6–9, 9–1, 9–1
1983 کرس دیتمار 9–3, 9–6, 9–0
1984 قمر زمان 9–0, 9–3, 9–4
1985 راس نارمن 9–4, 4–9, 9–5, 9–1
1988 جان شیر خان 9–6, 9–2, 9–2
دوم (3)
سال فائنل میں مخالف فائنل میں اسکور
1986 راس نارمن 5–9, 7–9, 9–7, 1–9
1991 روڈنی مارٹن 17–14, 9–15, 4–15, 13–15
1993 جان شیر خان 15–14, 9–15, 5–15, 5–15

برٹش اوپن فائنلترميم

جیت (10)
سال فائنل میں مخالف فائنل میں اسکور
1982 ہدی جہاں 9–2, 10–9, 9–3
1983 جمال اعواد 9–2, 9–5, 9–1
1984 قمر زمان 9–0, 9–3, 9–5
1985 کرس دیتمار 9–3, 9–2, 9–5
1986 راس نارمن 9–6, 9–4, 9–6
1987 جان شیر خان 9–6, 9–0, 9–5
1988 روڈنی مارٹن 9–2, 9–10, 9–0, 9–1
1989 روڈنی مارٹن 9–2, 3–9, 9–5, 0–9, 9–2
1990 روڈنی مارٹن 9–6, 10–8, 9–1
1991 جان شیر خان 2–9, 9–4, 9–4, 9–0
دوم (1)
سال فائنل میں مخالف فائنل میں اسکور
1981 جیف ہنٹ 2–9, 7–9, 9–5, 7–9

بیرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم