حارثہ بن سراقہ غزوہ بدر میں سب سے پہلے مرتبہ شہادت حاصل کرنے والے صحابی تھے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت مدینہ سے قبل مشرف باسلام ہوئے ۔غزوہ بدر میں شرکت کی اور غزوہ بدر میں ہی شہادت نوش فرمائی۔

حارثہ بن سراقہ
معلومات شخصیت
وفات 13 مارچ 624ء   ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بدر   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ربیع بنت نضر   ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر   ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام و نسب ترمیم

حارثہ نام، قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سے ہیں، سلسلۂ نسب یہ ہے،حارثہ بن سراقہ بن حارث بن عدی بن مالک بن عدی بن عامر بن غنم بن عدی بن النجار والدہ کا نام ربیع بنت نضر تھا وہ جلیل القدر صحابیہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حقیقی پھوپھی تھیں۔

اسلام ترمیم

والد ہجرت سے قبل فوت ہو گئے تھے،والدہ زندہ تھیں اور اسلام کے شرف سے مشرف ہوئیں،ماں کے ساتھ بیٹے نے بھی دائرہ اسلام میں شمولیت اختیار کی۔

غزوہ بدر میں شرکت و شہادت ترمیم

غزوہ بدر میں شریک تھے جس روز کوچ کا حکم ہوا، سب سے پہلے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلے، آنحضرت نے ان کو ناظر و نگران بنا کر ساتھ لیا، ایک حوض پر پانی پی رہے تھے کہ جسان بن عرفہ نے تیر مارا، جس سے شہید ہوئے، انصار میں سب سے پہلے انہی کو شرف شہادت حاصل ہوا۔

بدر سے واپسی کے وقت حارثہ کی ماں آنحضرت کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! حارثہ سے مجھے جس قدر محبت تھی آپ کو معلوم ہے، اگر وہ جنت میں گئے ہوں تو خیر صبر کروں گی ورنہ آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں، ارشاد ہوا کہ کیا کہہ رہی ہو جنت ایک نہیں؛ بلکہ کثرت سے ہیں اور حارثہ تو جنت الفردوس میں ہیں۔[1] ربیع اس بشارت کو سن کر باغ باغ ہوگئیں مسکراتی ہوئی اٹھیں اور کہنے لگیں نج نج یا حارثہ! یعنی واہ واہ اے حارثہ۔[2] [3][4]

ایمانی قوت ترمیم

حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کے جوش ایمانی کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت کسی طرف جا رہے تھے کہ حارثہ بن سراقہ سامنے آ گئے فرمایا حارث! صبح کیسی کی؟ بولے اس طرح کہ سچا مسلمان ہوں،فرمایا ذرا سوچ کر کہو،ہر قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے،عرض کیا یا رسول اللہ! دنیا سے منہ پھیر لیا ہے ،رات کو رواں اوردن کو تشنہ دہن رہتا ہوں، اس وقت یہ حال ہے کہ اپنے کو عرش کی طرف جاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، جنتی جنت اورجہنمی دوزخ میں جاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، ارشاد ہوا جس بندے کا قلب خدا منور کر دے،وہ پھر خدا سے جدا نہیں ہوتا،[5] حضرت حارثہ بن سراقہ نے درخواست کی کہ میرے لیے شہادت کی دعا کیجئے ،آپ نے دعا کی جس کی قبولیت غزوہ بدر میں ظاہر ہوئی۔ [6][4]

حوالہ جات ترمیم