سید جماعت علی شاہ

سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری امیر ملت کے نام سے شہرت رکھتے ہیں

سید جماعت علی شاہ
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1841  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
علی پور سیداں،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 30 اگست 1951 (109–110 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
علی پور سیداں،  ضلع نارووال  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ولادتترميم

سید جماعت علی شاہ 1834ء میں علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ پنجاب میں پیدا ہوئے ۔(ایک روایت 4/صفر 1320ھ بمطابق13 مئی 1902ءہے[1])

نسبترميم

امیر ملت کے والد کا نام حضرت پیر سید کریم شاہ تھا جو خود بھی عارف باللہ اور ولی کامل تھے۔ آپ نجیب الطرفین سید ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب اڑتیس واسطوں سے حضرت علی المرتضیٰ تک پہنچتا ہے اور آپ کا شجرہ نسب ایک سو اٹھارہ واسطوں سے حضرت آدم تک پہنچتا ہے۔

تعلیم وتربیتترميم

امیر ملت نے سات سال کی عمر میں ہی قرآن پاک حفظ کر لیا۔ آپ کا تعلق مسلک اہلسنت و جماعت سے تھا علوم دینیہ مولانا غلام قادر بھیروی، مولانا فیض الحسن سہارنپوری، مولانا قاری عبد الرحمن محدث پانی پتی اور مولانا احمد علی محدث سہارنپوری سے حاصل کیے۔ سند حدیث علما پاک و ہند کے علاوہ علما عرب سے بھی حاصل کی۔ ایک بار آپ نے بطورِ تحدیثِ نعمت فرمایا کہ مجھے 10 ہزار احادیث مع اسناد کے یاد ہیں۔

علم باطنترميم

علوم ظاہری کے بعد آپ فیوض باطنی کی طرف متوجہ ہوئے تو امام کاملین قطب زماں بابا جی فقیر محمد چوراہی کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں داخل ہو کر اسی وقت خرقۂ خلافت سے نوازے گئے۔ اس پر مریدین نے اعتراض کیا تو باو ا جی نے فرمایا کہ جماعت علی تو چراغ بھی ساتھ لایا تھا، تیل بتی اور دیا سلائی بھی اس کے پاس موجود تھی، میں نے تو صرف اس کو روشن کیا ہے۔

دینی خدماتترميم

امیر ملت نے پچاس سے زیادہ حج کیے۔ سینکڑوں مسجدیں بنوائیں اور بے شمار دینی مدارس قائم کیے۔ سیاسی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ شہید گنج کی تحریک کے دنوں میں آپ نے ہندوؤں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور برہمنوں کے پراپیگنڈے کا سدباب کرنے کے لیے مبلغین کی ایک جماعت تیار کی جس نے قریہ قریہ اور شہر بہ شہر گھوم کر تبلیغ اسلام کی۔1935ء میں مسجد شہید گنج کے سلسلے میں راولپنڈی شہر میں عظیم الشان جلسے کا انعقاد ہوا، جس میں پیر صاحب کو امیر ملت کا لقب دیا گیا۔ تحریک پاکستان کے لیے آپ کی خدمات بے مثال ہیں۔ آل انڈیا سنی کانفرنس کے سرپرست تھے۔1885 ءمیں لاہور میں انجمن نعمانیہ کی بنیاد رکھی اور 1901ء میں انجمن خدام الصوفیہ کی بنیاد رکھی ۔

علامہ اقبال اور امیر ملتترميم

علامہ اقبال کو امیر ملت سے گہری عقیدت تھی۔ ایک بار امیر ملت کی صدارت میں انجمن حمایت اسلام کا جلسہ ہو رہا تھا۔ جلسہ گاہ میں بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی۔ علامہ اقبال ذرا دیر میں آئے اور امیر ملت کے قدموں میں بیٹھ کر کہا: ”اولیا ءاللہ کے قدموں میں جگہ پانا بڑے فخر کی بات ہے۔“ یہ سن کر امیر ملت نے فرمایا: ”جس کے قدموں میں ”اقبال“ آ جائے اس کے فخر کا کیا کہنا۔“ علامہ اقبال کے آخری ایام کا ذکر ہے۔ ایک محفل میں امیر ملت نے کہا: ”اقبال! آپ کا ایک شعر ہمیں بے حد پسند ہے۔“ پھر یہ شعر پڑھا:


؎ کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

علامہ اقبال کی خوشی دیدنی تھی چنانچہ آپ نے کہا: ”ولی اللہ کی زبان سے ادا ہونے والا میرا یہ شعر میری نجات کے لیے کافی ہے۔“

وفاتترميم

26 ذیقد 1370ھ بمطابق 30 اگست 1951ء امیر ملت اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔[2]

حوالہ جاتترميم