حافظ محمد علی سلسلہ نقشبندیہ ڈھنگروٹ شریف کے بزرگ ہیں۔ انھیں حضرت ثانی کہا جاتا ہے۔ اب انھیں ڈھانگری شریف کے بزرگ کہا جاتا ہے۔

ولادت

ترمیم

1875ء میں ڈھنگروٹ شریف میں خواجہ محمد حیات کے ہاں پیدا ہوئے۔

تعلیم

ترمیم

ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی دنیاوی تعلیم کے لیے رواتڑہ شریف ضلع جہلم کے قریب لہڑی میں گئے تنگدیو میرپور میں بھی تعلیم حاصل کی۔

بیعت و خلافت

ترمیم

بہت چھوٹی عمر میں والد سید لطف شاہ رواتڑہ شریف کے ہاں بیعت کے لیے لے گئے جو خواجہ خان عالم کے خلیفہ تھے انھوں نے بیعت کیا اور والد صاحب کو اجازت دی کہ ان کی خود ہی تربیت کریں تو خلافت والد صاحب سے ہی عطا ہوئی۔قاضی سلطان محمود اعوانی سے سلسلہ قادریہ ملا اور سلوک مجددیہ کی بھی تکمیل کی۔ اسی طرح سائیں نور مجذوب سے میں بہت اخذ فیض کیا باؤلی شریف سے بھی جبہ خلافت حاصل ہوا ۔

اولاد

ترمیم

ان کے چار صاحبزادے ہیں

ساتھی اور دوست

ترمیم

اخوت و یگانگت کا جو مزاج یہاں پر ہے کہ مریدین کو ساتھے یا دوست کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ اور یہ دوستی کا سلسلہ دنیاوی غرض سے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہوتا ہے۔

وفات

ترمیم

1964ء میں قدیمی میرپور کے قریب فیض پور میں ہوا تین سال بعدبوجہ منگلا جھیل مزار منتقل کیے گئے اور ڈھانگری شریف میں مزار بنایا گیا [1]

حوالہ جات

ترمیم
  1. گلستان حیات،صوفی طالب حسین،بزم برادران طریقت ڈھانگری شریف میرپور آزاد کشمیر