حُسن (یعنی حائے حطی مضموم سین مجذوم اور نون ساکن ) ایک انسانی حِسی معیار ہے جس کا تعلق حواسِ خمسہ ہے، حُسن کا تعین عموماً بصارت کے وسیلے سے ہوتا ہے ۔[1]

اہل ادب کے مطابق حسن کے معانیترميم

رومی کے مطابقترميم

حضرت رومی حسن کے بارے میں فرماتے ہیں:

آدمی دید است باقی پوست است

دید آں باشد کہ دید دوست است

مفہوم: آدمی دید ہے یعنی انسان حُسن کا پیکر ہے علاوہ ازیں چمڑا اور گوشت ہے پھر حُسن یہ ہے کہ انسان محبوب تک رسائی حاصل کر لے یعنی حُسن کے آگے سرنگوں ہو کر عشق اختیار کر لے۔

علامہ اقبال کے مطابقترميم

اسی کیفیت کو حضرت علامہ اقبال نے کچھ یوں بیان کیا:

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا

نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

مفہوم: حُسن محض حسِ بصارت سے خاص نہیں اس کا تعلق سماعت سے بھی ہے چنانچہ ایک بہترین موسیقی اپنے اندر کمال درجے کی خوبصورتی رکھتی ہے اسی طرح لمس کی ملائمت اور روح افزاء عطر کی خوشبو بھی قوتِ شامہ کی خوبصورتی کا اظہار ہے۔

امیر خسرو کے نزدیکترميم

طوطیِ ہند حضرت امیر خسرو حُسن کا اظہار کچھ اس طور سے کرتے ہیں:

گفتم کہ حوری یا پری گفتا کہ من شاہ بتاں

گفتم کہ خسرو ناتواں گفتا پرستار من است

مفہوم:میں نے پوچھا کہ حور اور پری کسے کہتے ہیں کہا کہ میں ہی شاہِ بتاں یعنی سب سے خوبصورت ہوں، میں نے پوچھا کہ خسرو ناتواں کون ہے یہاں ناتواں سے مراد حُسن پرست یا عاشق مزاج ہے کہا کہ میرا پرستار ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. مقالات یکے از نعمان نیئر کلاچوی