رومیوں نے عیسائی مذہب قبول کرنے کے بعد یورپ اور شام میں یہودیوں پر زندگی تنگ کردی تھی۔ انہیں دربدر کیا، ظالم کیے، ذلیل کرکے رکھا اور ان کا قتل کیا۔ جان بچانے اور چین سے جینے کے لیے یہودی ان علاقوں کی طرف رخ کرتے جہاں مسلمانوں کی حکومت ہوتی۔ رومیوں کے عیسائیت قبول کرنے کے بعد بیت المقدس سے یہودیوں کو نکالا گیا اور انکی عبادت گاہیں تباہ کردی گئیں۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں بیت المقدس کی فتح کے بعد یہودیوں کو شہر میں آنے جانے کی اجازت ملی۔

15 ہجری (637ء) میں بیت المقدس فتح ہونے کے بعد حضرت عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ نے یہودیوں کو بیت المقدس کی زیارت کی اجازت دی، جبکہ اس سے پہلے عیسائیوں نے ان پر پابندی لگا رکھی تھی۔ عیسائیوں نے یہودیوں سے حد درجہ بغض کی وجہ سے اس چٹان، جس کے اوپر "قبۃ الصخرۃ" (Dome of Rock) بنا ہوا ہے، کو کچرے کے ڈھیر سے ڈھک دیا تھا۔ کیونکہ یہودی اس کو مقدس مانتے ہیں۔ اس چٹان کے اوپر سے کچرہ امیر المومنین عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا۔ مسلمانوں کے نزدیک اس کی اہمیت یہ ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ کی معراج والی رات، اس چٹان پر سے براق اوپر آسمانوں کو اڑا تھا۔

پھر جب بھی صلیبی جنگ کے بعد عیسائی بیت المقدس پر قابض ہوئے تو مسلمانوں اور یہودیوں کا قتل عام کیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے بیت المقدس فتح کرنے کے بعد اور بعد میں طویل عرصہ تک سلطنت عثمانیہ کے زمانے میں یہودی قلیل تعداد میں رہے، لیکن عیسائی ظلم و ستم اور ذلت و خواری والی زندگی سے بہتر حالت میں رہے۔ انیسویں صدی میں یورپ اور روس میں یہودیوں کے خلاف عیسائیوں میں شدید نفرت اور مظالم پھر سے ابھرے۔ ان حالات میں یہودیوں نے عیسائیوں کے ظلم سے تنگ آکر نقل مکانی کی۔ جرمنی، مشرقی یورپ اور روس سے یہودی لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہوگئے۔ ان کی بڑی تعداد امریکا، برطانیہ اور کچھ فلسطین میں آگئے۔

اسی دوران میں صیہونیت (Zionism) کی تحریک نے جنم لیا۔ اس تحریک کا مقصد یہودیوں کے لئے اپنا ملک قائم کرنا تھا اور اس کے لئے انہوں نے فلسطین کو چُنا۔ یہ تحریک یورپ، امریکا اور فلسطین میں زور پکڑتی گئی اور یہودیوں نے بڑی تعداد میں فلسطین میں آباد ہونا شروع کردیا اور یہاں زمینیں خریدنے لگنے۔ یہ سلطنت عثمانیہ کا آخری زمانہ تھا۔

پہلی جنگ عظیم (1914ء-1918ء) میں سلطنت عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا تھا اور جب جرمنی ہار گیا تو برطانیہ نے سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا اور مختلف علاقے مختلف یورپی طاقتوں کے قبضے میں آگئے۔ فلسطین پر برطانیہ کا قبضہ ہوگیا۔ 1917ء میں برطانیہ کے وزیر خارجہ نے ایک اعلان کیا، جس کو اعلانِ بالفور (Balfour Declaration) کہا جاتا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ فلسطین میں برطانیہ آزاد یہودی ریاست قائم کرنے میں مدد کرے گا۔ برطانیہ نے ان کو وہاں آباد ہونے اور منظم کرنے میں مدد دی۔ جب فلسطین کے عرب مسلمانوں میں یہودیوں کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہونے لگے اور دونوں کے درمیان میں شدید جھڑپیں ہونے لگیں تو برطانیہ نے فلسطین سے جانے کا فیصلہ کیا اور اقوام متحدہ سے اس علاقہ کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا کہا۔

