"مفردات القرآن (کتاب)" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
== کتاب کی خصوصیات ==
احمد حسن فرحات نے کتاب کی جو خصوصیات بیان کی ہے اس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
(1)<nowiki>#</nowiki> کلمۃ کی اصل ظاہر کرنا :- یعنی کلمہ کے اصل کا ایسا معنی بیان کر دینا جو اپنے تمام معانی کو شامل ہو، ایسا لگتا ہے کہ اصفہانی اس سلسلہ میں ابن فارس کی کتاب "معجم مقاییس اللغۃ" سے متأثر ہیں۔
(2)<nowiki>#</nowiki> استعارہ میں استعمال معانی کی تحقیق۔
(3)<nowiki>#</nowiki> صحیح معانی کی تحقیق :- یعنی کبھی کبھی انبیاء کے تعلق سے بعض ایسی باتیں آتی ہیں کہ اس کی اگر اس کی تاویل کسی دوسرے معنی میں نا کی جائے تو نبی کی عصمت پر زد آسکتی ہے، اسلیے ایسی جگہوں پر اصفہانی ایک ایسا صحیح معنی تلاش کرتے ہیں جو نبی کی عصمت کے شایان شان ہو۔
(4)<nowiki>#</nowiki> ظنی اور غیر مراد معانی کی نفی : یعنی بعض مواقع پر بسا اوقات قاری کے ذہن میں ایک لفظ کے کئی کئی معانی آجاتے ہیں حالانکہ اصل معنی انکے علاوہ ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اصفہانی ان تمام غیر مراد معانی کی نفی کردیتے ہیں اور لفظ کے مناسب معنی کی وضاحت کر دیتے ہیں، جیسے کہ لفظ خوف (ڈرنا) کے تعلق سے اصفہانی نے الخوف من اللہ (اللہ سے ڈرنا) لکھا ہے۔ یعنی عام طور سے جو ڈرنا سمجھا جاتا ہے وہ مراد نہیں ہے، جیسے شیر سے ڈرنا۔ یہاں اللہ سے ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی نافرمانی سے بچا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے۔
(5)<nowiki>#</nowiki> قواعد کلیہ : بہت سے مقامات پر اصفہانی بعض کلمات کی تشریح کرتے ہوئے قاعدہ کلیہ بیان کر دیتے ہیں، یعنی اس کلمہ کے قرآنی استعمال کی تحقیق پیش کرتے ہیں۔ مثلا: کہتے ہیں (لفظ "تبارک" قرآن میں جہاں بھی استعمال ہوا ہے وہ اللہ کی خیر کی صفات کے ساتھ خاص ہے)
(6)<nowiki>#</nowiki> قواعد اکثریہ : بعض جگہوں پر اصفہانی یہ وضاحت کردیتے کہ یہ لفظ اس معنی میں اکثر استعمال ہوتا ہے، تاکہ اس کے کلی معنی کی نفی ہو جائے۔ مثلا: لکھتے ہیں (لفظ "سعي" کا زیادہ تر استعمال قابل تعریف احوال کے لیے ہوتا ہے)
 
== حوالہ جات ==