راجکماری دوبے

ہندوستانی پس پردہ گلوکارہ

راجکماری دوبے(ولادت: 1924ء - وفات: 2000ء)، جو اپنے پہلے نام،راجکماری سے مشہور ہیں، ایک ہندوستانی پس پردہ گلوکارہ تھیں جنہوں نے 1930ء اور 1940ء کی دہائی کے ہندی سنیما میں کام کیا۔ وہ فلم باورے نین (1950ء) کے نغمے "سن بیری بالم سچ بول رے"، فلم محل (1949ء) میں "گھبرا کے جو ہم سر کو ٹکرایا" اور فلم پاکیزه (1972ء) میں "نظریہ کی ماری" کے نغموں لئے مشہور ہیں۔

راجکماری دوبے
Rajkumari Dubey.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1924  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بنارس  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 2000 (75–76 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ادکارہ،  گلو کارہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابتدائی زندگیترميم

راجکماری 1924ء میں بنارس میں پیدا ہوئیں، انہوں نے 11 سال کی عمر میں ہندی سنیما میں شمولیت اختیار کی، اور فلم رادھے شیام اور زلمی ہنس (1932ء) میں بطور بچہ اداکار کام کیا اور اس کے بعد انہوں نے کچھ سال تک تھیٹر میں کام کیا۔‌ فلموں میں واپس آنے سے پہلے، پرکاش پکچر میں بطور اداکارہ اور گلوکارہ شامل ہوئیں۔ اس وقت کی معروف گلوکارائیں، زہرہ بائی انبالے والی، امیر بائی کرناٹکی اور شمشاد بیگم کے مقابلے میں راجکماری کی آواز نرم اور میٹھی تھی۔ اگلی دو دہائیوں میں،1950ء کی دہائی کے اوائل تک، انہوں نے 100 فلموں کے لئے گانا گایا۔‌ اس کے بعد لتا منگیشکر نے قدم رکھا اور گانے کا منظر تبدیل ہو گیا۔ [1] [2]

بعد کی زندگیترميم

راجکماری نے اپنی زندگی میں بہت دیر سے شادی کی۔ ان کے شوہر وی کے دوبے تھے جو بنارس سے تعلق رکھتے تھے۔ بنارس میں وی کے دوبے نے اپنا کافی وقت صرف کیا (کیوں کہ وہاں ان کی دکان تھی)، جبکہ راجکماری بمبئی میں مقیم تھیں۔ بعد میں وی کے د نے وبے ممبئی میں شمولیت اختیار کی۔ راجکماری کا انتقال 2000ء میں ہوا۔ [1]

فلمو گرافیترميم

  • بمبئی میل (1935ء) [3]
  • گورکھ آیا (1938ء)
  • نوکر (1943ء)[3]
  • نیل کمل (1947ء)
  • محل (1949ء)[3]
  • بویرے نین (1950ء)[3]
  • ہلچل (1951ء)
  • آسمان (1952ء)
  • پاکیزہ (1972ء)
  • کتاب (1977ء) (پروڈیوسر ہدایت کار گلزار کی فلم)[3]

جی ایم درانی کے ساتھ گانےترميم

  • "جھوم رہی باغوں میں بھیگی" - یتیم (1945ء) [4]
  • "برساں لاگی بدریا" - نئی دنیا (1942ء) [3]
  • "دل لوٹ لیا جی"۔ نئی دنیا (1942ء)
  • "پریم نے من میں آگ لگائی" - نئی دنیا (1942ء)
  • " او تجھ کو نینوں" - مہربانی (1950ء)
  • "اڑ جاؤں میں ساجن رے" - کویتا (1944ء)
  • "برس گئی رام بدریا کاری" - اسٹیشن ماسٹر (میوزک ڈائریکٹر نوشاد )
  • "دھیرے دھیرے بول میرے راجہ"۔ اشارہ (1943ء) (میوزک ڈائریکٹر خواجہ خورشید انور ) (گیت نگار – ڈی این مڈھک )
  • "گوٹے دا ہار وی" - کرمئی (پنجابی زبان کی فلم) (1941ء) (اقبال بیگم کے ساتھ) [4]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب "Zohrabai, Amirbai and Rajkumari profiles". Women On Record website. 16 اگست 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 فروری 2020. 
  2. Anantharaman 2008.
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث "Rajkumari – Profile". Cineplot.com website. 10 اکتوبر 2010. 10 اکتوبر 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 فروری 2020. 
  4. ^ ا ب http://films.hindi-movies-songs.com/k-anwar.html, Rajkumari's song with music director Khurshid Anwar in film 'Kurmai', Retrieved 18 فروری 2020

کتابیاتترميم

بیرونی روابطترميم