سعدیہ راشد

حکیم محمد سعید کی صاحبزادی اور جامعہ ہمدرد کی چانسلر

سعدیہ راشدہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی سربراہ، ہمدرد یونیورسٹی کی چانسلر اور مایہ ناز ماہر تعلیم، سابق گورنر سندھ اور نامور طبیب حکیم محمد سعید کی صاحبزادی ہیں۔

سعدیہ راشد
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1946ء (عمر 77–78 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد حکیم محمد سعید   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
صدر ہمدرد فاؤنڈیشن   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
17 اکتوبر 1998 
حکیم محمد سعید  
 
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کراچی   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ایم اے   ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
 دی آرڈر اوف رائزنگ سن، گولڈ ریز وِد نیک رِبن (2019)  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابتدائی زندگی

ترمیم

سعدیہ 1946 میں دہلی میں پیدا ہوئیں، والد محترم حکیم محمد سعید پاکستان میں ہمدرد فاؤنڈیشن کے بانی تھے۔ سعدیہ نے سینٹ جوزف کانونٹ اسکول سے تعلیم پائی اور اس کے بعد سینٹ جوزف کالج کراچی میں داخلہ لیا۔ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے (عمرانیات) کی ڈگری حاصل کی۔ شادی کے بعد سعدیہ راشد کہلائیں۔ 17 اکتوبر 1998ء میں ان کے والد حکیم محمد سعید کو کراچی میں واقع ان کے مطب کے باہر شہید کر دیا گیا، جس کے بعد سے سعدیہ راشد نے ہمدرد فاؤندیشن کے نظم و نسق کو سنبھالا اوراپنے والد کے مشن کی تکمیل کے لیے کوشاں ہو گئیں۔[1]

ہمدرد فاؤنڈیشن میں خدمات

ترمیم

علم و ادب میں دلچسپی کے باعث انھوں نے ہمدرد پبلیکیشنز (جرائد، میگزین اور کتب ) کی اشاعت پر خاص توجہ مرکوز رکھی۔ وہ ماہنامہ ہمدرد صحت ، ہمدرد نونہال، سہ ماہی ہمدرد طب اور ہمدرد اسلامیکس کی چیف ایڈیٹر ہیں ۔

سعدیہ راشد بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سطح کی تعلیم کے فروغ میں بھی کوشاں ہیں۔ ہمدرد پبلک اسکول ، مدینہ الحکمہ کے نواح میں موجود گوٹھوں اور دیہاتوں میں ہمدرد دیہی اسکولز کا قیام و انتظام ،[2] نیز ہمدرد کالج آف سائنس اینڈ کامرس ان کے تعلیم کے فروغ میں خدمات کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی سلسلے میں مدینہ الحکمت میں ہمدرد یونیورسٹی اور دیگر انسٹی ٹیوشنز کا قیام ایک اہم قدم ہے۔ ہمدرد فاؤنڈیشن کے تحت زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی سہولیات دے کر وہاں تعلیمی سرگرمیوں کو پھر سے جاری و منظم کیا گیا ۔

غریب اور ضرورت مند لوگوں میں صحت کی آگہی کے لیے ہمدرد فاؤنڈیشن نے اہم اقدامات اٹھائے اور اس سلسلے میں ہمدرد یونیورسٹی ہاسپٹل اور شفا الملک ہاسپٹل میں غریب افراد کے لیے آنکھوں امراض کے علاج کے لیے مفت کیمپ لگائے جاتے ہیں۔ ہمدرد موبائیل ڈسپنسری بھی پاکستان کے کئی شہروں میں کام کر رہی ہے۔ ان کے یونانی طب سے متعلق تحقیق و تجربے نے ان کے لیے طب کی نئی راہیں تلاش کرنے میں بہت معاونت کی ہے ۔

عہدے اور دیگر خدمات

ترمیم

اعزازات

ترمیم

فروری 2019ء میں شہنشاہ اور حکومت جاپان نے "جاپان اور پاکستان کے ثقافتی تعلقات کو استوار کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دینے" کے حوالے سے ہمدرد پاکستان کی صدر نشین سعدیہ راشد کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انھیں جاپان کے اعلیٰ شہری اعزاز دی آرڈر اوف رائزنگ سن، گولڈ ریز وِد نیک رِبن سے نوازا ہے۔[3]

حوالہ جات

ترمیم
  1. "والد کی شہادت کے بعد ایک روز کیلئے بھی ہمدرد بند نہیں ہوا"۔ jang.com.pk 
  2. Vote for – The News Women[مردہ ربط]
  3. "سعدیہ راشد کوجاپان کے اعلیٰ سول ایوارڈ سے نوازا گیا"۔ Nawaiwaqt۔ 2 فروری، 2019