رئیس امروہوی

سید محمد مہدی المعروف رئیس امروہوی برصغیر کے بلند پایہ شاعر، ممتاز صحافی اور ماہرمرموز علوم تھے۔

رئیس امروہوی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1914  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
امروہہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 1988 (73–74 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر، صحافی ماہر نفسیات
اعزازات

آپ 12 ستمبر 1914ء کو یوپی کے شہر امروہہ کے علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔1936 میں صحافت سے وابستہ ہوئے، ابتدا میں امروہہ کے اخبارات قرطاس اور مخبر عالم کی ادارت کی۔ بعدازاں روزنامہ جدت (مرادآباد) کے مدیر اعلیٰ رہے۔ آپ سید محمد تقی اور جون ایلیا کے بڑے بھائی تھے۔

تقسیم ہند کے بعد 19 اکتوبر 1947ء کو ہجرت کر کے کراچی آگئے اور روزنامہ جنگ سے منسلک ہونے کے بعد یہاں مستقل سکونت اختیار کی۔ آپ کی ادارت میں جنگ پاکستان کاسب سے کثیرالاشاعت روزنامہ بن گیا۔ صحافتی کالم کے علاوہ آپ کے قصائد، نوحے اور مثنویاں اردو ادب کا بیش بہا خزانہ ہیں۔ نثر میں آپ نے نفسیات و فلسفۂ روحانیت کو موضوع بنایا۔ 22 ستمبر 1988ء کو آپ نے اس دنیا سے کوچ کیا۔

آپ کی اہم شعری تصانیف یہ ہیں۔

  • مثنوی لالہ صحرا
  • پس غبار
  • قطعات (حصہ اول و دوم)
  • حکایت
  • بحضرت یزداں
  • انا من الحسین
  • ملبوس لباس بہار
  • آثار

جبکہ نثری تصانیف یہ ہیں۔

  • نفسیات و مابعد النفسیات ( 3 جلدیں)
  • عجائب نفس ( 4 جلدیں)
  • لے سانس بھی آہستہ ( 2 جلدیں)
  • جنسیات ( 2 جلدیں)
  • عالم برزخ ( 2 جلدیں)
  • حاضرات ارواح
  • اچھے مرزا

