حفیظ اللہ امین( یکم اگست1929ء–27 دسمبر 1979ء) کو سرد جنگ کے دوران ایک افغان کمیونسٹ سیاست دان تھےجو کہ   پیغمان میں پیدا ہوئے اور جامعہ کابل میں تعلیم حاصل کی۔جس کے بعد انھوں نے بطورایک استاداپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔بعد میں دارل مومینین کالج کے نائب پرنسپل بن گئے اور بعد میں  اسکول کے پرنسپل ر ہے۔ 1957 میں نیویارک شہر میں کولمبیا یونیورسٹی میں ایم اے کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے گئے۔جہاںوہ تعلیم کے دوران مارکسیت کے نظریات کی جانب متوجہ ہوئے اور یونیورسٹی کے سوشلسٹ ترقی پسند گروپ کا حصہ بن گئے۔

حفیظ اللہ امین
(پشتو میں: حفيظ الله امين ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جنرل سیکرٹری

پیپلزڈیموکریٹک پارٹی افغانستان

مدت منصب
14 ستمبر 1979[1] – 27 دسمبر 1979
نور محمد ترہ کئی
ببرک کارمل
چیئرمین، افغانستان انقلابی کونسل
مدت منصب
14 ستمبر 1979 – 27 دسمبر 1979
نور محمد ترہ کئی
ببرک کارمل
وزیر دفاع
مدت منصب
28 جولائی 1979 – 27 دسمبر 1979
صدر نور محمد ترہ کئی
خود
محمد اسلم وطنجار
محمد رافی
چیئرمین افغانستان وزرا کونسل
مدت منصب
27 مارچ 1979 – 27 دسمبر1979
صدر نور محمد ترہ کئی
خود
نور محمد ترہ کئی
ببرک کارمل
وزارت خارجہ
مدت منصب
1 مئی 1978 – 28 جولائی 1979
صدر نور محمد ترہ کئی
محمد داؤد خان
شاو ولی
معلومات شخصیت
پیدائش 1 اگست 1929ء[2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پغمان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 27 دسمبر 1979ء (50 سال)[2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات شوٹ  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت افغانستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد عبد الرحمٰن
ایک بیٹی[4]
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کولمبیا  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

اسی عرصہ کے دوران وہ نور محمد ترکئی سے واقف ہوئے۔انھوں نے 1965 ء پارلیمانی انتخابات میں ایک امیدوار کے طور پرحصہ لیا مگر نشست جیتنے میں ناکام رہے۔ 1969ءکے پارلیمانی انتخابات میں امین واحد خلق کے رکن تھےجو کہ پارلیمان میں منتخب ہوئے تھے، اس طرح پارٹی کے اندر ان کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوا۔ وہ ثور انقلاب کے اہم رہنماؤں میں سے ایک تھے۔

امین کی مختصر مدت صدارت شروع سے ہی تنازعات کا شکار رہی۔وہ اپنے سے پہلے صدر نور محمد ترہ کئی کو معزول کرکے اقتدار میں آئے تھے اور بعدمیں ترہ کئی کی موت کا حکم دیا ۔ حفیظ اللہ امین نے ترہ کئی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے عناصر کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی [6]مگر ان کی حکومت یہ مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہی۔ کئی افغانیوں نے امین حکومت کے  سخت ترین اقدامات مثلاً ہزاروں  افراد کو سزائے موت کی سزا  دینے کا احکام جاری کرنا [7]، پر  انھیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا[8]۔ سوویت یونین بھی ان سے خائف رہا اور ان پر سی آئی اے کا ایجنٹ ہونے کے شبہ کا اظہار کرتا رہا۔  اسی دور میں سویت یونین نے افغانستان کے ساتھ 25 سالہ دوستی معاہدے کو توڑتے ہوئے براہ راست ملک میں فوجی جارحیت کی۔ امین کو سویت یونین کی افواج نے کو 27 دسمبر، 1979 کو آپریشن طوفان 333 کے حصے کے طور پرقتل کرد یا۔ ان کی مدت صدارت محض تین ماہ رہی۔

حوالہ جات ترمیم

  1. "Hafizullah Amin"۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا 
  2. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Hafizullah-Amin — بنام: Hafizullah Amin — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/memorial/154480008 — بنام: Hafizullah Amin — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. Afgantsy: The Russians in Afghanistan 1979–89, by Rodric Braithwaite, p104
  5. Misdaq 2006, p. 136.
  6. "Archived copy"۔ 29 جنوری 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 جنوری 2018 
  7. Conflict in Afghanistan: A Historical Encyclopedia by Frank Clements
  8. "Library of Congress / Federal Research Division / Country Studies / Area Handbook Series / Afghanistan"۔ www.country-data.com۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 08 نومبر 2018