رزان نجار

فلسطینی نرس اور فعالیت پسند

رزان نجار (عربی: رزان أشرف النجار) (پیدائش: سنہ 1997ء – وفات: بروز جمعہ 1 جون سنہ 2018ء بمطابق 16 رمضان 1439ء بمقام غزہ، فلسطین) فلسطینی ادارہ برائے طبی امداد میں ایک رضاکار فلسطینی نرس تھی جو اسرائیلی افواج کے مظالم کے خلاف اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے خاصی سرگرم اور متحرک رہتی تھی۔ سنہ 2018ء میں غزہ کی سرحد پر فلسطینی عوام نے امریکی سفارت خانہ کی منتقلی کے خلاف جم کر احتجاج کیا تو اسرائیلی فوجیوں نے ان مظاہرین پر گولیاں چلائیں جس سے سینکڑوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ رزان بڑی تندہی کے ساتھ انہی زخمی افراد کو طبی امداد پہنچاتی رہی تھیں۔ رزان کی انہی انسان دوست کوششوں کی بنا پر عین اس وقت جب وہ زخمیوں کی مرہم پٹی میں مصروف تھی ایک اسرائیلی قاتل نے 1 جون 2018ء کو بروز جمعہ تقریباً ساڑھے پانچ بجے خان یونس میں ان کے سینے پر گولی داغی جس سے وہ فوراً جاں بحق ہو گئی۔[1]

رزان نجار
(عربی میں: رزان النجار خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (عربی میں: رزان أشرف النجار خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 11 ستمبر 1996  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
خان یونس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 جون 2018 (22 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
غزہ کی پٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات بلاسٹک ٹروما  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مدفن غزہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
قاتل اسرائیلی دفاعی افواج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں قاتل (P157) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Palestine.svg ریاست فلسطین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ نرس،فعالیت پسندِ انسانی حقوق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

رزان پہلی فلسطینی لڑکی تھی جس نے جامعہ ازہر میں ایک سال تک طبی امداد اور تیمارداری کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ سنہ 2014ء میں خانگی حالات بگڑنے اور ان کے والد پر قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے انہیں اپنی تعلیم چھوڑنی پڑی۔ چنانچہ رزان واپس فلسطین پہنچ کر مریضوں اور زخمیوں کی رضاکارانہ طبی امداد میں جت گئیں، اس طرح ان کے تجربات اور تربیت پختہ ہو گئے۔ اس دوران میں بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ ضروری طبی آلات کی کمی کے باعث انہیں اپنی جیب خاص سے خریدنا پڑا۔ رزان اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی ریلیوں میں دس سے زائد دفعہ زخمی بھی ہوئیں لیکن پیچھے نہیں ہٹیں اور مسلسل زخمیوں کو طبی امداد پہنچاتی رہیں۔ بالآخر انہی کوششوں کے دوران میں مشرقی خان یونس میں روزہ کی حالت میں انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔

جنازہترميم

بروز سنیچر 2 جون کو غزہ کے قبرستان خزاعہ میں رزان نجار کی تدفین عمل میں آئی۔ ان کے جنازے میں شرکت کے لیے فلسطینیوں کا ہجوم امڈ پڑا تھا، ہزاروں افراد مشایعت کر رہے تھے جن میں ان کے مریض بھی بڑی تعداد میں تھے۔ رزان کو خزاعہ قبرستان لے جانے سے قبل فلسطینی پرچم میں لپیٹ کر ان کے گھر پہنچایا گیا جہاں ان کے جنازے پر پھول نچھاور کیے گئے۔

حوالہ جاتترميم

  1. "Gaza violence: Thousands attend funeral for Palestinian medic" (خبر) (انگریزی زبان میں)۔