جیامالا (پیدائش: 28 فروری 1955) [1]ایک ہندوستانی اداکارہ اور سیاست دان ہیں۔انہوں نے کرناٹک قانون ساز کونسل کی رکن ہونے کی وجہ سے کرناٹک حکومت میں خواتین، بچوں کی ترقی، معذور اور بزرگ شہریوں کو بااختیار بنانے کی وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔[2]

جیامالا
Jayamala.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 28 فروری 1959 (63 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دکشن کنڑ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت انڈین نیشنل کانگریس  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ادکارہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
فلم فیئر اعزاز جنوبی  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ذاتی زندگیترميم

جے مالا منگلور کے  ٹولو زبان  بولنے والے گھرانے میں  پیدا ہوئیں۔ ان کے والد جی اومایہ ایک ماہر زراعت تھے اور والدہ کمالماایک گھریلو خاتون ہیں۔ ان کی چھ بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ پنمبور میں بندرگاہ کے کام کی وجہ سے بے گھر ہونے کے بعد وہ 1963 میں چکمگلور چلے گئے۔ ان کی پہلی شادی کنڑ فلم اداکار ٹائیگر پربھاکر سے ہوئی تھی، ان کی ایک بیٹی سندریا ہے جو اپنے طور پر ایک مقبول اداکارہ ہے۔ اپنی طلاق[3][4] کے بعد  انہوں نے سنیماٹوگرافر ایچ ایم رام چندر سے شادی کی [5][6]۔

کیریئرترميم

جیامالا نے کئی فلموں میں کام کیا ہے خاص طور پر کنڑ فلموں میں۔ جیامالا 1980 کی دہائی کے اوائل میں کنڑ سنیما کی سب سے زیادہ مقبول ہیروئن تھیں۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز راجکمار کی ہیروئین کی حیثیت سے کیا اور ان کے ساتھ کامیاب فلموں کے بعد سینڈل ووڈ کے تمام سرفہرست ہیروز کے ساتھ کام کیا۔ اس کے بعد، اننت ناگ کے ساتھ رومانوی فلموں میں جنم جنممادا انوبندا اور پریماو بالینا بیلکو کے طور پر کام کیا۔ وشنو وردھن کے ساتھ، اس نے ملٹی اسٹارر پاٹ بوائلرز جیسے ہنتھاکانا سانچو، ناگا کالا بھیروا اور سدیدہ ساہودرا میں اداکاری کی۔ امبریش کے ساتھ اس کی جوڑی کا آغاز کلٹ کلاسک انتھا سے ہوا جہاں اس نے ایک کیبرے ڈانسر کا المناک کردار ادا کیا جو اس کی بہن ہے اور پھر اجیت، پریما ماتسارا اور خدیما کلارو جیسی کئی فلموں میں ان کی ہیروئن بنیں۔ کئی فلموں میں شنکر ناگ کے ساتھ ان کی جوڑی بھی کامیاب ثابت ہوئی جس میں ہیروئین پر مبنی چندی چامنڈی بھی شامل ہے جس نے ایک ایکشن ہیروئن کے طور پر ان کا گھر گھر نام بنایا۔

تنازعترميم

وہ اس وقت ایک تنازعہ میں گھر گئیں جب انہوں نے دعویٰ کیا کہ سبریمالا میں نمبینار کیدوواتھلائی نامی تامل فلم کی شوٹنگ کے دوران میں بھگوان آیاپا کی مورتی کو چھوا تھا۔ 10-50 سال کی خواتین کے سبریمالا مندر میں داخلے پر پابندی ہے۔ اس چیز نے بھارت میں ہنگامہ کھڑا کر دیا اور بھارتی میڈیا اور عدالتوں میں نظریاتی جنگ شروع کر دی۔  مسٹر وی راجندرن  جو اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کی کیرالہ ریاستی کمیٹی کے رکن ہیں انہوں نے رننی کی عدالت میں ان کے خلاف درخواست دائر کی تھی[7][8]۔ جیامالا نے بعدازاں کہا  کہ انہیں اپنے عمل پر افسوس ہے، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ انہیں عقیدت مندوں کے ہجوم نے مندر میں دھکیل دیا تھا۔

حوالہ جاتترميم

  1. "ನಟಿ ಜಯಮಾಲಾಗೆ ಒಲಿದ 'ಮಂತ್ರಿ' ಅದೃಷ್ಟ: ಬೆಲ್ಲ ಸವಿದು ಸಂಭ್ರಮ". oneindia.com (بزبان کنڑا). 6 جون 2018. 12 جون 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 جون 2018. 
  2. "Four members to be nominated to Karnataka Council after poll results". The Hindu (بزبان انگریزی). 2 مئی 2014. 9 جولائی 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 جون 2018. 
  3. "This fighter finally met his match | Bengaluru News – Times of India". The Times of India. 25 جولائی 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2020. 
  4. "WebHost4Life | Web Hosting, Unix Hosting, E-Mail, Web Design". www.webhost4life.com. 18 جون 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2020. 
  5. "Jayamala Jr set for debut? - Times of India". The Times of India. 12 اکتوبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2020. 
  6. "Sabarimala cinema shoot involving actresses forced rigid curbs on women". OnManorama (بزبان انگریزی). 1 اپریل 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 مارچ 2019. 
  7. "Bharatiya Janata Party" (بزبان انگریزی). 2 اکتوبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 مارچ 2019.