سانچہ:قرآن مجید سے حکومت ایمان ۔حکومت سیاست کسی مملکت کے اداروں، منصوبوں اور خیالات کو ظاہر کرنے اور اس کا نظام چلانے کے لیے حکومت (Government) کی تشکیل قرآن مجید پر عمل میں لائی جاتی ہے۔ اور اچھی حکومت مملکت کی فلاح و بہبود اور غیر ذمیدار حکومت ملک کی تباہی و بربادی کا موجب ہوتی ہے۔ مملکت کی طاقت اور کمزوری کا اندازہ بھی اس کی حکومت سے لگایا جا سکتا ہے۔ دنیا میں کئی

1۔ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا۔قران کریم کی حدایت کے مطابق

2۔ ملک کو بیرونی دشمنوں کے حملے سے بچانا اور اندرونی جھگڑے طے کرنا۔ قرآن مجید کی حدایت کے مطابق

3۔ ملک میں عدل و انصاف اخلاقی اور اجتماعی ترقی کے لیے قوانین بنانا اور رائج کرنا۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت مبارک اور امن علی کے قانون کے مطابق

4۔ رعایا کی تعلیم قرآن مجید سے صحیح حدیث مبارک سے جس سے سائنس بی ترقی کر رہی ہے و ترقی اور معاشرتی حالت کی اصلاح کے لیے کوشاں رہنا وغیرہ وغیرہ

اقسام

ترمیم

حکومت کے مختلف قسمیں ہوتی ہیں۔ مختلف ادوار میں حکومت مختلف شکلوں میں پائی جاتی ہے۔ جیسے کہ بادشاہت جو پہلے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا قسم تھا حکومت کا، اس کے بعد پھر ہمارے سامنے مدینہ ریاست کا خلافت سامنے آیا جو حکومت کا ایک نیا انداز تھا۔ اس کے بعد جمہوریت آئی جو آج کل کے دنیا کا 9/10 حصے سے بھی زائد ہے اس نظام میں براہ راست عوام اپنے رہنما منتخب کرتے ہیں۔ حکومت کا ایک طرز آمریت بھی ہوتی ہے جو جمہوریت کا متضاد ہے اور جس میں ڈنڈے کے زور پہ حکومت کی جاتی ہےشہری ہی بناتے ہیں، کسی فرد کی تباہی کا سبب بننے والے عناصر ہی ریاستوں کے زوال کا سبب بنتے ہیں افلاطون نے فرد اور رہ ایک دوسرے کا حصہ سمجھتا ہے کیونکہ وہ پہلے کہہ چکا ہے کہ اچھے شہری ہی اچھی حکومت بناتے ہیں۔ جو عناصر کسی فرد کی تباہی کا باعث بنتے ہیں وہی اسباب ریاستوں کے زوال کی وجہ بنتے ہیں۔ افلاطون نے طریقِ حکومت کی پانچ اقسام بتلائی ہیں۔

  • 1۔ اشرافیہ حکومت: اشرافیہ وہ طرز حکومت ہے جسے چند معزز لوگ مل کر چلاتے ہیں۔ یہ سب حکومت کے اہل ہوتے ہیں لیکن کہیں نہ کہیں خرابی کی وجہ سے انھیں زوال آ جاتا ہے۔
  • 2۔ سرداروں کی حکومت: سرداری حکومت میں حکمران کسی صاحبِ عزت شخص کا بیٹا ہوگا۔ عقل کی بجائے وہ جذبات کا غلام ہو گا۔ موسیقی اور تقریروں سے لگائو رکھے گا۔ ایسا حکمران عموماً کسی بہادر باپ اور فلسفی ذہن کی اولاد ہوتا ہے لیکن عام طور پر اسے یہ گلہ ہوتا ہے کہ اس کے باپ نے دولت نہیں کمائی۔ چنانچہ ابتدا میں تو وہ دولت سے نفرت کرتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ دولت کا شیدائی ہو جاتا ہے اور ان لوگوں کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے جو اس کے باپ سے مختلف ہوتے ہیں۔
  • 3۔ دولت مندوں کی حکومت: دولت مندوں کی حکومت کو سقراط اولیگارشی کا نام دیتا ہے۔ یہ وہ طرز حکومت ہے جس میں دولت مند طبقہ اپنی دولت کے بل بوتے پر حکومت کرتا ہے۔ نجی ملکیت کارجحان بڑھنے لگتا ہے۔ دولت مند طبقہ دن بدن امیر ترین ہوتا جاتا ہے۔ دولت میں اضافہ کی دوڑ میں ہر حکمران ایک دوسرے سے آگے بڑھنا شروع کر دیتا ہے اور شہریوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی جائداد حکومت کے ہاتھ فروخت کر دیں۔ یہ طبقہ انصاف و عدل کی تعریف بھول جاتا ہے اور ریاست کا سارا نظام چند امیروں کے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔
  • 4۔ شخصی یا ڈکٹیٹر شپ: اس طرز میں طاقت کے زور پر حکومت کی جاتی ہے اور عوام پر حاکم مسلط ہوتا ہے جو ان پر اپنے فیصلے تھوپتا ہے، جن کی خلاف ورزی پر انھیں سخت ترین کارروائیوں کا سامنا کرنا ح جیسے عورت کسی عورت کے خوبصورت فراک کی تعریف کرے۔ سقراط کہتا ہے کہ یہ ایک ایسا طرز حکومت ہے جس میں کوئی کسی قانون کا پابند نہیں ہوتا۔ غلطی ہو جائے تو ہر کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے۔ لوٹ مار شروع ہو جاتی ہے اور سب مل کر حصہ بانٹتے ہیں ۔

سقراط اپنے دوستوں سے کہتا ہے میرے نزدیک اشرافیہ سب سے بہتر طرز حکومت ہے اور سب سے بدتر ڈکٹیٹر شپ۔ وہ دونوں طرز حکومت کی اچھائیاں اور برائیاں تاریخی امتیاز سے ثابت کرتا ہے چنانچہ وہ مثالی ریاست کے لیے اشرافیہ طرز حکومت یعنی ارسٹوکریسی کو لازمی قرار دیتا ہے۔

 
دنیا کے ممالک بلحاظ قسمِ حکومت بمطابق 2011
     صدارتی جمہوریت2      نیم-صدارتی جمہوریت2
     پارلیمانی جمہوریت2      یک جماعت ریاست
     پارلیمانی آئینی بادشاہت      مکمل بادشاہت
     ملٹری آمریت      پارلیمانی آئینی بادشاہت جن میں شاہِ وقت بذات خود اختیارات متعین کرتا ہے
     ممالک جہاں صدر مختار ہوتا ہے لیکن صدر خود پارلیمان کے مطابقت کرتا ہے      ممالک جن کا نظام درج شدہ نظاموں کے علاوہ کوئی اور ہو

مزید دیکھیے

ترمیم