حکیم احمد الدین چکوالی علما اہلسنت چکوال کی معروف شخصیت ہیں۔

نام ونسبترميم

مولانا حکیم احمد الدین چشتی چکوالی۔لقب: استاذالاساتذہ۔ سلسلہ نسب اس طرح ہے حکیم احمد الدین چشتی بن غلام حسین چشتی چکوالی بن قاضی محمد احسن بن محمد حنیف بن محمد بن نور محمد۔ خاندانی تعلق قطب شاہی اعوان سے ہے۔آپ کے والد گرامی غلام حسین چکوالی اپنے زمانےکےامام الفضلاء تھے

تاریخِ ولادتترميم

2/رمضان المبارک 1268ھ مطابق 8/جولائی 1852ء کوموضع’’بولہ‘‘ تحصیل و ضلع چکوال میں پیدا ہوئے۔بعد میں آبائی گاؤں سے منتقل ہوکر چکوال شہر میں مقیم ہو گئے۔[1]

تحصیلِ علمترميم

24/ محرم الحرام 1274ھ کو باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔تمام علوم اپنے والد گرامی سےحاصل کرکےسند فراغ حاصل کی۔1298ھ میں حرمین شریفین کا قصد کیا۔وہاں پر اپنے والد ماجد کےاستاد مولانا رحمت اللہ کیرانوی سے علم التوقیت حاصل کیا۔علاوہ ازیں شیخ عبد اللہ سراج مفتیِ مکہ اور شیخ احمد بن زینی دحلان محدث مکہ سے حدیث قرأت، ہیئت، ریبع مجیب اور ربع مقظر وغیرہ علوم وہاں کے جید اساتذہ سے حاصل کرکے تعلیم و تدریس کی اعلیٰ سندیں حاصل کرکے واپس ہوئے۔ مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران میں آپ قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف تھے کہ ایک عربی خاتون نے فرمایا کہ یہ پنجابی قرآن کتنا غلط پڑھ رہاہے۔اس خاتون کے انتباہ پر آپ نےقاری عبد اللہ مکی سے قرات وتجوید حاصل کی۔فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ کادرس غوث الاسلام سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی سےلیا۔[2]

بیعت و خلافتترميم

1280ھ کو والد ماجد کے ہمراہ شیخ طریقت خواجہ شمس الدین سیالوی کی خدمت میں حاضر ہو کر سلسلہ عالیہ چشتیہ میں بیعت ہوئے۔ 1310ھ کو بلاد مقدسہ کی زیارت کے لیے سفر کیا اور بغداد شریف میں نقیب سلمان کے دست مبارک پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے۔

