دشرتھ مانجھی (1934[1]-17 اگست 2007[2]) جسے پہاڑی آدمی (Mountain Man)[3] کے نام سے بھی جانا جاتا ہے بھارت کی ریاست بہار کے شہر گیا کے نزدیک ایک گاؤں گہلور کا رہنے والا ایک مزدور تھا۔دشرتھ مانجھی وہ شخص تھا جس نے صرف ایک ہتھوڑے اور سینی[4][5][6] کی مدد سے ایک پورا پہاڑ کاٹ کر 110 میٹر (360 فٹ)طویل، 9.1 میٹر (30 فٹ) چوڑا اور 7.6 میٹر (25 فٹ) گہرا راستہ بنا کر دنیا کو حیران کر دیا تھا۔22 برس کی صبر آزما اور طویل محنت کے بعد دشرتھ نے قصبہ گیا کے دو علاقوں اٹری اور وزیر گنج کے درمیان سفر کے فاصلے 55 کلومیٹر کو 15 کلومیٹر کر دیا۔[7]

دشرتھ مانجھی
दशरथ मांझी
Dashrath Manjhi 2016 stamp of India.jpg
دشرتھ مانجھی کی یاد میں جاری کیا گیا ڈاک ٹکٹ 2016

معلومات شخصیت
پیدائش 1934
Gehlaur, بہار, بھارت
وفات 17 اگست 2007(2007-80-17) (عمر  77–78 سال)
نئی دہلی, بھارت
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت بھارتn
دیگر نام پہاڑی آدمی
زوجہ فالگنی دیوی
عملی زندگی
پیشہ مزدور
وجہ شہرت Manually carving a mountain in order to connect Gehlaur and Gaya

ابتدائی زندگیترميم

دشرتھ نے ہندوستان کے ذات پات کے نظام میں نچلی ذات کے خاندانوں میں شمار ہونے والے موشار ذات کے خاندان میں جنم لیا۔ [8]وہ اپنی اوائل عمری میں گھر سے بھاگ گیا تھا اور دھنباد میں کوئلے کی کانوں میں کام کرتا رہا۔ بعد ازاں وہ گہلور گاؤں واپس آگیا اور فالگنی یا پھاگُنی نامی عورت سے شادی کر لی۔[4]

گہلور ایک چھوٹا سا کم وسائل گاؤں تھا۔ اس کی جنوبی سرحد پر راج گیر سلسلہ کوہ کے پہاڑوں کی وجہ سے اس کا رابطہ وزیر گنج شہر سے بذریعہ سڑک نہیں تھا۔

حادثہ اور راستہ بنانے کی ابتداترميم

گہلور واپس آجانے کے بعد دشرتھ نے زرعی مزدور کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔یہ 1959 یا 1960 کا واقعہ ہے کہ دشرتھ کی بیوی فالگنی بری طرح زخمی ہو گئی اور کسی طبی امداد کے بغیر ہی انتقال کر گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قریب ترین اسپتال بھی گاؤں سے 55 کلومیٹر (34 میل) دور تھا۔ایک اور رپورٹ کے مطابق فالگنی کی موت پہاڑی پگڈنڈی سے گرنے کی وجہ سے ہوئی جب وہ گاؤں سے دور کام کرتے دشرتھ کو کھانا دینے جارہی تھی۔[4][3][9] چونکہ گاؤں اور شہر کے بیچ پہاڑ حائل ہونے کی وجہ سے دشرتھ کی بیوی کو بروقت اسپتال نہ لیجایا جا سکا تھا اور اس کی موت ہو گئی تھی اس سانحے نے دشرتھ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس پہاڑ کو کاٹ کر راستہ بنائے گا تاکہ گاؤں اور شہر کا فاصلہ کم ہو سکے اور آئندہ کوئی فالگنی اسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے نہ مر جائے۔[6][10] دشرتھ نے اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی کہ ایک آسان اور کم فاصلہ راستہ ہونا چاہیے۔ اس نے مصمم ارادہ کر لیا کہ وہ پہاڑ کاٹ کر ایک راستہ بنائے گا تاکہ گاؤں والوں کو صحت کی سہولیات تک رسائی میں آسانی ہو۔ [4]

اس نے پہاڑ کاٹ کر 110 میٹر (360 فٹ)طویل، 9.1 میٹر (30 فٹ) چوڑی اور 7.6 میٹر (25 فٹ) گہری سڑک بنا ڈالی۔ دشرتھ کہتا ہے “ جب میں نے پہاڑ کو کاٹنا شروع کیا تو لوگوں نے مجھے پاگل کہا لیکن اس سے میرے حوصلے کو مزید تقویت ملی “۔

دشرتھ نے 22 سال (1960 تا 1982) کی مسلسل محنت کے بعد کام مکمل کر لیا۔اور یوں قصبہ گیا کے دو علاقوں اٹری اور وزیر گنج کے درمیان سفر کا فاصلے 55 کلومیٹر سے 15 کلومیٹر رہ گیا۔ دشرتھ کی اس جا نگسل محنت سے گہلور گاؤں کے باسیوں کی زندگی میں آسانی پیدا ہوئی اور وہ صحت و شہری سہولتوں سے استفادہ کے قابل ہو گئے۔[10]

وفاتترميم

دشرتھ کو مثانے کے سرطان کے باعث 23 جولائی 2007 کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسسز نئی دلی میں داخل کیا گیا۔جہاں 17 اگست 2007 کو اس کا انتقال ہو گیا۔

حوالہ جاتترميم