سہرانی ایک قبیلہ ہے۔ پاکستان میں پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان میں جامپور روڈ نزد پل شوریہ واقع ہے، جہاں ایک علاقہ بستی سہرانی کے نام سے جانا جاتا ہے اور 15000 افراد پر مشتمل ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے اس قبیلہ کے سردار اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے بہادری کی تاریخ رقم کر چکے ہیں۔بستی سہرانی کے لوگ مہذب، پڑھے لکھے اور دیندار ہیں۔ بستی سہرانی کے مشہور بہادر سرداروں میں سے ایک ہزارہ خان تھے جن کا نام پورے پاکستان میں جانا جاتا ہے، ہزارہ خان انصاف پسند اور نڈر انسان تھے انہوں نے اپنے قبیلہ کا نام روشن کیا اور آج تک لوگ ان کے نام کی عزت کرتے ہیں۔ بستی کے سرداروں میں سے سردار صوبھہ خان، ساون خان،داد خان، کریم بخش خان، رسول بخش خان، کالو خان، محمد بخش خان، گانہور خان،نذیر احمد خان،واحد بخش خان، منظور احمد خان، ساون خان، ملک رحیم بخش خان، شفیع محمد خان، اللہ وسایا خان کے نام قابل ذکر ہیں۔ مذہبی شعور اور سیاسی اثر رسوخ اس قوم کی شناخت ہے۔ بستی سہرانی کے جوان سہرانی نوجوان اتحاد کے نام سے ایک گروپ کنٹرول کرتے ہیں جس کا مقصد بستی سہرانی کے لوگوں کے مسائل حل کرنا اور ان کی ترقی کے لیے اقدامات کرنا ہے ، سہرانی نوجوان اتحاد کی بنیاد 18 جولائی 2020 کو مدثر حسین ولد منظور احمد سہرانی نےاپنے ایک دوست ڈاکٹر عبدالطیف صاحب کی رائے پر رکھی۔سہرانی نوجوان اتحاد کے پہلے صدر محمد سرفراز ولد نذیر احمد سہرانی منتخب ہوئے اور نائب صدر محمد عامر ولد منظور احمد سہرانی ہیں۔

حوالہ جاتترميم