حد کے معنیترميم

حد کی جمع حدود ہے اس آڑ اور روک کو کہتے ہیں جو دو چیزوں کو ملنے سے روکے[1] وہ سزا جو شریعت اسلامی کے موافق دی جائے حد کہلاتی ہے(فرہنگ آصفیہ) جب کوئی جرم کرتا ہے تو اس میں وہ اللہ کی نافرمانی بھی کرتا ہے اور کسی دوسرے انسان کا نقصان بھی کرتا ہے۔ اب اگر اس جرم میں اللہ کی معصیت اور اس کی نافرمانی کا حصہ زیادہ ہے تو اس پر جو سزا دی جاتی ہے اس کو حد کہتے ہیں‘ جس کی جمع حدود ہے۔ یہ حدود چار ہیں۔ حد زنا‘ حد سرقہ‘ حد قذف اور حد خمر[2]

قذف کے معنیترميم

قذف کے اصلی معنی تیر کو دور پھینکنا،پھر تیر کی شرط ختم کرکے مطلق پھینکنے ڈالنے اور اتارنے کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا،جبکہ مجازاًگالی دینے اور تہمت زنا لگانے اور کسی کو عیب لگانے سے منسوب کیا جانے لگا۔[1] ایک اسلامی فقہی عدلیہ سے متعلقہ اصطلاح، کسی پر زنا کی تہمت لگائی اور گواہوں سے ثابت نہ کر سکا اس وجہ سے تہمت لگانے والے کو جو سزا دی جاتی ہے وہ حدِ قذف کہلاتی ہے۔[3] قرآن میں ہے

اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسّی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو اور وہی فاسق ہیں۔[4]

قذف کی سزاترميم

اس کی سزا اسی کوڑے ہے اور مستقبل میں کسی معاملے میں ان کی گواہی مقبول نہیں۔

قرآن میںترميم

قرآن ميں سورۂ نور کی آیت چار میں اس کی سزا کا بیان ہوا ہے۔ اگر قرآن میں کسی غلطی کی سزا مقرر کی گئی ہو تو وہ اسلامی اصطلاح میں حد کہلاتی ہے۔ اس لیے اس کو بھی حد قذف کہا جاتا ہے۔ سورۂ نور میں اس کے بارے واضح سزا مقرر ہے۔

اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسّی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو اور وہی فاسق ہیں۔[4]

لیکن حد تب ہی جاری کی جا سکتی ہے، جب مجرم و جرم عین قرآن میں پیش کردہ حکم پر پورے اترتے ہوں، جیسے اس آیت میں پاک دامن عورت کا لفظ صراحت سے آيا ہے، اب اگر کوئی ایسی عورت پر الزام لگا دیتا ہے جو اس سے پہلے زنا کا فعل کرتی رہی ہو، مگر ثابت نہ کر سکا تو اس پر قذف نہیں کیونکہ نے کسی پاک دامن عورت پر الزام نہیں لگایا۔

حدیث میں:ترميم

صحيح البخاري (ج:4، ص:10، ط:دار طوق النجاة ):

’’عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اجتنبوا السبع الموبقات»، قالوا: يا رسول الله وما هن؟ قال: «الشرك بالله، والسحر، و قتل النفس التي حرم الله إلا بالحق، و أكل الربا، و أكل مال اليتيم، و التولي يوم الزحف، و قذف المحصنات المؤمنات الغافلات».‘‘

ترجمہ: ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: (لوگو) سات ہلاک کردینے والی باتوں سے بچو۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ! وہ سات ہلاک کرنے والی باتیں کون سی ہیں؟ فرمایا: (1)کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا، (2)جادو کرنا، (3)جس جان کو مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو ناحق قتل کرنا، (4)سود کھانا، (5)یتیم کا مال کھانا، (6)جہاد کے دن دشمن کو پیٹھ دکھانا، (7)پاک دامن ایمان والی اور بے خبر عورتوں کو زنا کی تہمت لگانا۔‘‘

فقہ میں =ترميم

حد قذف سے اختلافترميم

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب لغات القرآن،محمد عبد الرشید نعمانی، مکتبہ حسن سہیل لاہور
  2. تفسیر روح القران۔ ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی،المائدہ،33
  3. تفسیر نعیمی، سورہ نور، ص 17
  4. ^ ا ب ترجمہکنزالایمان ، سورہ نور، آیت 4