گلزار ایک نامور شاعر اور ہدایت کار ہیں۔ وہ پاکستان کے شہر جہلم کے قریب دینہ میں 1936ء میں پیدا ہوئے۔ اصلی نام سمپیورن سنگھ ہے۔ تقسیم برصغیر کے وقت وہ بھارت چلے گئے۔ ابتدائی زندگی میں موٹر مکینک تھے۔ شاعری اور فلمی دنیا کی طرف رحجان انھیں فلمی صنعت کی طرف لے گیا۔ گلزار نے فلمی اداکارہ راکھی سے شادی کی۔

گلزار
Gulzar 2008 - still 38227.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 18 اگست 1936 (84 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دینہ، پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–1947)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ راکھی گلزار (1973–)  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد میگنا گلزار  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فلم ہدایت کار[2]،  منظر نویس[2]،  فلم ساز،  شاعر،  مصنف،  غنائی شاعر،  نغمہ نگار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
دادا صاحب پھالکے ایوارڈ  (2014)[3]
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین غنائی شاعر (2011)
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین غنائی شاعر (برائے:Kajra Re) (2006)
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن  (2004)
زی سائن اعزاز برائے بہترین غنائی شاعر (برائے:ستیہ) (2003)
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:Dhuan) (2002)[4]
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین ہدایت کار (برائے:Mausam) (1977)
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین مکالمہ  (برائے:Namak Haraam) (1974)
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین مکالمہ  (برائے:Anand) (1972)  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

بطور ہدایت کارترميم

گلزار نے بطور ہدایتکار اجازت، انگور، دل سے، معصوم آندھی، پریچے، موسم اور ماچس جیسی فلمیں بنائیں۔ ان کا ٹیلی ڈراما مرزا غالب ایک کلاسیک کی حیثت رکھتا ہے۔

بطور شاعرترميم

گلزار نے بطور شاعر بے شمار فلموں میں کے لیے گیت لکھے۔ ان کی فلمی شاعری میں بھی ایک اچھوتا پن پایا جاتا ہے۔ ان کے انوکھے اور نادر تشہبات کا استعمال ان کے گیتوں میں نئے رنگ بھر دیتا ہے۔ ان کے گیت نہ صرف ماضی میں پسند کیے جاتے رہے ہیں بلکہ آج کے دور میں بھی ان کے گانوں کو نوجوان شوق سے سنتے ہیں۔ سنیمابین چار سال قبل ریلیز ہوئی مشہور فلم بنٹی اور ببلی کے سپرہٹ گانے ’کجرا رے’ کو نہیں بھولے یا پھر فلم اوم کارا کا انتہائی مقبول گانا ’بیڑی جلائی لے‘ یا پھر حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم کمینے کا ہٹ نغمہ ’رات کے بارہ بجے’ ہو جو آج بھی ٹاپ دس گانوں کی فہرست میں شامل رہتا ہے، گلزار کی قلم سے نکلا ہر نغمہ عوام کے دل و دماغ پر مخصوص چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔ فلم سلم ڈاگ ملینئیر کے لیے لکھے گئے گیتوں پر ان کو آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

نمونہ کلامترميم

فلم اجازت میں سے ان کا ایک گانا میرا کچھ سامان تمھارے پاس پڑا ہے شاعری، گلوکاری اور موسیقی کا اچھا نمونہ ہے۔

ایک دفعہ وہ یاد ہے تم کو

بن سائیکل کی بتی کا چالان ہوا تھا

ہم نے کیسے بھوکے،بے چاروں سی ایکٹنگ کی تھی

حوالدار نے الٹا ایک اٹھنی دے کر بھیج دیا تھا

ایک چوونی میری تھی

وہ بھیجوا دو

میرا کچھ سامان تمھارے پاس پڑا ہے

وہ لوٹا دو

ساون کے کچھ بھیگے بھیگے دن رکھے ہیں

اور میرے اک خط میں لپٹی رات پڑی ہے

وہ رات بجھادو

میرا وہ سامان لوٹا دو

پت جھڑ ہیں کچھ۔۔۔ ہیں نا

پت جھڑ میں کچھ پتوں

کے

گرنے کی آہٹیں

کانوں میں اک بار پہن کے لوٹ آئی تھی

پت جھڑ کی وہ شاخ ابھی تک کانپ رہی ہے

وہ شاخ گرا دو

میرا وہ سامان لوٹا دو

ایک اکیلی چھتری میں جب

آدھے آدھے بھیگ رھے تھے

آدھے سوکھے،ادھے گیلے،

سوکھا تو میں لے آئی تھی

گیلا من شاید بستر کے پاس پڑا ھو

وہ بھیجوا دو

میرا وہ سامان لوٹا دو

ایک سو سولہ چاند کی راتیں

ایک تمھارے کاندھے کا تل

گیلی مہندی کی خوشبو

جھوٹ موٹ کے شکوے کچھ

جھوٹ موٹ کے وعدے بھی

سب یاد دلا دو

سب بھیجوا دو

میرا وہ سامان لوٹا دو

ایک "اجازت "دے دو بس

جب اس کو دفناو ¿ں گی

میں بھی وہیں سو جاؤں گی

ذاتی زندگیترميم

گلزار کی شادی راکھی سے ہوئی۔ دونوں کی ایک بیٹی ہے جن کا نام میگھنا گلزار ہے۔ میگھنا گلزار خوش قسمت رہیں کہ انہیں اچھے اور قابل والدین ملے جنہوں نے ادبی اور تعلیمی ماحول میں ان کی پرورش کی۔ انہوں نے نیو یارک یونیورسٹی سے فلم سازی میں گریجویشن کیا اور کئی فلموں میں ہدایتکاری کے فرائض انجام گئے جیسے فی الحال، جسٹ میریڈ، دس کہانیاں، تلوار، راضی اور چھپاک۔[5] چھپاک سے سارے نغمے گلزار نے ہی لکھے ہیں۔[6] میگھنا نے اپنے والد گلزار کی سوانح عمری بھی لکھی ہے جس 2004ء میں شائع ہوئی۔[7]

اعزازاتترميم

گلزار نے اردو میں شاعری کی اور گیت لکھے جو ہمیشہ کانوں میں رس گھولتے رہتے ہیں۔ انھیں 2004ء میں بھارتی حکومت کی طرف سے پدما بھوشن کا خطاب ملا۔ اُن کی بے لوث خدمات کے لیے 11ویں اوسِیانز سِنے فین فلم فیسٹیول کی جانب سے 2009ء کا لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔ ان کی گیتوں کے تراجم کی انگریزی میں کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔ گلزار صاحب کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیور سٹی،حیدرآباد ننے 3 مارچ 2012 کواپنے چوتھے کانوکیشن میں ڈی۔ لٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا جبکہ 2013ء انہیں ہندوستانی سینما کا سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دیا گیا۔

حوالہ جاتترميم

  1. ربط : آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی  — اخذ شدہ بتاریخ: 25 جون 2019
  2. ربط : https://d-nb.info/gnd/129572047  — اخذ شدہ بتاریخ: 24 جون 2015 — اجازت نامہ: CC0
  3. http://m.timesofindia.com/india/Director-lyricist-Gulzar-to-get-Dadasaheb-Phalke-award/articleshow/33670237.cms — ناشر: ٹائمز آف انڈیا
  4. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#URDU
  5. Dore، Shalini؛ Dore، Shalini (2020-01-10). "Bollywood Film 'Chhapaak' Makes Serious Splash". Variety (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 21 جنوری 2020. 
  6. "Women directors scale Bollywood". BBC News. 21 فروری 2002. 6 جون 2004 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 دسمبر 2013. 
  7. "On the Shelf". دی انڈین ایکسپریس. 11 جنوری 2004. 

بیرونی روابطترميم