شونیا پالن پوری کا جنم 19 دسمبر، 1922ء کو احمدآباد ضلع کے لیلاپور گاؤں میں ہوا تھا۔ ان کا پیدائشی نام علی خان عثمان خان بلوچ تھا۔ شونیا تخلص ہے۔ اس کے معنے سنسکرت اور بھارت کی کئی زبانوں میں صِفر (0) کے ہیں۔

شونیا پالن پوری
علی خان عثمان خان بلوچ

معلومات شخصیت
پیدائش (1922-12-19) دسمبر 19, 1922 (عمر 101 برس)
لیلاپور گاؤں، احمدآباد ضلع
وفات مارچ 17، 1987(1987-30-17) (عمر  64 سال)
پالانپور   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش پالن پور
شہریت بھارتی
دیگر نام علی خان بلوچ
مذہب اسلام
عملی زندگی
پیشہ گجراتی شاعری، گجراتی تراجم، گجراتی شاعری، اسکولی تدریس
پیشہ ورانہ زبان گجراتی ،  فارسی ،  اردو   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کم عمری اور غزل سے شغف

ترمیم

شونیا کا غزل سے شوق کم عمری سے ظاہر ہونے لگا۔ وہ تیسری جماعت سے چھوٹی چھوٹی تُک بندی پر کام کر رہے تھے۔ 1938ء تک، جب وہ 16 سال کے ہو چکے تھے، وہ وسیع غزلیں گجراتی زبان میں لکھنے لگے۔ ان کی غزلیں اپنی ہیئت اور زبان میں کافی سلجھی ہوئی ہونے لگی۔[1]

پیشہ اور دیگر سرگرمیاں

ترمیم

شونیا پیشے سے ٹیچر تھے۔ وہ ایک اچھے شطرنج کھلاڑی، گھڑسوار اور پالن پور کی سابقہ شاہی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تھے۔ وہ بہ طور وکٹ کیپر عقابی نظر رکھتے تھے۔ وہ وکٹ کیپری کی وجہ سے سب سے آخر کھلاڑی ہوتے اور ناٹ آؤٹ رہتے۔ اسی وجہ سے کرکٹ کے حلقوں میں انھیں انانم علی (ناٹ آؤٹ علی) کے طور شہرت تھی۔ پالن پور کی شاہی کرکٹ ٹیم میں چنندہ پولیس عہدے دار، ریاستی ملازمین یا مشہور جواں سال تاجر شامل تھے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میانداد کے والد میانداد سندھی ایک پولیس اہلکار تھے جب کہ شونیا ایک اسکول ٹیچر تھے۔[2]

مطبوعہ مجموعات کلام

ترمیم

شونیا کے کئی مجموعے شائع ہوئے: شونیا نُو سرجن، شُونیا نُو وِسرجن، شونیا نہ اوشیش، شُونیا نُو اِسمارک، شونیا نُو اِسمرتی، شونیا نو ویبھو، خیام نی رباعیات۔

وہ اردو اور فارسی زبانوں میں مہارت رکھتے تھے۔ غزل نگاری کے علاوہ وہ ایک ماہر مترجم، نقاد، صحافی اور تخلیقی مصنف تھے۔ رباعیات عمر خیام کا انھوں نے گجراتی زبان میں ترجمہ کیا تھا، جس کی کافی تعریف کی گئی تھی۔[1]

شاعری کے موضوعات

ترمیم

شونیا عمومًا سیکولرازم اور سبھی مذاہب کی تعظیم پر لکھتے تھے۔ اسلام کے ارکان، ہندو فلسفہ، ویدانت کا الہیاتی تصور اکثر ان کے شاعرانہ کلام کے موضوع رہے ہیں۔ وہ کئی پیچیدہ موضوعات کو سادگی سے اپنی غزلوں، نظموں اور مُکتک (گجراتی صنف) میں اظہار کر چکے ہیں۔

وہ زندگی میں ہمیشہ مثبت سوچ کے حامل تھے۔ وہ کہتے تھے کہ:[1]

جیون ما کوئی دشا نی نہیں خراب کہو۔
کمل نے پنکھ نا سوندریا نو جواب کہو۔

انتقال

ترمیم

وہ 17 مارچ 1987ء کو انتقال کر گئے۔[1]

حوالہ جات

ترمیم
  1. ^ ا ب پ ت "Shoonya Palanpuri (Ali Khan Usmaan Khan Baloch) (1922-1987)"۔ 22 مئی 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 دسمبر 2017 
  2. Shunya Palanpuri, hero forgotten in hometown