مشہور ریاضی دان۔ پورا نام سرینواسا آینگر رامانوجن تھا۔ ریاست تمل ناڈو میں 1887ء میں پیدا ہوئے۔ امانوجن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہیں ’لامحدود کی سمجھ تھی‘۔

رامانوجن
(تمل میں: ஸ்ரீனிவாஸ ஐயங்கார் ராமானுஜன் ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Srinivasa Ramanujan - OPC - 1.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 22 دسمبر 1887[1][2][3][4][5]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اروڑ[6]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 26 اپریل 1920 (33 سال)[1][2][3][4][5]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کومبھکونم[7]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات سل[8]  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت[8]  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن رائل سوسائٹی  ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ٹرینٹی کالج، کیمبرج (1914–1916)[9]  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ریاضی دان[10]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل تالیفیات،  نظریۂ عدد  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت ٹرینٹی کالج، کیمبرج[9]  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
رائل سوسائٹی فیلو  (1918)  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Srinivasa Ramanujan signature.gif
 

برصغیر نے پچھلی تین صدیوں میں سب سے بڑا ذہین شخص جو پیدا کیا وہ Ramanujan تھے سب سے بڑی بات یہ کہ راما نوجن کی وفات محض 33 برس کی عمر میں ہوئی . [11]

رامونجن 1887 میں پیدا ہوئے اور بتیس سال کی کمسن عمر میں ٹی-بی سے 1920 میں فوت ہو گئے:

"خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں"

ابتدائی زندگیترميم

ریاضی سے بے انتہا لگاؤ کی وجہ سے انہیں کالج پہنچ کر تعلیم چھوڑنا پڑی کیونکہ وہ دیگر مضامین کی طرف توجہ نہیں دے سکے۔ پیسوں کی کمی کی وجہ سے رامانوجن کا گزارا زیادہ تر خیرات پرتھا مگران کی ریاضی میں دلچسپی برقرار رہی۔ رامانوجن نے مدراس میں کلرک کی نوکری شروع کر دی لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے لوگوں کو اپنے ریاضی کے علم سے متعارف کروانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ [11]

کارہائے نمایاںترميم

انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی کے ریاضی کے ماہرین کو خط لکھنا شروع کر دیے۔ امانوجن کو تیسرے ہی خط کے بعد اس وقت کامیابی حاصل ہو گئی جب پروفیسر جی ایچ ہارڈی نے رامانوجن کے دس صفحات کے خط میں دیے گئے ریاضی کے مسئلوں پر غور کرنے کے بعد انہیں کیمبرج بلا لیا۔

رامانوجن نے ریاضی کی تعلیم باقاعدہ حاصل نہیں کی پر کیمبرج میں ایک ریاضی دان نے بلوا لیا، وہاں کام کیا 3100 ایکویشنز اور رزلٹس دریافت کیے ۔ ۔ ذہانت خاص کر ریاضیاتی ذہانت تو ختم تھی . ان کی ذہانت کا ایک قصہ انکا نمبر ہے , جسے ہم ریاضی میں Ramanujan Number کے نام سے جانتے ہیں ۔ ہوا یوں کہ کیمبرج کے ریاضی دان Hardy انکو ملے اور یہ اس وقت گاڑی میں سامان ڈال رہے تھے ہارڈی نے کہا کہ میں پریشان ہوں، انہوں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے؟ ہارڈی نے کہا کہ میں نے ابھی ٹیکسی پر 1729 نمبر دیکھا، کیا اس نمبر میں کچھ خاص ہے؟ رامانوجن نے کچھ سیکنڈ . کے بعد کہا کہ ہاں یہ سب سے چھوٹا نمبر ہے جو دو مختلف 2 نمبرز کے کیوبز کا سَم ہے 1729 = (1)^3 + (12)^3 = (9)^3 + (10)^3[11]