اقوام متحدہ نے 1947ء میں فیصلہ دیا کہ فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کردیا جائے : مغربی علاقہ جہاں یہودیوں کی اکثریت آباد تھی وہاں یہودی اسرائیل کی ریاست قائم کریں اور مشرقی علاقہ میں فلسطینی عرب مسلمانوں کی ریاست قائم ہوجائے۔ جبکہ بیت المقدس اقوام متحدہ کے کنٹرول میں رہے۔ یہودیوں نے اس فارمولے کو قبول کرلیا جبکہ فلسطینی مسلمانوں اور عرب ممالک نے اپنے درمیان میں ایک یہودی ریاست کے قیام کو یکسر مسترد کردیا۔

یہودیوں نے 14 مئی 1948ء کو اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا تو اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان میں جنگیں چھڑ گئیں۔ یہ جنگیں 1967ء تک چلیں۔ جنگ کی شروعات میں اسرائیل نے مغربی بیت المقدس پر قبضہ کرلیا اور فلسطین کے کچھ اور علاقے بھی اپنے قبضے میں لے لئے۔ بقیہ فلسطین کے مختلف علاقوں پر مصر، شام، لبنان اور اردن کا قبضہ ہوگیا۔ بیت المقدس کا مشرقی علاقہ، جس میں حرم شریف اور مسجد اقصیٰ سمیت مقدس مقامات ہیں، اردن کے قبضے میں تھا۔ یہ صورت حال 1967ء تک قائم رہی۔ 1967ء کی عرب-اسرائیل جنگ کے اختتام پر اسرائیل کا پورے فلسطین پر قبضہ ہوگیا۔ مقدس مقامات تاریخ میں پہلی مرتبہ یہودیوں کے قبضہ میں آگئے۔

تاریخترميم

 
فلسطين، 1759

تاریخ جس زمانہ میں لوگ ایک جگہ رہنے کی بجائے تلاش معاش میں چل پھر کر زندگی بسرکیا کرتے تھے۔ عربستان سے قبیلہ سام کی ایک شاخ جو کنعانی یا فونیقی کہلاتی تھی، 2500قبل مسیح میں یہاں آ کر آباد ہو گئی۔ پھر آج سے 4000سال پہلے یعنی لگ بھگ 2000 ق م میں حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے شہر ار (Ur) سے جو دریائے فرات کے کنارے آباد تھا ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ایک بیٹے اسحاق علیہ السلام کو بیت المقدس میں، جبکہ دوسرے بیٹے اسمعٰیل علیہ السلام کو مکہ میں آباد کیا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام، کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے جن کا نام اسرائیل بھی تھا۔ ان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور بہت سے دیگر پیغمبر اسی سرزمین میں پیدا ہوئے یا باہر سے آ کر یہاں آباد ہوئے۔ اسی مناسبت سے یہ خطہ زمین پیغمبروں کی سرزمین کہلایا۔

 

 
عملة معدنية فلسطينية
 
گُمبد بیت المقدس میں ــ

ان علاقوں میں عبرانی قومیت (Hebrews) کے لوگوں کی آمد کا نشان ولادت مسیح سے لگ بھگ 1100 سال قبل میں ملتا ہے۔ حضرت سیموئیل جو اللہ کے نبی تھے، پہلے اسرائیلی بادشاہ تھے۔ انہوں نے کافی عرصہ حکومت کی اور جب وہ بوڑھے ہو گئے تو انہوں نے اللہ کے حکم سے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن مجید کے پارہ دوم میں سورہ بقرہ کی آیات 247 تا 252 میں ملتا ہے۔

حضرت طالوت علیہ السلام نے 1004 قبل مسیح سے 1020 قبل مسیح تک حکمرانی کی۔ اس دوران میں انہوں نے جنگ کر کے جالوت (Goliath) کو مغلوب کیا اور اس سے تابوت سکینہ واپس لیا جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے تبرکات تھے۔

