پانچ حواس ظاہری۔ قوت سامعہ(کان) لامسہ(ہاتھ) ذائقہ(زبان) شامّہ (ناک)باصرہ(آنکھ) کو حواس خمسہ کہتے ہیں

حواس خمسہترميم

حس مادہ۔ الحاسۃ اس قوت کو کہتے ہیں جس سے عوارض حسیہ کا ادراک ہوتا ہے اس کی جمع حواس ہے جس کا اطلاق

  • سمع (سننا)
  • بصر (دیکھنا)
  • شم (سونگھنا)
  • ذوق (چکھنا)
  • لمس (چھونا) پر ہوتا ہے
  • ان کو حواس خمسہ کہتے ہیں۔ مثلاً ھل تحس منہم من احد (20:98) کیا تم کسی کو بھی ان میں سے محسوس کرتے ہو۔ آیت ہذا میں الحسیس والحس بمعنی حرکت و آہٹ ہے۔[1]

وہ علم جو انسان کو اس کے حواس خمسہ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ یہ اکتسابی علم (Acquired knowledge) یا ظاہری علم ہے

حواس باطنہترميم

امام غزالی فرماتے ہیں انسان کے قوائے مدرکہ پانچ ہیں

  • قوۃِ حسیہ جو حواس خمسہ کو شامل ہے‘
  • قوت خیالیہ‘
  • قوۃِ عقلیہ جو حقائق کلیہ کا ادراک کرتی ہے‘
  • قوۃ فکریہ جو معارف عقلیہ میں ترکیب دے کر نامعلوم بات کو دریافت کرتی ہے
  • قوۃِ قدسیہ جو انبیا و اولیاء کو حاصل ہے جس سے اسرار غیب ولوائحِ ملکوت ظاہر ہوتے ہیں جس کی نسبت اللہ فرماتا ہے۔ لکن جعلناہ نورانہدی بہ من نشاء من عبادنا۔ یہ پانچوں نور ہیں ہر ایک کو ان پانچوں میں سے ایک ایک کے ساتھ تشبیہ ہے روح حساس کو مشکوٰۃ سے ۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. انوار البیان فی حل لغات القرآن جلد2 صفحہ329 ،علی محمد، سورۃ الانبیاء آیت 102،مکتبہ سید احمد شہید لاہور
  2. تفسیر حقانی ابو محمد عبد الحق حقانی،سورۃ النور آیت18
  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