رامونجن صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے ہردفعہ ایف-اے میں داخلے کے ٹیسٹ میں تمام مضامین میں فیل ہوجاتے اور ریاضی میں بھی واجبی سے نمبر حاصل کرسکتے کیونکہ یہ ٹیسٹ میں صرف اُن سوالوں کا جواب دیتے جس کو یہ اہم سمجھتے تھے باقیوں کو چھوڑ دیتے۔ اس صورت میں شدید غربت میں رہے اور فاقوں میں زندگی بسر کی لیکن خود سے اپنی ریاضی میں تحقیق جاری رکھی 1910 میں ان کی رسائی راماسوامی ایئار سے ہوئی جو ہندوستان ریاضی سوسائیٹی کے بانی تھے جس کے بعد رامونجن کو کچھ پزیرائی ملی اور آپ مدراس یونیورسٹی میں آنے جانے لگے۔

آپ نے اپنے زمانے کے یورپ اور امریکا کے تمام بڑے ریاضی کے ماہرین کو خطوط لکھے اور اپنے وضع کردہ ثبوت لکھے، کیونکہ رامونجن باقاعدہ ریاضی کی تعلیم نہیں رکھتے تھے اس لیے ان کے ثبوتوں میں زبان، علامتیں بالکُل غیر مانوس تھیں کسی بھی ریاضی دان نے ان کو گھاس نہ ڈالی سوائے جی-ایچ- ہارڈی کے جس نے اس کا خط دیکھ کہ یہ فیصلہ کیا کہ یہ کوئی شعبدے باز ہے اور اس کے خط ردی میں پھینکے لیکن بہت گہری سوچ میں رہا کہ اگر یہ کوئی شعبدے باز بھی ہے تو اتنے گہرائی میں فارمولوں کا جاننا بھی کوئی کم نہیں پھر اس نے رامونجن سے خط و کتاب شروع کی تو معلوم ہوا کہ یہ تو جینئیس ہے اور اس غرض سے کہ اس کو ریاضی کی جدید تعلیم دی جائے 1914 میں انگلستان بلوایا جہاں یہ شدید سردی اور صرف سبزی خور ہونے کی وجہ سے زیادہ دیر صحت مند نہ رہ سکے اور 1918 میں برصغیر لوٹ آئے اور 1920 میں وفات پا گئے۔

میں نے آجتک عظیم ترین ریاضی دانوں کی کوئی فہرست ایسی نہیں دیکھی جس میں رامونجن کا ذکر پہلے پانچ لوگوں میں نہ ہو

انتقالترميم

رامانوجن پانچ سال کیمبرج میں گزارنے کے بعد 1919ء میں بھارت واپس آئے اور ایک سال کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ رامانوجن کی برطانیہ کے سخت سرد موسم میں صحت بہت خراب ہو گئی تھی جہاں انہوں ہمیشہ صرف سبزیوں پر مشتمل خوراک کھائی۔ رامانوجن کی تحقیق نے جدید دور میں ڈیجیٹل انقلاب کے بیج بوئے۔ خودکار ٹیلر مشینیں جن سے پیسے نکلوائے جاتے ہیں رامانوجن کے نظریہ پارٹیشن کے تحت کام کرتی ہیں۔

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب خالق: John O'Connor اور Edmund Robertson
  2. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w66x1fd4 — بنام: Srinivasa Ramanujan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=21850 — بنام: Srinivasa Ramanujan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ ا ب Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/ramanujan-srinivasa — بنام: Srinivasa Ramanujan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب گرین انسائکلوپیڈیا کیٹلینا آئی ڈی: https://www.enciclopedia.cat/EC-GEC-0054077.xml — بنام: Srinivasa Rāmānujan — عنوان : Gran Enciclopèdia Catalana — ناشر: Grup Enciclopèdia Catalana
  6. Srinivasa Ramanujan Birthday, Age, Family & Biography — اخذ شدہ بتاریخ: 24 فروری 2018 — شائع شدہ از: سوانح
  7. Srinivasa Ramanujan Biography — اخذ شدہ بتاریخ: 24 فروری 2018 — شائع شدہ از: Biography.com
  8. ^ ا ب The Mystery of Srinivasa Ramanujan's Illness — اخذ شدہ بتاریخ: 24 فروری 2018
  9. ^ ا ب خالق: John O'Connor اور Edmund Robertson
  10. SRINIVASA RAMANUJAN Mathematician — اخذ شدہ بتاریخ: 24 فروری 2018
  11. ^ ا ب پ Uzair Siddiqi (13 نومبر 2018). "رامانوجن". سائنس کی دنیا. صفحہ سائنس کی دنیا (گروپ).