حضرت طالوت علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام بنی اسرائیل کے بادشاہ بنے۔ انہوں نے پہلے الخلیل (Hebron) اور پھر بیت المقدس میں اپنا دار الحکومت قائم کیا۔ بیت المقدس دنیا کا قدیم ترین شہر ہے۔ یہ دنیا کا واحد شہر ہے جو یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے لیے یکساں مقدس اور محترم ہے۔ اس شہر کا موجودہ نام ”یروشلم“ حضرت داؤد علیہ السلام نے رکھا تھا۔

حضرت داؤدعلیہ السلام نے 1004 قبل مسیح سے 965 ق م تک 33 سال حکمرانی کی۔ ان کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے 965 ق م میں حکومت سنبھالی جو 926 قبل مسیح تک 39 سال قائم رہی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد اسرائیل کی متحدہ ریاست دو حصوں سامریہ اور یہودیہ میں تقسیم ہو گئی۔ دونوں ریاستیں ایک عرصے تک باہم دست و گریبان رہیں۔

598 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے حملہ کر کے یروشلم سمیت تمام علاقوں کو فتح کر لیا اور شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا کر بادشاہ اور ہزاروں شہریوں کو گرفتار کر کے بابل میں قید کر دیا۔ 539 قبل مسیح میں ایران کے بادشاہ خسرو نے بابل کو فتح کیا اور قیدیوں کو رہا کر کے لوٹا ہوا مال واپس یروشلم بھیج دیا۔

332 قبل مسیح میں یروشلم پر سکندراعظم نے قبضہ کر لیا۔ 168 قبل مسیح میں یہاں ایک یہودی بادشاہت کا قیام عمل میں آیا۔ لیکن اگلی صدی میں روما کی سلطنت نے اسے زیر نگین کر لیا۔ 135 قبل مسیح اور 70 قبل مسیح میں یہودی بغاوتوں کو کچل دیا گیا۔ اس زمانے میں اس خطے کا نام فلسطین پڑ گیا۔

20 اگست 636ء کو عرب فاتحین نے فلسطین کو فتح کر لیا۔ یہ قبضہ پرامن طریقہ سے عمل میں آیا۔ 463 سال تک یہاں عربی زبان اور اسلام کا دور دورہ رہا۔ تاہم یہودی ایک اقلیت کی حیثیت سے موجود رہے۔ گیارہویں صدی کے بعد یہ علاقہ غیر عرب سلجوق، مملوک اور عثمانی سلطنتوں کا حصہ رہا۔ 1189ءمیں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کیا اور یہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہو گئی۔

چار صدیوں تک عثمانیوں کی حکمرانی کے بعد 1917ء میں برطانیہ نے اس خطے کو اپنی تحویل میں لے لیا اور اعلان بالفور کے ذریعہ یہودیوں کے لیے ایک قومی ریاست کے قیام کا وعدہ کیا گیا۔

فلسطین کی جانب یہودیوں کی نقل مکانی 17 ویں صدی کے اواخر میں شروع ہو گئی۔ 1930ء تک نازی جرمنی کے یہودیوں پر مظالم کی وجہ سے اس میں بہت اضافہ ہو گیا۔ 1920ء، 1921 ء، 1929ءاور 1936 ءمیں عربوں کی طرف سے یہودیوں کی نقل مکانی اور اِس علاقے میں آمد کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے لیکن یہ سلسلہ جاری رہا۔

1947ءمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعہ فلسطین کو تقسیم کر کے ایک عرب اور ایک اسرائیلی ریاست قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ برطانیہ نے اس علاقے سے 1948ءمیں اپنی افواج واپس بلالیں اور 14 مئی 1948ءکو اسرائیل کی آزاد حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کے ساتھ ہی فلسطینی ریاست بھی قائم کر دی جاتی لیکن ایسا نہ ہوا۔ عربوں نے تقسیم کو نامنظور کر دیا اور مصر، اردن، شام، لبنان، عراق اور سعودی عرب نے نئی اسرائیلی ریاست پر حملہ کر دیا، تاہم وہ اسے ختم کرنے میں ناکام رہے۔ بلکہ اس حملے کی وجہ سے یہودی ریاست کے رقبے میں اور اضافہ ہو گیا۔

