خدا کی بستی (ناول)

شوکت صدیقی کا ناول

خدا کی بستی پاکستانی ناول نگار شوکت صدیقی کا اردو زبان میں ناول ہے۔ اس ناول کے اب تک تقریباً 50 ایڈیشن مختلف ناشرین کے زیراہتمام شایع ہوچکے ہیں۔ اس ناول کو ڈرامائی تشکیل بھی دی گئی اور پاکستان ٹیلی وژن سے پانچ مرتبہ نشر ہوا۔ ناول کو 1960ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔

خدا کی بستی (ناول)
مصنف شوکت صدیقی  ویکی ڈیٹا پر (P50) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصل زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P407) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ناشر الحمرا پبلشنگ، اسلام آباد
تاریخ اشاعت 1958  ویکی ڈیٹا پر (P577) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صفحات 524   ویکی ڈیٹا پر (P1104) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
جانگلوس  ویکی ڈیٹا پر (P156) کی خاصیت میں تبدیلی کریں Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

کردارترميم

  • راجا، ایک آوارہ، انتہائی غریب ذرا بڑی عمر کا لڑکا، جو ایک بوڑھے کو ریڑھی میں ڈال کر گداگری کرتا ہے اور پیسوں سے جوا کھیلتا اور سنیما دیکھتا ہے۔
  • شامی، دبلا پتلا، تیز مزاج لڑکا، جو باپ کی دکان پر بیٹھتا ہے۔
  • کالے صاحب، بیمہ کار
  • نوشا، ایک یتیم لڑکا، جو پہلے سنیما اور چوری کی لت میں مبتلا ہوتا ہے، پھر گھر سے بھاگ جاتا اور بردہ فروشوں کی وجہ سے چوری کے مقدے میں جیل چلا جاتا ہے۔
  • نوشا کی ماں، جو بیڑیاں بنا بنا کر بیچتی ہے۔
  • انو، نوشا کا چھوٹا بھائی
  • سلطانہ، نوشا کی بڑی بہن
  • عبد اللہ مستری، آٹو ورکشاپ والا، جہاں نوشا کام کرتا ہے۔
  • سلمان، ایک نوجوان لڑکا، جو شہر میں تعلیم حاصل کرنے آیا ہوا ہے اور سلطانہ سے محبت کرنے لگتا ہے، بری عادتوں میں مبتلا ہے، بعد میں وہ ایک تنظیم کا رکن بنتا ہے جو معاشرے کے غریب عوام کے لیے کام کرنا چاہتی ہے۔
  • نیاز، کباڑیے کا کام کرنے والا، جو درپردہ چوری اور چنگی چوری کا مال بھی خریدتا اور بیچتا ہے،
  • ڈاکٹر موٹو اصل نام خیرات محمد، ایک اتائی ڈاکٹر جو نیاز سے پیسے لے کے اس کی دوسری بیوی (جو نوشا کی ماں ہے) کو جلد مارنے کے لیے دل کمزور کرنے کے ٹیکے لگاتا ہے، نیاز نے کالے صاحب سے بیوی کا بیمہ کرایا ہوا ہے تاکہ وہ مرے تو اسے 50 ہزار کی رقم مل سکے۔ پھر وہ نوشا کی بہن سلطانہ تک بھی پہنچ سکے گا۔
  • خان بہادر، ایک بدعنوان سرکاری افسر جو مہاجرین کے نام زمینوں، سرکاری ٹینڈروں اور ٹھیکوں سے پیسہ کھاتا ہے اور اسکائی لارک تنظیم (جس کا سلمان رکن ہے) کے غریب عوام کے لیے مفت علاج کے لیے خریدی گئی طبی مرکز کی زمین پر قبضہ کرا کے مسجد بنوا دیتا ہے اور مسجد کے ساتھ دکانیں۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم