مرکزی مینیو کھولیں

خود مختار ریاست، کسی بھی ایسے ملک یا خطے کو کہتے ہیں جس میں مستقل آبادی، متعین کردہ سرحدیں، ایک حکومت اور دوسری خود مختار ریاستوں کے ساتھ سفارتی و تجاری تعلقات بنانے کی خاصیت ہو۔[1]
1933ء کے عالمی چارٹر، جس میں ریاستوں کے حقوق اور فرائض کے مطابق کسی بھی خود مختار ریاست کے لیے چار اجزاء کا حامل ہونا ضروری ہے، جو یہ ہیں:

  • مستقل آبادی
  • متعین کردہ سرحد
  • حکومت
  • دوسری ریاستوں کے ساتھ تعلقات کی خاصیت[2] خود مختار ریاست کا عمومی تصور یہی ہے کہ یہ اپنے تئیں نظام حکومت اور معاملات چلانے میں آزاد ہو اور کسی بیرونی طاقت یا ریاست کا اس خطہ ارض کی فیصلہ سازی پر کوئی اثر و رسوخ نہ ہو۔[3] خود مختار ریاست عمومی لحاظ سے کوئی بھی قوم یا افراد، جو خطہ ارض پر قابض ہوں اور ان کا کوئی بھی اندرونی آئین موجود ہو اور حکومت اپنی ریاست کے افراد کی آزادی کے ساتھ بغیر کسی بیرونی دباؤ کے طرز زندگی کو بہتر بنائے۔[4]

کوئی بھی ریاست تب بھی خود مختار کہلاتی ہے جبکہ اسے دوسری خود مختار ریاستیں تسلیم نہ کرتی ہوں، اس طرح کی ریاستیں اپنے تئیں خود مختار ریاستیں تو ہوتی ہیں مگر انھیں ان ریاستوں کے ساتھ تعلقات اور تجارت میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کے وجود کو بطور خود مختار ریاست تسلیم نہیں کرتیں۔

مزید دیکھیےترميم

بیرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم

  1. مالکولم ناتھن شا۔ "ریاست کی زمہ داریاں"۔ عالمی قوانین۔ کیمبرج یونیورسٹی پریس۔ صفحہ 178۔ Unknown parameter |separator= ignored (معاونت)
  2. نندساری جیسنتولیانا۔ عالمی قوانین بارے رائے عامہ۔ کوئلیر قوانین عالمی۔ صفحہ 20۔ Unknown parameter |separator= ignored (معاونت)
  3. کیری ویٹن۔ بین الاقوامی قوانین کے اجزاء۔ کیری لی اور بلانچڈ۔ صفحہ 51۔ Unknown parameter |separator= ignored (معاونت)
  4. امریکہ کی تہذیبی ڈکشنری۔ خودمختار۔ ہوگٹن میفلن کمپنی۔ Unknown parameter |separator= ignored (معاونت)