خواہش (انگریزی: Desire) ایک ایسا جذبہ ہے جس میں کسی شخص، شے یا نتیجے کی امید شامل ہوتی ہے۔ یہی کیفیت کچھ دیگر الفاظ کے ذریعے بھی عیاں ہو سکتی ہے، جیسے کہ طلب، جیسا کہ ایک پان کے عادی شخص کو پان کی طلب قتًا فوقتًا محسوس ہو سکتی ہے، وہ اس کے لیے ممکن ہے کہ لمبی مسافتیں طے بھی کر لے۔ ایک اور لفظ چاہت بھی ہو سکتی ہے جو عمومًا عشق سے تعلق رکھتی ہے۔ ایک شخص اپنے محبوب کی چاہت میں کبھی کبھار رات رات بھر جاگ سکتا ہے، اس کی زیادہ توجہ کھانے پینے سے ہٹ جاتی ہے، وہ اپنی محبوبہ کی رضا کے لیے مہنگے تحفے تحائف بھی پیش کر سکتا ہے۔ ہر انسان خواہشات کی ایک دنیا دل میں بسائے پھرتا ہے۔ کچھ کہنے اور کچھ کرنے کی خواہش، کچھ کھانے اور کچھ پینے کی خواہش۔

زندگی کے اس مکمل عرصہ حیات میں لے دے کے لوگ بہت کم خواہشیں ہی پوری کر پاتے ہیں۔ وہ بھی اس لیے کہ ہوا کا رخ سازگار ہوتا اور ان کے پاس وسائل ہوتے ہیں۔[1]

فطری خواہشات کے علاوہ کچھ خواہشات ماحول اور ثقافتوں کی دین سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں ماہرین کے مطابق اول الذکر چائے پینے کی عادت ہے۔ دوسری علّت جو انگریز بر صغیر میں دے گئے وہ سگریٹ ہے ۔ چائے تیار کر کے اور سگریٹ سلگا کر شرو‏ع میں ہندوستان کے لوگوں کو چوک میں کھڑے ہو کر مفت پلائے گئے اور گھروں کے لیے بھی مفت دیے گئے ۔ جب لوگ عادی ہو گئے تو معمولی قیمت لگا دی گئی۔ پھر آہستہ آہستہ قیمت بڑھتی چلی گئی۔ جدید دور میں بھارت، پاکستان اور کئی قومیں ان غیر فطری اور نقصان دہ چیزوں پر اربوں روپیہ ضائع کرتی ہیں۔[2]

خطرات جھیلنے کا رجحان

ترمیم

اکیسویں صدی میں کچھ واقعات ایسے رو نما ہوئے ہیں غیر قانونی تارکین وطن سمندری راستوں سے ترقی یافتہ ممالک میں داخلہ پانے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔ چوں کہ یہ کام جوکھم بھرے ہوتے ہیں، اس لیے ان میں حادثات میں دیکھے گئے ہیں۔ کچھ واقعات میں تو ان لوگوں کی کشتیوں کے پلٹ جانے کے باعث حادثات پیش آئے ہیں اور جس میں ہلاک ہونے والوں میں پاکستانیوں کی خاصی تعداد بھی شامل رہی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ لوگ غیر قانونی طریقے سے کسی ملک میں داخلے کا انتہائی قدم کیوں اٹھاتے ہیں، اب تک پکڑے جانے والے یا حادثوں میں ہلاک ہونیوالوں میں اکثریت کم پڑھے لکھے لوگوں کی نظر آئی اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو انسانی اسمگلر اپنا آسان شکار سمجھتے ہیں، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو نسل در نسل غربت دیکھتے چلے آتے ہیں، ان لوگوں کے دلوں میں خواہشیں اور آنکھوں میں خواب بھی بہت سجے ہوتے ہیں کہ ان غیر قانونی کوششوں کے بہانے سے ہی وہ بہتر مستقبل کی اپنی خواہش کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ مگر جیب خالی ہوتی ہیں، دن رات محنت مزدوری کرکے جو پیسہ کماکر لاتے ہیں، اس سے پیٹ کی ہی آگ بمشکل بجھ پاتی ہے، تو بہتر مستقبل کے لیے کیا پیسے بچائیں، ایسے لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے خاندان کی اچھی پرورش کریں، بچوں کو اچھی تعلیم دلوادیں تاکہ نسلوں سے چلی آرہی غربت کا خاتمہ کرسکیں۔[3] یہ واقعات خواہشات کی فعالیت اور اس کی محرک نوعیت کی واضح مثالیں ہیں۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم