روزنامہ جنگ پاکستان کا سب سے زیادہ چھپنے والا اردو اخبار ہے۔ اس کی روزانہ اشاعت تقریبا 8 لاکھ تک رہی ہے۔

روزنامہ جنگ
قسمروزنامہ
ہیئتاخبار
بانیمیر خلیل الرحمٰن
ناشرجنگ گروپ آف پبلشرز
مدیرمحمود شام
ایڈیٹر ان چیفمیر شکیل الرحمٰن
آغاز1939ء
زباناردو
صدر دفترکراچی
تعداد اشاعت850,000
ساتھی اخباراتروزنامہ عوام، اخبار جہاں، The News
ویب سائٹhttp://jang.com.pk/

تاریخ

ترمیم

جنگ کی پاکستان میں اشاعت کا آغاز 14 اکتوبر 1947ء کو ہوا۔ [1] روزنامہ جنگ میر خلیل الرحمن نے 1939ء میں دہلی سے شروع کیا۔ اس وقت کی پیش نظربرصغیر کے مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنا اور مسلم لیگ کی ترجمانی تھا۔ ان دنوں جنگ عظیم کی خبروں سے لوگوں کو بہت دلچسپی تھی۔ اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ جنگ کی خبریں چھاپتے ۔ اخبار کا نام جنگ بھی اسی لیے رکھا۔ [1] 1941 میں چیف کمشنر دہلی نے ستمبر سے دسمبر 1941ء کے دوران دہلی سے شائع ہونے والے انتہاپسند اخبارات کی سہ ماہی رپورٹ ارساں کی جس میں روزنامہ جنگ 16ویں نمبر پر تھا۔ [2]

پہلا شمارہ

ترمیم
 
روزنامہ جنگ کے پہلے شمارے کا عکس

14 اکتوبر 1947ء کو ہوا۔ زیرِ نظر اس کا پہلا شمارہ ہے۔ [1] ان دنوں اخبارات پر ایک دن آگے کی تاریخ ڈالی جاتی تھی تاکہ جہاں اخبار پہنچنے میں 24 گھنٹے لگ جاتے تھے، وہاں بھی اخبار تازہ اور آج کا لگے۔ اس لیے اس پہلے شمارے پر تاریخ 15 اکتوبر درج ہے۔ [1] پہلا شمارہ20ضرب 30 انچ کے نصف سائز کے چار صفحات پر مشتمل تھا۔ ہر صفحے پر چھ کالم تھے۔ قیمت ایک آنہ تھی۔۔ ادارۂ تحریر میں میر خلیل الرحمنٰ اور غازی انعام نبی پردیسی کے نام درج تھے۔ بعد میں سید محمد تقی اور یوسف صدیقی طویل عرصہ مدیر رہے۔ حالیہ زمانے میں محمود شام اور نذیر لغاری ایڈیٹر رہے۔ رئیس امروہوی کا جنگ میں پہلا قطعہ ’’ عید قربان‘‘ 22اکتوبر 1947ء کو شائع ہوا تھا لیکن 4 فروری 1948ء سے یہ باقاعدہ شائع ہونے لگا ۔ اس دن یہ قطعہ شائع ہوا ۔۔۔

چراغ سے آگ

ہندوستان کو جس نے جہنم بنا دیانکلی وہ آگ سنگھہ وسبھا کے دماغ سے
ہندو کے دستِ ظلم سے غارت ہوا یہ دیساس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

اس سے اردو صحافت میں ایک نئی روایت کا آغاز ہوا۔ پھر سب اخباروں کے ادارتی صفحات پر قطعے شائع ہونے لگے۔ رئیس امروہوی کے بعد جنگ میں بھی کئی دوسرے لوگوں نے قطعات لکھے لیکن رئیس کے قریب بھی نہ پہنچ سکے۔ [1]

اجرا

ترمیم

جنگ ابتدأ میں شام کا اخبار تھا۔4 فروری 1948ء سے صبح کے اوقات میں شائع ہونے لگا۔ [1] 1947ءمیں قیام پاکستان کے بعد کراچی کو دارلحکومت بنایا گیاجہاں ہوائی اڈے کے علاوہ بندرگاہ کی سہولت بھی موجود تھی کراچی ایک ابھرتا ہوا صنعتی شہر تھا جہاں اخبارات کو خوب فروغ حاصل ہوا۔ دہلی کے تین مسلم اخباروں یعنی روزنامہ ڈان،روزنامہ جنگ اورروزنامہ انجام نے آزادی کے بعد اپنے دفاتر کراچی منتقل کیے۔ کراچی منتقلی کے بعد جنگ اور انجام میں مقابلہ جاری رہا۔ مقابلے کی اس دور میں یہ اخبارات جدید فنی مہارت اور تکنیک کو بروئے کار لائے۔"روزنامہ ا نجام" کو اس کے انجام تک پہنچانے کے لیے میر خلیل الرحمن نے انتہائی اوچھے ہتکنڈوں کا سہارا لیا، ہاکروں سے انجام کے پرچے غائب کروائے گئے، بہودگی پر مبنی میڈم باروی کے نام سے چٹخارے دار تحریری مواد کے ساتھ ساتھ تصویری مواد کو بھی شامل کیا گیا، فلمی دنیا کے مکروہ اور کریہہ چہرے کو نوجوان نسل کا آئيڈل بناکر پیش کیا اور مجموعی طور پر پاکستان میں زرد صحافت کو رواج دینے میں میرصاحب نے دن رات ایک کرکے رکھ دیا اور اس دوڑ میں انجام سمیت دیگر سبھی اخبارات کو پیچھے چھوڑ دیا، آج ان کی اولاد اور جنگ گروپ کی مینجمنٹ اسی پالیسی پر گامزن ہے اور اپنے حریفوں کو ہر قیمت پر پیچھے چھوڑنے کی میر خلیل الرحمن کی قائم کردہ روایات کو جاری رکھے ہوئے ہوئے، اس اخبار نے ہر نئی ٹیکنالوجی مثلاََ ریڈیو فوٹو، کمپیوٹرائزڈ کمپوزنگ بر وقت حاصل کی۔اور بالآخر اردو کا سب سے بڑا اخبار بن گیا۔ [1] ان کی رنگارنگ تحریروں اور خوبصورت طباعت کی وجہ سے قارئین میں اخبار بینی کا شوق بڑھا۔ روزنامہ جنگ اور ڈان کی اشاعت میں اضافہ ہوا۔ جبکہ انجام کی اشاعت اس کا ساتھ دینے سے قاصر رہی۔ آج روزنامہ جنگ پاکستان کے بڑے شہروں لاہور، کراچی،راولپنڈی،اسلام آباد، کوئٹہ اور ملتان کے علاوہ برطانیہ کے شہر لندن سے بھی شائع ہوتا ہے جبکہ دیگر بڑے شہروں میں بیورو آفسز قائم ہیں۔ روزنامہ جنگ نے 11فروری 1991ء سے لاہور ،راولپنڈی اور کراچی سے بیک وقت انگریزی اخبار"THE NEWS" جاری کیا جو بین الاقوامی معیار کا اخبار رہے۔ روزنامہ جنگ خبروں کے حصول میں ہمیشہ آگے رہتاہے۔ روزنامہ جنگ نے 1981ء میں کمپیوٹر کمپوزنگ متعارف کروائی جو اردو زبان کی ترقی کے لیے ایک انقلابی اقدام تھا۔ میر خلیل الرحمن کے بعد اب ان کے چھوٹے بیٹے میر شکیل الرحمن اخبار کے مالک ہیں۔

روزنامہ ’’جنگ ‘‘ کا پاکستان میں آغاز

ترمیم

جنگ کی پاکستان میں اشاعت کا آغاز 14 اکتوبر 1947ء کو ہوا۔ 14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو تحریک پاکستان اور مسلم لیگ کا ترجمان اخبار ہونا جرم قرار پایا۔ دہلی میں اخبار کے لیے صورت حال سنگین تھی۔بڑھتی ہوئی مشکلات کے سبب روزنامہ جنگ کے بانی میر خلیل الرحمن نے پاکستان کے پایہ تخت کراچی سے روزنامہ جنگ نکالنے کا فیصلہ کیا۔ [2]چار فروری1948ء وہ دن جب روزنامہ جنگ کراچی پہلی مرتبہ صبح کو شائع ہوا۔ [2]