1949ءمیں اسرائیل نے عربوں کے ساتھ الگ الگ صلح کے معاہدے کیے اس کے بعد اردن نے غرب اردن کے علاقے پر قبضہ کر لیا جب کہ مصر نے غزہ کی پٹی اپنی تحویل میں لے لی۔ تاہم ان دونوں عرب ممالک نے فلسطینیوں کواٹانومی سے محروم رکھا۔

29 اکتوبر 1958ءکو اسرائیل نے صحرائے سینا پر حملہ کر کے اسے مصر سے چھین لیا۔ اس حملے میں برطانیہ اور فرانس کی حکومتوں نے اسرائیل کا ساتھ دیا۔ 6 نومبرکو جنگ بندی عمل میں آئی۔ عربوں اور اسرائیل کے درمیان میں ایک عارضی صلح کا معاہدہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہوا جو 19مئی 1967ءتک قائم رہا جب مصر کے مطالبے پر اقوام متحدہ کے فوجی دستے واپس بلالیے گئے۔ مصری افواج نے غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا اور خلیج عقبہ میں اسرائیلی جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی۔

5جون 1967ء کو چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ شروع ہو گئی۔ اسرائیلیوں نے غزہ کی پٹی کے علاوہ صحرائے سینا پر قبضہ کر لیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مشرقی یروشلم کا علاقہ، شام کی گولان کی پہاڑیاں اور غرب اردن کا علاقہ بھی اپنے قبضہ میں کر لیا۔ 10 جون کو اقوام متحدہ نے جنگ بندی کرا دی اور معاہدے پر دستخط ہو گئے۔

6 اکتوبر 1973ء کو یہودیوں کے مقدس دن ”یوم کپور“ کے موقع پر مصر اور شام نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے شامیوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا اور نہر سویزعبور کر کے مصر پر حملہ آور ہو گیا۔ 24 اکتوبر 1973ءکو جنگ بندی عمل میں آئی اور اقوام متحدہ کی امن فوج نے چارج سنبھال لیا۔ 18 جنوری 1974ء کو اسرائیل نہر سویز کے مغربی کنارے سے واپس چلا گیا۔

3 جولائی 1976ءکو اسرائیلی دستوں نے یوگنڈا میں انٹی بی (Entebe) کے ہوائی اڈے پر یلغار کر کے 103 یرغمالیوں کو آزاد کرا لیا جنہیں عرب اور جرمن شدت پسندوں نے اغواءکر لیا تھا۔

نومبر 1977ءمیں مصر کے صدر انور السادات نے اسرائیل کا دورہ کیا اور 26 مارچ 1979ءکو مصر اور اسرائیل نے ایک امن معاہدے پر دستخط کر کے 30 سالہ جنگ کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات قائم ہو گئے۔ (تین سال بعد 1982ءمیں اسرائیل نے مصر کو صحرائے سینا کا علاقہ واپس کر دیا۔)

جولائی 1980ءمیں اسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت پورے یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت قراردیدیا۔ 7 جون 1981ءکو اسرائیلی جیٹ جہازوں نے بغداد کے قریب عراق کا ایک ایٹمی ری ایکٹر تباہ کر دیا۔ 6 جون 1982ءکو اسرائیلی فوج نے پی ایل او کی مرکزیت کو تباہ کرنے کے لیے لبنان پر حملہ کر دیا۔ مغربی بیروت پر اسرائیل کی تباہ کن بمباری کے بعد پی ایل او نے شہر کو خالی کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اسی سال 14 ستمبر کو لبنان کے نومنتخب صدر بشیر جمائل کو قتل کر دیا گیا۔

16 ستمبر 1982ء لبنان کے مسیحی شدت پسندوں نے اسرائیل کی مدد سے دو مہاجر کیمپوں میں گھس کر سینکڑوں فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔ اس سفاکانہ کارروائی پر اسرائیل کو دنیا بھر میں شدید مذمت کا نشانہ بننا پڑا۔

1989ءمیں انتفادہ کے زیر اہتمام فلسطینی حریت پسندوں نے زبردست عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا۔ 1991ءکے آغاز میں جنگ خلیج کے دوران میں عراق نے اسرائیل کو کئی سکڈ میزائلوں کا نشانہ بنایا۔

مزید دیکھیےترميم

فہرست متعلقہ مضامین فلسطینترميم

حوالہ جاتترميم