اردو کے مشہور غزل گو شاعر

شہزاد احمد

پیدائش ترميم

شہزاد احمد نے 16 اپریل 1932ء کو مشرقی پنجاب کے مشہور تجارتی اور ادبی شہر امرتسر کے ایک ممتاز خاندان کے فرد ڈاکٹرحافظ بشیر کے گھرانے میں جنم لیا،[1]

تعلیم ترميم

گورنمنٹ کالج لاہور سے 1952ء میں نفسیات اور 1955ء میں فلسفے میں دوسرا ایم اے کیا،[2]

ملازمت ترميم

شہزاد احمد نے پہلی سرکاری ملازمت تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی بہاولپور میں بطور پبلک ریلیشنز آفیسر اپنے فرائض ادا کیے بعد ازاں انہوں نے تھل ترقیاتی ادارے کی یہ اعلیٰ ملازمت ترک کی تو ایگل سائیکل بنانے والوں کی فرم میں ملازم ہو گئے۔ بھٹو صاحب کے دور میں وہ روٹی پلانٹ کے جنرل مینجر مقرر کئے گئے۔ پھر پاکستان ٹیلی ویژن پر انہیں سکرپٹ ڈائریکٹر بنایا گیا[3]

اعزازات ترميم

’’صدف‘‘ 1958ء میں ان کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ہے۔ ان کی غزلوں کے مجموعے ’’جلتی بھجتی آنکھیں‘‘ 1969ء پر آدم جی ادبی انعام دیا گیا۔ ’’پیشانی میں سورج’‘ پر انہیں ہجرہ (اقبال) ایوارڈ دیا گیا۔ 1997ء میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا گیا۔ طالب علمی کے زمانے میں بھی ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جاتا رہا، انہیں 1952ء میں گورنمنٹ کالج لاہور کے ’’اکیڈمک رول آف آنر‘‘ سے نوازا گیا۔ وہ 50-1949ء کے دوران فلاسوفیکل سوسائٹی کے سیکرٹری بھی رہے۔ انہیں انجمن ترقی ادب کا بہترین مضمون نویسی کا ایوارڈ 1958ء، نقوش ایورڈ 1989ء اور مسعود کھدر پوش ایوارڈ 1997ء بھی مل چکا ہے۔ ’’بیاض‘‘ لاہور ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف کے طور پر ان کے نام سے معنون ایک خصوصی شمارہ بھی شائع کر چکا ہے۔ وہ مجلس ترقی ادب کے ڈائریکٹر بھی رہے، شہزاد احمد کو 2006ء میں مجلس ترقی ادب کا ناظم مقرر کیا گیا۔ قائداعظمؒ لائبریری کے ادبی مجلہ ”مخزن“ کا مدیر بھی بنایا گیا۔[4]

ادبی خدمات ترميم

شہزاد احمد کی شاعری کی پہلی کتاب ”صدف“ 1958ءمیں شائع ہوئی۔ اس کے بعد چھپنے والی کتابوں میں۔ ”جلتی بجھتی آنکھیں“.... ”ادھ کھلا در یچہ....”خالی آسمان“ ”بکھر جانے کی رُت“، ”دیوار پر دستک“.... ٹوٹا ہوا پُل“.... ”کون اسے جاتا دیکھے“.... پیشانی میں سورج“ اترے مری خاک پر ستارہ” اور مٹی جیسے لوگ“ بہت مشہور ہیں۔ پنجابی شاعری کی کتابیں اس سے الگ ہیں

شہزاد احمد کی نثر کی کتابوں میں ”مذہب، تہذیب اور موت“.... ”ذہن انسانی کا حیاتیاتی پس منظر“.... ”سائنسی انقلاب“ اور ”دوسرا رخ “ وغیرہ شامل ہیں۔ نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام نے اپنی ایک کتاب ان سے ترجمہ کرائی جو ”ارمان اور حقیقت“ کے نام سے شائع ہوئی۔ تخلیقی رویے، سائنس کے عظیم مضامین اور نفسیاتی طریقِ علاج میں مسلمانوں کا حصہ ان کی ترجمہ شدہ کم از کم دس کتابیں اب بھی زیرِ اشاعت ہیں۔ا[5]

شہزاد احمد شعر و نقد شعر کے علاوہ نفسیات اور فلسفہ کے موضوعات پر انتہائی اہم مضامین سپرد قلم کر چکے ہیں اور متعدد اہم ترین سائنسی موضوعات پر معروف کتب کے تراجم بھی ان کے نام کے ساتھ یادگار ہو چکے ہیں۔ اسلام اور فلسفہ ان کا محبوب موضوع ہے اور اس سلسلے میں ان کی تصانیف اور تراجم پاکستانی ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔[6]

نئی زندگی ترميم

شہزاد احمد پر 1984ءمیں دل کا پہلا دورہ پڑا تو وہ کراچی کے ایک ادبی جلسے میں شامل تھے۔ انہیں فوراً ہسپتال پہنچایا گیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی ”کلینیکل ڈیتھ“ ہو چکی ہے، لیکن بجلی کے جھٹکے لگانے سے ان کی حرکتِ قلب جاری ہوگئی اور کچھ عرصے کے بعد وہ ادویات پر انحصار کر کے معمول کی زندگی گزارنے لگے[7]

وفات ترميم

شہزاد احمد کا انتقال 1 اگست 2012ء بمطابق 12 رمضان المبارک 1433ھ بروز بدھ شام چار بجے لاہور میں ہوا۔ مرحوم کی عمر 80 برس تھی۔ شہزاد احمد نے سوگواران میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔[8][9]

شاعری ترميم

یوں تو ہماری شاعری کا بنیادی موضوع محبت اور اس سے وابستہ احساسات و جذبات کا فنکارانہ اظہار رہا ہے مگر شہزاد احمد اردو کا پہلاغزل گو ہے جس نے غزل کے اس بنیادی موضوع کو تجربے کے علاوہ علم کی سطح پر بھی برتا ہے اور یوں وہ محبت کی نفسیات کا ماہر غزل گو تسلیم کیا گیا ہے۔

انفرادیت ترميم

محبت کے موضوع کو علم کی سطح پر برتنے کا یہ مطلب ہرگزر نہیں کہ شہزاد احمد کی غزل علمی متانت اور پیوست کا شکار ہو گئی ہے۔ بلکہ جب شہزاد اس موضوع کو اپنی غزل میں کھپاتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے تجربے اور مشاہدے سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے بلکہ علم نفسیات کے جدید اکتشافات سے بھی مسلح ہوتا ہے اور یوں اس کی غزل، دیگر غزل گو شعرائ سے مختلف اور منفرد ہو جاتی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اتنی چاق و چوبند اور سچی اور کھری غزل کے لیے شہزاد احمد جو زبان استعمال کرتا ہے وہ اتنی سادہ اور سلیس ہوتی ہے کہ کسی ایک مصرعے سے بھی یہ گمان نہیں ہوتا کہ اس نے جو کچھ کہا ہے، انتہائی بے شاختگی سے کہا ہے اور صرف اس وقت کہا ہے جب شعر کہنے کے سوا اس کے لیے کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔ کسی مقام پر بھی شہزاد احمد سے اپنے وسیع تجرباتی اورعلمی پس منظر کی اتراہٹ سرزد نہیں ہوتی۔ اس دور میں شہزاد احمد کی غزل سے زیادہ اور اس سادگی کے باجوجود نہایت پرکار غزل شاید ہی کسی نے کہی ہو

نیا اسلوب ترميم

غزل میں اپنا ایک اسلوب پیدا کرنے کے بعد اب گزشتہ کچھ عرصے سے شہزاد احمد کی غزل میں ایک تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ اسے شاید تبدیلی نہیں کہنا چاہیے کیونکہ تبدیلی کے ساتھ ترمیم کا تصور وابستہ ہے اور شہزاد کو اپنے موضوع میں کوئی ترمیم گوارا نہیں اور شاید اسے اس طرح کی ترمیم کی ضرورت بھی نہیں۔ چنانچہ اسے شہزاد کے منفرف اسلوب میں اضافہ قرار دے لیجیے کہ اب وہ غزل میں فرد اور ذات کی نفسیات کے ساتھ ہی پورے معاشرے کی نفسیات کو بھی سمونے لگا ہے اور اس کے سے خالص غزل گو کے موضوع میں اضافہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ بحیثیت فنکار، شہزاد کا ایک موضوع سے دوسرے موضوع تک مربوط سفر ایک ارتقائی سفر ہے۔ وہ فنکار بھی کیا جو ساری زندگی اپنے آپ ہی سے لڑتے بھڑتے گزار دے اور بالواسطہ طور پر اپنی ذات سے باہر کی دنیا کی فنی کر دے۔ اپنے آپ سے پنجہ آزما ہونا بھی ایک حقیقت ہے اور اس کا اظہار کفر نہیں ہے لیکن جب شاعر اپنے معاشرے اور اپنے عصر کے پس منظر میں اپنی ذات کے تجرباتی مطالعے پر قدرت حاصل کر لے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس نے اپنی ذات سے بھی بڑی حقیقت کا اثبات کیا ہے اور شہزاد احد ان دونوں اسی اثبات کے سفر میں ہے۔

نظم ترميم

شہزاد احمد نے نظمیں بھی کہیں۔ ان کی نظمیں ان کی غزل کے ایک ایک شعر کی تشریحات محسوس ہوتی ہیں۔ کہ ان میں غزل کا سا حسن و بے شاختگی ہے۔ نظم کے سلسلے میں مشکل یہ ہے کہ اس کے لیے خیال و احساس کی ایک جامعیت ۔۔۔۔۔۔ ایک مرکزیت ضروری ہوتی ہے۔ اس لیے تو جس طرح ضروری نہیں کہ کامیاب نظم نگار اچھی غزل کہنے پر قادر ہو۔ ماسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ کامیاب غزل گو اچھی نظم تخلیق کرنے پر قدرت رکھتا ہو۔ مگر غزل گو شہزاد احمد نے اپنی تخلیقی ہمہ گیری سے، اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ اس کی نظمیں جہاں انسانی نفسیات کی بوقلمونی سے آراستہ ہیں۔ وہیں ان کا معیار بھی شہزاد کی غزل کی طرح صاف ستھرا اور بلند ہے۔ شہزاد احمد نے غزل اور نظم کے علاوہ نفسیات پر بھی کتابیں لکھی ہیں اور بعض غیر معمولی کتابوں کے ترجمے بھی کیے ہیں اور نفسیات اور فلسفے کے ساتھ ساتھ سائنسی موضوعات پر بھی بہت محنت اور کاوش سے لکھا ہے۔ شہزاد احمد اردو ادب کی ایک ہمہ گییر اور ہمہ صف اور سرمایہ افختار شخصیت ہیں۔

تصانیف ترميم

  1. صدف
  2. جلتی بجھتی آنکھیں
  3. آدھ کھلا دریچہ
  4. خالی آسمان
  5. بکھر جانے کی رت
  6. ٹوٹا ہوا پل
  7. کون اسے جاتا دیکھے
  8. پیشانی میں سورج
  9. اترے مری خاک پہ ستارہ
  10. معلوم سے آگے
  11. اندھیرا دیکھ سکتا ہے
  12. ایک چراغ اور بھی
  13. آنے والا کل
  14. مٹی جیسے لوگ
  15. دیوار پہ دستک(کلیات)

حوالہ جات ترميم

  1. https://chunida.com/shair/shehzad-ahmed
  2. "آرکائیو کاپی". 15 جولا‎ئی 2022 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولا‎ئی 2022. 
  3. https://dailypakistan.com.pk/16-Aug-2013/50282
  4. "آرکائیو کاپی". 15 جولا‎ئی 2022 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولا‎ئی 2022. 
  5. https://dailypakistan.com.pk/16-Aug-2013/50282
  6. https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2019-10-09/23662
  7. https://dailypakistan.com.pk/16-Aug-2013/50282
  8. "آرکائیو کاپی". 15 جولا‎ئی 2022 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولا‎ئی 2022. 
  9. https://baaghitv.com/poet-shahzad-ahmad/