جنگ راولپنڈی

ترمیم

دار الحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا اعلان ہوا تو میر خلیل الرحمٰن نے فوراََ جنگ راولپنڈی سے بھی شائع کرنے کا فیصلہ کیا اور13 نومبر 1959ء کو جنگ نے راولپنڈی سے اشاعت کا آغاز کر دیا۔ [1] اکتوبر 1958ء میں ملک میں پہلی مرتبہ مارشل کا نفاذ ہوا۔فوجی حکومت نے نئی حکمت عملی کے تحت پاکستان کے دار الخلافہ کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیاجس کے بعد ضروری سمجھا گیاکہ اخبار کو نئے دار الخلافہ سے بھی شائع جائے۔ [2]

جنگ لاہور

ترمیم

یکم اکتوبر1981ء سے جنگ لاہور کا آغاز ہوا۔اس اخبار کی خاص بات جو اسے دیگر اخبارات سے منفرد کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ دنیا کا پہلا اردو اخبار تھا جو کمپیوٹر کے ذریعے کمپوز ہوا۔پاکستان میں طباعت کی دنیا کا یہ انقلاب” روزنامہ جنگ “ کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے۔ [2]

دیگر شہر

ترمیم

15 مارچ 1971 کو جنگ لندن سے، 31 مارچ 1972 کو کوئٹہ سے، یکم اکتوبر1981 کو لاہور سے اور پھر 7 اکتوبر 2002 کو ملتان سے بھی شائع ہونے لگا ۔ فیصل آباد سے آزمائشی اشاعت جاری ہے۔ [1]

جنگ لندن

ترمیم

پندرہ مارچ 1971ء کو روزنامہ جنگ نے لندن سے اپنی اشاعت کا آغاز کیا۔برطانیہ میں شائع ہونے والا یہ پہلا اردو روزنامہ تھاجس کا مقصد برطانیہ میں پاکستان کے حالات و واقعات کوزیادہ سے زیادہ آگاہ کرناتھا۔[2] ملک کی بیشتر علمی ادبی شخصیات نے جنگ میں لکھا۔ ان میں رئیس امروہوی،سید محمد تقی، یوسف صدیقی ، مجیدلاہوری ،شوکت تھانوی، ابراہیم جلیس، نیاز فتح پوری،فیض احمد فیض،حفیظ جالندھری،احمدندیم قاسمی،ابن انشا، منو بھائی، ماہرالقادری،جمیل الدین عالی، ارشاد احمد حقانی ،زیڈ اے سلہری، پیرعلی محمد راشدی،اشتیاق اظہر،ڈاکٹر اسرار احمد، مولانا کوثر نیازی، نصراللہ خاں ،نسیمہ بنت سراج اورشفیع عقیل شامل ہیں۔ (پاکستان کرونیکل سے استفادہ) [1]

اخبار کی ریکارڈ توڑ اشاعت

ترمیم

25 نومبر 1962ء وہ دن تھا جب جنگ نے پاکستانیوں کو ملکی صحافتی تاریخ کی سب سے بڑی خوشخبری دی۔ روزنامہ جنگ کراچی اور راولپنڈی کی روزانہ اشاعت ایک لاکھ سے زائد ہو گئی۔یہ کسی بھی اردو روزنامے کی دنیا کی تاریخ میں بہت بڑی خبر تھی۔ [2]

جنگ آن لائن

ترمیم

سنہ 1996ء کے آخر میں جنگ ویب گاہ کا آغاز ہوا۔جنگ آن لائن پاکستان کا پہلا مکمل انٹرنیٹ ایڈیشن تھا۔ 3فروری1997ء کے انتخابات کے موقع پر جنگ کا آن لائن ایڈیشن مقبولیت میں سرفہرست تھا۔ [2]

جنگ گروپ

ترمیم

جنگ گروپ روزنامہ جنگ کے علاوہ مندرجہ ذیل اخبار و رسائل بھی شائع کرتا ہے۔

ٹی وی

ترمیم

جنگ گروپ کے تحت کئی سیٹلائٹ ٹی وی چینلز بھی ہیں جیسے کہ جیو ٹی وی نیٹ ورک ، جیو اینٹرٹینمنٹ ، جیو سوپر ، جیو کہانی ۔

مزید

ترمیم

بیرونی روابط

ترمیم


حوالہ جات

ترمیم
  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ اسلم ملک کی وال سے, معروف صحافی و محقق.
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ روزنامہ جنگ کے 68 برس ایک نظر میں,سلیم اللہ صدیقی.


{پاکستان میں قدامت پسندی|}}