خفیہ اسلام (انگریزی: Crypto-Islam) اسلام سے خفیہ وابستگی ہے جب کہ کوئی شخص بر سر عام کسی اور مذہب کا پیرو کار ہے۔ خفیہ اسلام پر عمل پیرا لوگ "خفیہ مسلمان" ہیں۔ اس لفظ کا عام طور اطلاق ہسپانیہ کے مسلمانوں پر ہوتا ہے جو قرون وسطٰی مسیحی مذہبی عدالت سے بچنے کے لیے بر سر عام خود کو مسیحی بتاتے تھے، مگر خفیہ طور پر اسلام کی پیروی کرتے تھے اور اسی مذہب میں اپنا عقیدہ رکھتے تھے۔

تاریخی مثالیںترميم

کچھ تاریخی مثالوں میں احمد ابن قاسم الحجری ہیں۔ وہ سولہویں صدی میں ہسپانیہ کے خفیہ مسلمان رہے۔ انہوں نے ایک کتاب لکھی تھی جس میں یہ تفصیلات ہیں کہ کس طرح سے انہوں نے ہسپانیہ سے مراکش تک وہ فرار ہوئے۔ اس میں ان کی یسوع مسیح کے بارے میں مسیحی عقائد کی تردید بھی شامل ہے۔ کتاب میں یہ بھی تفصیل موجود ہے کہ ہسپانیہ کس طرح خفیہ مسلمان رہتے ہیں۔ بعد میں وہ ہسپانیہ کے لیے مراکش کے سفیر بنے۔

یہ بھی دعوٰی کیا گیا کہ نجاشی جو مملکت اکسوم یا حبشہ کا حکمران تھا، بھی ایک خفیہ مسلمان تھا۔ واضح رہے کہ نجاشی نے اسلام کے ابتدائی زمانے میں مسلمانوں کو پناہ دے مذہب اسلام کو اس وقت تقویت پہنچائی جب نہ تو مسلمان کثیر التعداد تھے اور نہ ہی مذہب اسلام کا کوئی زور آور بہی خواہ تھا۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

کتابیاتترميم

  • Harvey، L. P. (16 May 2005). Muslims in Spain, 1500 to 1614. University of Chicago Press. ISBN 978-0-226-31963-6. 
  • Rustam Shukurov, "The Crypto-Muslims of Anatolia," in Anthropology, Archeology and Heritage in the Balkans and Anatolia or The Life and Times of F.W. Hasluck (1878-1920), ed. David Shankland, Istanbul: Isis, 2004, volume 2, pages 135–158.