مرکزی مینیو کھولیں
امیر خسرو
Amir Khusro.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1253[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پٹیالی[2]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 9 ستمبر 1325 (71–72 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی[3][2]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مزار امیر خسرو  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر[2]، فلسفی، مصنف[2]، موسیقار[2]  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[2]، ترک زبان[2]، ہندی[2]، فارسی[4][2]، اردو  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

امیر خسروفارسی اور اردو کے صوفی شاعر۔ ماہر موسیقی ،انہیں طوطی ہند کہا جاتا ہے۔

نامترميم

ابوالحسن لقب، یمین الدولہ نام۔ امیر خسرو عرف۔ والدامیر سیف الدین لاچین قوم کے ایک ترک سردار تھے۔ منگولوں کے حملوں کے وقت ہندوستان آئے اور پٹیالی (آگرہ) میں سکونت اختیار کی۔

ولادتترميم

پیدائش: 1253ء امیر خسرو پٹیالی آگرہ پیدا ہوئے۔ ان کى والدہ ہندوستانی تھیں۔ آٹھ سال کی عمر یتیم ہوئے کچھ عرصہ بعد یہ خاندان دہلی منتقل ہو گیا اور امیرخسرو نے سلطنت دہلی (خاندان غلامان، خلجی اورتغلق) کے آٹھ بادشاہوں کا زمانہ دیکھا اور برصغیر میں اسلامی سلطنت کے ابتدائی ادوار کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی زندگی میں سرگرم حصہ لیا۔

خسرو اور محبوب الہیترميم

محبوب الہی خواجہ نظام الدین اولیاء کے بڑے چہیتے مرید تھے خسرو کو بھی مرشد سے انتہائی عقیدت تھی ۔

صنف شاعریترميم

خسرو نے ہر صنف شعر، مثنوی، قصیدہ، غزل، اردو دوہے ،پہیلیاں، گیت وغیرہ میں طبع آزمائی کی۔ غزل میں پانچ دیوان یادگارچھوڑے۔ ہندوستانی موسیقی میں ترانہ، قول اور قلبانہ انہی کی ایجاد ہے۔ بعض ہندوستانی راگنیوں میں ہندوستانی پیوند لگائے۔ راگنی (ایمن کلیان) جو شام کے وقت گائی جاتی ہے انہی کی ایجاد ہے۔ کہتے یہ کہ ستار پر تیسرا تار آپ ہی نے چڑھایا۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے مرید تھے۔ انہیں کے قدموں میں دفن ہوئے۔

فارسی کلام کی مثالیںترميم

اگر فردوس بر روے زمین است
همین است و همین است و همین است

کافر عشقم، مسلمانی مرا در کار نیست
هر رگ من تار گشتہ، حاجت زُنار نیست
از سر بالین من برخیز ای نادان طبیب
دردمند عشق را دارو بہ جز دیدار نیست
ناخدا بر کشتی ما گر نباشد، گو مباش!
ما خدا داریم ما ناخدا در کار نیست
خلق می‌گوید کہ خسرو بت‌پرستی می‌کند
آری! آری! می‌کنم! با خلق ما را کار نیست

اردو میں دوہےترميم

خسرو دریا پریم کا، اُلٹی وا کی دھار
جو اترا سو ڈوب گیا، جو ڈوبا سو پار
خسرو دریا پریم کا، اُلٹی وا کی دھار
جو اترا سو ڈوب گیا، جو ڈوبا سو پار
سیج وُہ سونی دیکھ کے رووُوں میں دن رین
پیا پیا میں کرت ہوں پہروں، پل بھر سکھ نا چین
سیج وہ سونی دیکھ کے روؤں میں دن رین
پیا پیا میں کرت ہوں پہروں، پل بھر سکھ نہ چین

موسیقیترميم

امیر خسرو شاعری سے ہی نہیں بلکہ موسیقی سے بھی کافی دلچسپی رکھتے تھے۔ ہندوستانی کلاسیکل موسیقی کے ایک اہم شخصیت بھی مانے جاتے ہیں۔ کلاسیکل موسیقی کے اہم ساز طبلہ اور ستار انہی کی ایجاد مانی جاتی ہے۔ اور فن موسیقی کے اجزا جیسے خیال اور ترانہ بھی انہی کی ایجاد ہے۔

اردو کی ترویجترميم

دنیا میں اردو کا پہلا شعر حضرت امیرخسرو ہی کی طرف منسوب ہے۔ اس سلسلے میں اردو کے ابتدائی موجدین میں ان کا نام نمایاں ہے ۔

تصانیفترميم

  • تحفۃ الصغر
  • وسطالحیات
  • غرۃالکمال
  • بقیہ نقیہ
  • قصہ چہار درویش
  • نہایۃالکمال
  • ہشت بہشت
  • قران السعدین
  • مطلع الانوار
  • مفتاح الفتوح
  • مثنوی ذوالرانی-خضرخان
  • نہ سپہر
  • تغلق نامہ
  • خمسہ نظامی
  • اعجاز خسروی
  • خزائن الفتوح
  • افضل الفوائد
  • خالق باری
  • جواہر خسروی
  • لیلیٰ مجنوں
  • آئینہ سکندری
  • ملا الانور
  • شیریں خسرو[5]

وفاتترميم

آپ کی وفات 1325ء میں ہوئی اور خواجہ نظام الدین اولیاء کے مزار کے قریب دہلی، ہندوستان میں دفن ہوئے۔[6]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb13929460p — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb13929460p — مصنف: Paul de Roux — عنوان : Nouveau Dictionnaire des œuvres de tous les temps et tous les pays — اشاعت دوم — جلد: 1 — صفحہ: 79 — ناشر: Éditions Robert Laffont — ISBN 978-2-221-06888-5 نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "d8f4e47be61c538cf1b7126b73a3eb72a9c35c22" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔ نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "d8f4e47be61c538cf1b7126b73a3eb72a9c35c22" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔ نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "d8f4e47be61c538cf1b7126b73a3eb72a9c35c22" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔ نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "d8f4e47be61c538cf1b7126b73a3eb72a9c35c22" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔ نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "d8f4e47be61c538cf1b7126b73a3eb72a9c35c22" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔
  3. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Амир Хосров Дехлеви — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb13929460p — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. شعر العجم، شبلی، جلد 2 صفحہ 107،
  6. Bio-bibliography.com - Authors
  • E.G. Browne. Literary History of Persia۔ (Four volumes, 2,256 pages, and twenty-five years in the writing)۔ 1998. ISBN 0-7007-0406-X
  • Jan Rypka, History of Iranian Literature۔ Reidel Publishing Company. ASIN B-000-6BXVT-K
  • Shīrānī، Ḥāfiż Mahmūd. “Dībācha-ye duvum [Second Preface]۔” In Ḥifż ’al-Lisān (a.k.a. Ḳhāliq Bārī)، edited by Ḥāfiż Mahmūd Shīrānī۔ Delhi: Anjumman-e Taraqqi-e Urdū، 1944.

بیرونی روابطترميم