سیرت وخصائصترميم

استاذا لاساتذہ،مرجع الفضلاء،امام المعقول والمنقول،عالم، حکیم،شاعر،مدرس ،مفکر،منتظم، علامہ مولانا حکیم احمد الدین چشتی چکوالی۔آپ کا خاندانی تعلق ایک علمی وروحانی خانوادے سے ہے۔آپ خلفِ رشید تھے۔تمام علوم وفنون پر مہارت رکھتے تھے۔اولیاء کرام اور بالخصوص خواجہ شمس الدین سیالوی سےنہایت عقیدت رکھتےتھے۔ایک مرتبہ مسجد میں بوقت اشراق اوراد وظائف میں مشغول تھےکہ کسی نے پوچھ لیا کہ شمس العارفین کےحسن وجمال اور حلیہ کے بارے میں دریافت کیا۔آبدیدہ ہوکر فرمایا کہ میرے شمس اس آسمانی شمس سے زیادہ نورانی ومنور ہیں۔دیرتک آپ پر کیف ووجدان کی حالت طاری رہی۔ حکیم احمد الدین چکوالی دراز قامت،درمیانی جسامت،سرخ وسفید رنگت،صورت وسیرت میں بے حد حسین وجمیل تھے۔اسی طرح لباس بھی نفیس استعمال کرتےتھے۔کرتا شلوار،کندھے پر چادر،سر پر عمامہ۔لباس سفید رنگ کا استعمال کرتےتھے۔غذاقلیل استعمال کرتےتھے۔ آپ کےروز مرہ معمولات میں درس وتدریس،امامت فتویٰ نویسی،وعظ ونصیحت،اور اوراد و وظائف چشتیہ کی تلاوت وغیرہ شامل تھی۔جمعۃ المبارک کا خطبے میں مسلمانوں کو عمل ِ صالح کی ترغیب دیتےتھے۔ آپ بڑے پارسا،پابندِ شریعت اور اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔بڑے مستجاب الدعوات،خود دار،اور صابر وشاکر تھے۔جید عالم کےساتھ حاذق حکیم بھی تھے۔مریضوں کا علاج مفت کرتےتھے۔شاعری اور تاریخ گوئی میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔بڑے ذہین وفطین تھے۔پہلے حافظ نہیں تھے بعد میں شوق ہوا تو قرآن کریم حفظ کرکےتراویح میں سنایا کرتےتھے۔بڑی بارعب اور پروقار شخصیت کے مالک تھے۔تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔چکوال میں رہتےہوئے اپنی پوری زندگی نہ بازار گئے اور نہ ہی بازار دیکھا۔بڑے حق گو اور بےباک عالم دین تھے۔فقہ،تصوف اور علوم اسلامی سے ان کا سینہ منور تھا۔اکابرین شہر اور حکام آپ کی بہت قدر ومنزلت کرتےتھے۔فرق ِ باطلہ کے سخت مخالف تھے۔ساری زندگی درس وتدریس وعظ ونصیحت اور ذکر الہی میں بسر کی۔قدرت نے آپ کو شاعرانہ طبیعت ودیعت فرمائی تھی۔عربی،فارسی،اور اردو،پنجابی میں بے تکلف شاعرکہتے تھے۔لیکن زیادہ توجہ شاعری کی طرف نہ تھی۔اسی طرح تاریخی مادے بحساب ابجد نکالنے میں آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا۔عربی فارسی کلاموں میں تضمین آپ کےلئے کوئی مشکل کام نہ تھا۔’’الداعی‘‘ تخلص تھا۔زیادہ تر کلام فارسی میں ہے۔

درس وتدریسترميم

جب آپ نے چکوال میں مسند تدریس بچھائی تو آپ کی شہرت دور دور تک پہنچی۔کشمیر،سرحد،اور کابل وقندھار تک کےطلبہ تعلیم حاصل کرتےتھے۔خاص طور پر مثنوی شریف،ربع مجیب،اور ربع مقنطرہ وغیرہ علوم پڑھنے کےلئے دور دراز سے علما حاضر ہوتے اور شرفِ تلمذ حاصل کرتے۔قدوۃ المحققین علامہ غلام محمود پپلانوی(محشی تکملہ ومصنف نجم الرحمن) آپ کے ارشد تلامذہ میں سےتھے۔ مفتی دین محمد رتوی نے فقہ، اصول فقہ،طب کی تعلیم آپ سے حاصل کی۔ مولانا عبد اللہ کھڈہ مارکیٹ کراچی صدر مدرس مدرسہ مظہر العلوم کراچی۔مولوی محمد صادق دیوبندی کانگریسی کھڈہ کراچی۔نامور تلامذہ ہیں۔ ایک اور اہم انشاف یہ سامنے آیا کہ 1907ء کو مدرسہ مظہر العلوم میں ’’دارالافتاء‘‘ کا شعبہ قائم کیا گیا تھا، جس کے صدر مفتی مولانا عبد اللہ مرحوم تھے اور اس کے نائب مفتی

تاریخِ وصالترميم

آپ کا وصال 28/ذوالقعدہ 1347ھ مطابق 8/مئی 1929ء کو صبح صادق سے پہلےہوا۔چکوال میں آبائی قبرستان میں مدفون ہیں۔ [3][4]

حوالہ جاتترميم

  1. تذکرہ اکابر اہل سنت: محمد عبد‌الحکیم شرف قادری:صفحہ 44 نوری کتب خانہ لاہور
  2. فوزالمقال: 571
  3. تذکرہ اکابر اہل سنت: محمد عبد‌الحکیم شرف قادری:صفحہ 44 نوری کتب خانہ لاہور
  4. انوار علمائے اہلسنت سندھ۔فوزالمقال فی خلفاء پیر سیال جلد اول۔