داؤد بندگی کرمانی

شیخ داؤد بندگی کرمانی قدیم قصبہ شیرگڑھ کی معروف روحانی ہستی ہیں۔

نسبترميم

داؤد بندگی موسیٰ المبارکہٰ کی 28 ویں نسل میں سے تھے جو امام محمدتقی ابن امام علی رضا کے بیٹے تھے۔ آپ کے دادا اور پرداد نے کرمان سے سیت پور، مظفر گڑھ میں 1410ء میں ہجرت کی۔

ولادتترميم

داؤد بندگی کی پیدائش سیت پور میں 1513ء میں ہوئی۔

تعلیم و تربیتترميم

شیخ داؤد بندگی نے وقت کے نامور علما کرام کے ہاتھوں دیپالپور اور لاہور میں باقاعدہ مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے بعد تمام دنیاوی اور مادی سرگرمیوں سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے روحانیت کی تلاش میں عبادت میں بہت وقت خرچ کیا۔

اویسی طریقہترميم

شیخ داؤد بندگی کرمانی اویسی طریقت سے تعلق رکھتے تھے، یہ کسی بھی استاد یا مرشد کے واسطہ بغیر تھی۔ بعد میں آپ نے ستگھرہ میں شیخ حامد گیلانی کے ہاتھوں پر بیعت کر لی اور قادری سلسلہ میں شمولیت اختیار کی۔ باضابطہ طور پر بااثر قادری سلسلہ کا رکن بننے کے بعد داؤد بندگی نے شیر گڑھ ضلع اوکاڑہ میں اپنی خانقاہ آباد کی جو لاہور اور ملتان کے درمیان واقع ہے۔

علاقے پر اثراتترميم

آپ کے آنے کے بعد شیر گڑھ قادری سلسلہ کا گڑھ بن گیا اور شیر گڑھ کی اس خانقاہ نے تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا شروع کر دیا۔ 16ویں صدی کے مشہور مورخ عبد القادر بدایونی 1572ء میں شیرگڑھ آئے اور چار روز تک یہاں رہے۔ عبد القادر بدایونی کے مطابق جب مغل بادشاہ جلال دین محمد اکبر پاکپتن آیا تو وہ شیرگڑھ سے ہو کر گذرا اور اس نے یہاں ان بزرگ کی بہت تعریف سنی اور وہ ان سے ملنے کا خواہش مند ہوا۔ جنرل شہباز خان کمبوہ اکبر بادشاہ کے دربار کا اہم آفیسر داؤد بندگی کرمانی کی بارگاہ میں ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کے لیے آیا۔ شیخ داؤدبندگی کرمانی جو اپنے آپ کو دنیاوی جاہ وجلال اور دولت والے لوگوں سے دور رکھتے تھے جنرل شہباز خان کے ہاتھوں بادشاہ کو پیغام بھیجا کہ وہ بادشاہ کو ہمیشہ اپنی دعاوں میں یاد رکھتے ہیں لہذا اس کو ذاتی طور پر دعا کروانے کے لیے آنے کی ضرورت نہیں۔ یہ داؤد بندگی کرمانی کی روحانی طاقت تھی کہ آپ نے ایک بڑی تعداد میں پنجاب کے ہندو جاٹ اور راجپوت قبیلوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔ وہ قبائل جو آپ کی بدولت مکمل طور پر یا جزوی طور پر دائرہ اسلام میں داخل ہو گے ان میں چھٹہ، چیمہ، ورک، ہنجرہ، دیوہتر، وڑائچ، گروہی، مان اور سانسی جن کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا شامل تھے۔ اس کے علاوہ ضلع سیالکوٹ سے باجوہ، بصرہ، چیمہ، گھمن، کہلون، گراہی، ساہی اور سندھو جب کہ ضلع ساہیوال سے احرار، ھان، ہوتینہ اور بلوچ شامل تھے۔

وفاتترميم

آپ نے 1575ء میں شیر گڑھ میں وفات پائی۔ جہاں آپ کا مزار ابتدائی مغل فن و تعمیر کی ایک شاندار مثال ہے۔[1]

حوالہ جاتترميم