خس و خاشاک زمانے

اردو ناول

خس و خاشاک زمانے پاکستان سے 2010ء میں شائع ہونے والا اردو ناول ہے جسے مشہور ادیب مستنصر حسین تارڑ نے تحریر کیا ہے۔اس ناول میں 1935 ء کے دور کے لاہور کی منظر نگاری کی گئی ہے اس ناول میں اندرون لاہور کے ماحول اور یہاں کے لوگوں کا رہن سہن دکھایا گیا ہے .اس کے علاوہ دیہاتوں سے آئے روزگار کی تلاش میں لوگوں کی زندگی اور ان کی مشکلات کو موضوع بنایا گیا ہے.اس کہانی میں دنیا پور سے کچھ لوگ لاہور سبزی منڈی آتے ہیں اور یہاں اپنا سارا مال بیچ کر شام کی ٹرین سے واپس اپنے گاوں چلے جاتے ہیں .یہ لوگ جاٹ برادری سے تعلق رکھتے ہیں جو خود کو سردار سمجھتے ہیں اور کشمیریوں کو اور چھوٹی ذات کے لوگوں کو کمی کمیں تصور کرتے تھے .اس کہانی میں ایسے ہی.لوگوں کو موضوع بنایا گیا ہے جو شہر میں آکر روز گار کی تلاش کرتے ہیں اور اس دوران بہت سے مسائل کا انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے.جب انہیں شہر میں کام مل جاتا ہے اور جب وہ.شہر میں آباد ہو جاتے ہیں تو انہیں اپنے گاوں کے کھلے گھر اور گوبر کی بد بوئیں یاد آتی رہتی ہیں .

خس و خاشاک زمانے
مصنفمستنصر حسین تارڑ
ملکپاکستان کا پرچمپاکستان
زباناردو
صنفناول
ناشرسنگ میل پبلی کیشنز، لاہور
تاریخ اشاعت
اول 2010ء، دوم 2014ء
طرز طباعتمطبوعہ (مجلد)
صفحات740

موادترميم

"خس و خاشاک زمانے" کو پاکستان کی ایک ایسی دستاویز کہا جاسکتا ہے جو پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اور تہذیبی اقدار اور اس کے بدلتے رویوں کو بیان کرتی ہے۔"خس و خاشاک زمانے" ضخیم ناول ہے جس میں دو خاندانوں کی کئی نسلوں پر پھیلی داستان بیان کی گئی ہے۔ اس ناول کی کہانی گوجرانوالہ کے گائوں نت کلاں کے گرد گھومتی ہے. تقسیم برصغیر کے بارے میں لکھ گیا یہ ناول ان تلخ تاریخی حقائق کو بیان کرتا ہے جن پہ بات کرنا پسند نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان موضوعات پر بحث کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

موضوعاتترميم

مستنصر حسین تاررڈ کا یہ ناول روایتی موضوعات سے بہت ہٹ کر لکھا گیا ہے۔ خس و خاشاک زمانے میں انھوں نے متعدد ایسے موضوعات کو ناول میں شامل کیا ہے جن پر بات کرنا پاکستان میں معیوب خیال کیا جاتا ہے۔ ان موضوعات میں تقسیم ہند، ناجائز طور پر پیدا ہونے والے بچے، مردو جانوروں کا گوشت کھانے،کسی حد تک لونڈے بازی اور ہم جنس پرستی، مغربی طرززندگی اور جسم فروشی کے علاوہ آبائی ملک کو چھوڑکر نقل مکانی کرنے والے خاندانوں حالات زندگی کے ساتھ ہی نائین الیون کے واقعات کے بعد پیدا ہونے والے اسلام دشمن رویے بھی شامل ہیں۔

تبصرے و آراءترميم

ریاض شاہد کتاب اور مصنف کے بارے میں کہتے ہیں،[1]

اس ناول میں تارڑ کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے خصوصا فلیش بیک کی ٹیکنیک بار بار استعمال کی گئی ہے ۔ الفاظ کا چناو اور ان کا استعمال بڑی سوچ اور نفاست سے کیا گیا ہے ۔ ناول کی سب سے بڑی خوبی اس کا وہ ماحول میں جو تارڑ اپنے ڈائیلاگ کی مدد سے پیدا کر دیتا ہے کہ قاری ناول کے اختتام تک اس کے سحر سے آزاد نہیں ہو سکتا اور یہ انہیں کا خاصہ ہے ۔ حقیقت پسندی کا درس ناول کا تھیم ہے جسے تارڑ علامات کے ذریعے واضح کرتا ہے مثلا اچھو شیخ کا کردار جو مذہبی انتہا پسندی کا مظہر ہے گاؤں کا فاترالعقل نوجوان ہے جو بار بار اپنی ماں سے نظر بچا کر گلی میں غلاظت کے ڈھیر سے شیشہ تلاش کر کے اپنی گردن پر پھیرنا شروع کر دیتا ہے جس سے اسے لذت ملتی ہے۔ پتہ چلنے پر اس کی ماں آ کر اٹھا کر گھر لے آتی ہے لیکن وہ پھر موقع ملنے پر یہی عمل دہراتا رہتا ہے ۔ ناول میں 1947ء کے فسادات میں ہونے والی قتل و غارت ، معاشرے میں لوٹ مار کے رحجان کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "riazshahid.com". 26 جولا‎ئی 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 اگست 2015.