رئیس امروہوی دور حاضرہ کے ممتاز شعراءمیں سے ہیں وہ تمام اصناف سخن میں قادر الکلام ہیں، پُر گو ہیں، حاضر طبع ہیں، زدو گو ہیں، فکر میں قدرت ہے، طرز ادا میں جدت ہے، زبان میں صفاحت ہے، بیان میں سلاست ہے، نظر میں وسعت ہے، غزل ہو یا نظم قطعات ہوں یا رباعیاں، ادب ہو یا فلسفہ، رندی و مستی ہو یا فقر و تصوف ، سنجیدہ مضامین ہوں یا طنز و مزاح ، وہ ہر میدان کے ”مرد میدان“ نظر آتے ہیں۔ اور جس موضوع پر لکھتے ہیں خوب لکھتے ہیں۔ ان کی غزل میں قدیم غزل کی روح نئے انداز بیاں کا جامہ پہن کر شاہد معنی کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔وہ شاہد معنی کوزبان شعر میں ”جان گل“ کہتے ہیں۔ رنگ کومجاز اور بُو کو حقیقت بنا کر گل کورنگ و بُو دونوں کا جامع کہتے ہیں۔ مگر اس جامعیت کے مشاہدے پر بھی ان کی نظر قانع نہیں، وہ گل میں ”جان گل“ کوخوشبو اوررنگ میں منحصر نہیں سمجھتے بلکہ ”جان گل “ کو ”ماورائے رنگ و بو“ تصور کرتے ہیں اور اس سے برافگندہ نقابی کے تمنائی ہیں اگر نقاب الٹ دے توکیا قیامت ہو وہ جان گل کہ کبھی رنگ ہے کبھی خوشب حوادث عالم کی توجیہ عقل کے سپرد کردی جائے گی تو سبب و مسبب اور علت و معلول کی گتھیاں سلجھانے کے بجائے عقل ان میں الجھ کر رہ جائے گی۔ رئیس امروہوی یہ کام عقل کے سپرد نہیں کرتے، عشق سے حادثات لیل و نہار کا سبب پوچھتے ہیں اورانہیں جواب ملتا ہے کہ یہ حادثات شب و روز بے سبب تو نہیں بدل رہا ہے کوئی خواب ناز میں پہلو محبت میں سب کچھ ہے مایوسی نہیں۔ وہ اپنے محبوب سے شکستہ دل کے باوجود مایوس نہیں۔ وہ ستم میں کرم کے ہزاروں پہلو دیکھتے ہیں۔ یہ انداز عشق کوہوس سے ممتاز کرتا ہے تمہیں فسردہ دلوں کا خیال ہی تو نہیں خیال ہو تو کرم کے ہزارہا پہلو نور و نار اور جمال و جلال ایک ہی حقیقت کمے دو رخ ہیں بس ایک آگ ہے جو حسن میں ہے گرمی ناز مزاج عشق میں ٹھہرے اگرتو سوز دروں شدت احساس سے خیال واقعہ بن جاتا ہے دل کو احساس کی شدت نے کہیں کا نہ رکھا خود محبت کو محبت نے کہیں کا نہ رکھا روحانئین کے نزدیک مادہ بھی ہماری شعوری کیفیات کا نام ہے۔ یہ ہمارے شعور ہی کی تو کیفیات ہیں جن کا ادراک ہم خارج میں کرتے ہیں۔ رئیس امروہوی اس مقام پر اپنے پیکر جسمانی کواپنی روح پر لباس کی صورت میں مشاہدہ کرتے تو مادہ جواب میںروح بن جاتا۔ مگر وہ جانتے ہیں کہ پیکر حسن بھی شعور ہی کی ایک کیفیت ہے اور یہ شعور ہی بجائے خود لباس جاں ہے، کہتے ہیں خود اپنے شعور جاں سے ملبوس بے پیکر و پیرہن ہیں ہم لوگ انسان فطرتاً آزاد پیدا ہوا ہے اس لیے اس کوآزادی محبوب ہے اس حقیقت کی طرف رئیس امروہوی نے کیا خوب توجہ دلائی خود اپنے وجود میں مقید پابستہ بے رسن ہیں ہم لوگ زمانہ مطلق بھی ہے مقید بھی۔ اس پیچیدہ مسئلے کورئیس امروہوی صاحب نے کتنے سادہ الفاظ میں بیان ہے ہے جس سے ذات باری کے گمان ہونے کا مفہوم ملتا ہے گماں نہ کر کہ زمانہ کبھی نیا ہوگا یہی جو ہے یہی ہوگا یہی رہا ہوگا اس مادیت اور لاادریت کے دور میں رئیس امروہوی آخرت کی زندگی پر نہ صرف یقین ہی رکھتے ہیں بلکہ وہ اس یقین کو دوسروں کی طرف منتقل کرنے کے لیے موثر یقین آفریں اور دل نشین پیرایہ بیان کے بھی مالک ہیں خلوت قبر سے نکلتی ہے اس طرح بن سنور کے روح حیات جس طرح جشن شب سے جلوہ�صبح جس طرح بادلوں سے چاندنی رات یقین اور یقین دھانی کا یہ عالم ہے کہ کثرت عالم کی تعبیر وہ کثرت صفات سے کرتے اور کثرت صفات کو ذات و صفات کے چہرے پر رنگا رنگ نقابوں سے تعبیر کرتے ہیں کچھ نہیں اک جمال ذات پہ ہیں صد حجابات رنگ رنگ صفات مگر شعر مابعد میں جب وہ کہتے ہیں اور یہ بھی تمام وہم و گماں اور یہ بھی تمام معروضات تو ایسا معلوم ہوتاہے کہ اپنے وجدان و عرفان پر جیسے انہیں اعتماد نہ رہا ہو۔رئیس امروہوی کے یہاں علم و ادب میں جہاں حکمت و فلسفہ کی چاشنی ہے وہیں پر تذبذب اور تشکیک کی ملاوٹ بھی پائی جاتی ہے یہ حقیقت کی تجلّی ہے مری نظروں میں یا فقط سایہ�اوہام ہے معلوم نہیں انسان اللہ کی صنعت خلاقی کا مظہر ہے اس لیے مجازاً صنعت خلق کا ظہور اس سے ہوتا ہے ہزار عالم و آدم ہزار خالق و خلق ابھی ہیں عرصہ�¿ تخلیق میں یہ شکل غبار بصیرت و بصارت میں امتیاز نہ کیا جائے تو اس شعر کے معنی کا شعور مشکل ہے ۔ جزوی مشاہدے کا کلی مشاہدے میں محو ہوجانے کا نام نظر کا بینائی میں گم ہوجانا رکھا گیا ہے ڈھونڈتا پھرتا ہوں خود اپنی بصیرت کی حدود کھو گئی ہیں مری نظریں مری بینائی میں استغنائے عشق سے حسن میں دوق تجسس پیدا ہوگیا ہے یہ کون قریب آ رہا ہے خود میرے ہی نقش پا پہ چل کر حقیقت کائنات ۔ کیا ہے یہ کائنات کن فیکون قطرہ�ز محیط موجودات کیا ہے یہ عالم وجود و بقا ذرہ از جہاں مخلوقات جس بحر بیکراں کا ایک قطرہ�¿ کائنات کن فیکون ہو اور سارا عالم وجود جس دنیا کے آگے ذرے کی برابر ہو اس کی لامتناہی وسعتوں کا اندازلگانا محال ہے۔ مگر جس قلب میں یہ لامتناہی وسعتیں سما سکیں وہ وسیع تر ہے۔ رئیس امروہوی ”دل“ کو لامتناہی وسعتوں کا عامل قرار دیتے ہیں۔جب بیکراں بتاتے ہیں تو”دل مومن“ کی تعریف اس پر صادق آتی ہے دل غم دو جہاں میں ڈوب گیا بےکراں بیکراں میں ڈوب گیا خیر و شر دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں خیر مطلق تھا شر سے آلودہ خیر مطلق کو شر سے پاک کیا خاموشی اور اعماق فکر کو دیکھئے ۔ حرکت نفسی کومنازل حیات میں قطع سفر سے تعبیر کیا گیا ہے خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم مسرت مجاز اور غم حقیقت کو بھی دیکھئے شگفتگی کو ٹٹولا فسردگی پائی مسرتوں کو نچوڑا ٹپک پڑے آنسو ”چہ قیامتی کہ نمی رسی زکنار ما بہ کنار ما “ کی تفسیر ملاحظہ ہو یہ ناز حسن ہے یا امتحان عشق اے دوست کہ تیرے ساتھ رہوں اور تجھ کو پا نہ سکوں محبوب کی کم آمیزی کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ان سے محفل میں ملاقات بھی کم تھی نہ مگر اف وہ آداب جو برتے گئے تنہائی میں غالب نے کہا تھا کہ ” موج خرام یار بھی کیا گل کتر گئی “ لیکن رئیس امرہوی خرام صہبا سے محبوب صباخرام کی صدائے پا سنتے ہیں چل کحھ اس انداز سے نسیم بہار کہ بار بار کسی کی صدائے پا آئی نیاز عشق ناز حسن سے بدلا تو اب آپ کی آنکھ میں ہیں آنسو سیلاب کا رخ بدل گیا ہے حال کے آئینے میں دوست کی تجلی جاودانی صورت نظر آتی ہے ہیں حضور دوست فکر دوش و فردا کیا کروں یہ وہ لمحہ ہے جوماضی میں نہ مستقبل میں ہے غرور عشق میں شان کبریائی ملاحظہ ہو محبت ہے نیاز آئیں تو اے دل یہ تجھ میں بے نیازی ہے کہاں کی وہ رگ و جاں سے قریب ہے۔ دل اس کا عرش ہے وہ پاس ہے وہ ساتھ ہے ۔ النفس و آفاق اس کی جلوہ گاہیں ہیں باہمہ قربت دل دیدہ ہائے وہ دل نشین و نادیدہ خود آگہی کو رئیس جہنم کہتے ہیں جس میں خود جل رہے ہیں مرے قریب نہ آ اے بہشت بے خبری خود آگہی کے جہنم میں جل رہا ہوں میں حسن کی کشش مشہور ہے ۔ دل محبوب کی طرف خود بخو دکھینچتا ہے یہ کیفیت شعوری ہے۔ مگر گریز کو جذب لاشعوری بتانا۔ رئیس کی فکر کا وہ کارنامہ ہے جس کی داد اہل فکر ہی دے سکتے ہیں جمال دوست کی جانب کشش ہے عین شعور رہا گریز تو وہ جذب لاشعوری ہے ایک بات کو مختلف روپ میں پیش کرنا، ایک مفہوم کو رنگا رنگ اسلوب سے ادا کرنا، ایک حقیقت کو گوناگوں الفاظ و عبارت کے جامے میں ملبوس کرنا جہاں شاعرانہ صلاحیتوں کا مظہر ہوتا ہے وہاں شاعر کے تخیل، تمول اور علمی سرمائے کا بھی اندازا اس سے لگایا جاسکتا ہے۔ رئیس امروہوی میں یہ خصوصیت بہت نمایاں ہے۔ جب ہم ان کی بعض منصومات مثلاً ”آفرینش نامہ“ دیکھتے ہیں تو پوری نظم جو تین صفحات پر پھیلی ہوئی ہے اس کا ماحصل دو الفاظ اطلاق و قید یا مطلق و قید ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ شاعر نے ان فلسفیانہ اصطلاحات کی خشک زمین کو نہایت شگفتہ اور بہت ہی تروتازہ نظم سے باغ ہ بہار بنا دیا ہے پوری نظم زور بیاں، ندرت کلام اورشوکت الفاظ کا مرقع ہے۔ اسی طرح ”عدم“ کے عنوان سے جو نظم ہے وہ بھی رئیس امروہوی کا ادبی شاہکارہے۔ پوری نظم مرصع ہے۔ تلازم الفاظ اور مترادفات کا پرشوکت استعمال تاآنی کی یاد تازہ کرتا ہے۔ فی الجملہ منظومات سے شاعر کی وسعت نظر و فکر کی گہرائی مطالعے کی ہمہ گیری اور مشاہدے کی جامعیت کا پتہ چلتا ہے۔