غوث الدہر سید شاہ ظہورالحق عمادی محدثخانقاہ عمادیہ قلندریہ کے تیسرے سجادہ نشین ہیں۔

ولادتترميم

آپ 27؍محرم الحرام 1185ھ کو سوموار کے دن پیدا ہوئے۔شاہ نور الحقؒ کے بیٹے تھے۔

تعلیمترميم

آپ نے قرآن شریف از اول تا آخر کمسنی میں اپنے جد اعلیٰ شاہ مجیب اللہ سے پڑھا۔ آپ نے درسیات کی ابتدائی کتابوں سے لے کر متوسطات تک اپنے والد محی السالکین محمد نور الحق سے پڑھیں۔ بقیہ کتابیں ملا جلال الدین ساکن ڈہری مقیم پٹنہ عظیم آباد سے پڑھ کر 1200ھ میں سولہ برس کی عمر میں فراغت حاصل کی اور 1217ھ میں قرآن حفظ فرمالینے کے بعد 1221ھ میں حصن حصین حفظ فرمائی اور پھر حسب بشارت و ارشاد عماد الدین قلندر جسے بذریعہ رویا مشرف ہوئے تھے۔ 1230ھ میں آپ نے صحیح بخاری و مسلم دونوں ہی کے حفظ سے فراغت پائی۔ چونکہ آپ کو علم حدیث کی طرف شغف خاص تھا باوجود یکہ ملا جلال ڈہری سے سند حدیث تھی ہی آپ نے بذریعہ خط سلطان المحدثین شاہ عبد العزیز دہلوی سے سند حدیث طلب کی۔ انہوں نے چند سوالات بخیال دریافت لیاقت علمی و حال استعداد لکھ کر بھیجے۔ آپ نے ان کل سوالوں کے مدلل جوابات لکھ کر ارسال خدمت فرمائے۔ جنہیں دیکھ کر سند احادیث لکھ کر بھیج دی۔ اس وقت دہلوی کے بعض خطوط غوث الدہر کے نام موجود ہیں جن میں محدث دہلوی نے آپ کو بڑے بڑے القاب سے یاد فرمایا۔ جیسے "صاحبزادہ عالی مرتبت، مجمع فضائل و مناقب، جلالتہ الاکابر و الامجاد، نتیجہ ارباب المحاسن و الحایمد، ذوالمجد و المعالی، بہحتہ الایام و اللیالی" وغیرہ۔

سلسلہ بیعتترميم

آپ کی بیعت 1200ھ میں ہوئی اور 20 جمادی الاول 1211ھ کو بوقت مجلس عرس محبوب رب العالمین آپ کو آپ کے والد ماجد محی السالکین مولانا شاہ محمد نور الحق طپاں نے اجازت و خلافت و عصاء تسبیح و مصلیٰ دے کر بہ حضور جمیع المشائخ قرب و جوار سجادۂ محبوب رب العالمین پر بٹھا دیا۔ اس وقت آپ کی عمر چھبیس برس کچھ ما ہ کی تھی۔ اور 1230ھ میں ہجرت کر کے پھلواری سے پٹنہ عظیم آباد چلے آئے۔

تصنیفاتترميم

آپ کو تصنیف کابہت شوق تھا۔ آپ کی تصانف کی تعداد سو تک پہنچ چکی ہے جن میں سے اکثر کتابیں تو خانقاہ کے کتب خانے میں موجود ہیں۔ چند کتابوں کے نام درج ہیں ۔

  • "تسویلات الفلاسفہ"، رد فلاسفہ بہ دلائل عقلیہ بہ زبان عربی۔
  • "اعیان در منطق" یہ کتاب اپنے رنگ میں بالکل نئی ہے۔ سراپا جدت ہے محض کم سنی گیارہ برس کی عمر میں لکھی گئی بہ زبان عربی۔
  • "فیوض الہامیہ"در تصوف بہ زبان عربی، عجیب پاکیزہ کتاب ہے اور قابل دید ہے۔
  • "تنویرات" بہ زبان فارسی۔
  • "النہی عن المنکر" بیان منہیات شرعی واوامر جمیع احکام شرعیہ در فقہ بہ زبان فارسی۔
  • "معاصم المآثم"بہ زبان فارسی در اقسام گناہان۔ نہایت مدلل اور قابل دید ہے۔ یہ کتاب ترجمہ کے ساتھ چھپ چکی ہے۔
  • رسالہ " کسب النبی" در بیان پیشہ ہائے انبیا علیھم السلام ۔
  • "نصح نصیح" در فن حدیث وغیرہ۔

وفاتترميم

آپ کی وفات 16؍ ذی قعدہ 1234ھ بروز بدھ بمقام پھلواری دفن ہو ئے۔ مزار مبارک شاہ نور الحق کے مزار کے پہلو میں ہے۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. انوار الاولیاء ،حسیب اللہ مختار،صفحہ 99،بساط ادب کراچی پاکستان 2000ء