میرزا محمد علی صائب تبریزی کو صائب اصفهانی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ صائب ایک عظیم فارسی زبان کے غزل گو شاعر تھے۔

صائب تبریزی
Saib Tabrizi.jpeg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1592[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تبریز[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1676 (83–84 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصفہان[2][1]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Safavid Flag.svg سلطنت صفویہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر[1]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان آذربائیجانی[1]،  فارسی[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

انہوں نے تعلیم اصفہان سے حاصل کی۔1626-27 میں ہندوستان کا سفر کیا۔ اور شاه جہان کے دربار میں رسائ حاصل کی۔ اس کے بعد کابل و کشمیر کے سفر کیے اور بالآخر اصفهان واپس پهنچے۔ بادشاه شاه عباس نے ملک الشعرا کا خطاب عطا کیا۔

صائب نے شاعری میں سبک ہندی کو اختیار کیا۔

نمونہ غزل فارسیترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج https://www.iranicaonline.org/articles/saeb-tabrizi
  2. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Саиб Тебризи

آب خضر و می شبانه یکی‌ست مستی و عمر جاودانه یکی‌ست بر دل ماست چشم، خوبان را صد کمان‌دار را نشانه یکی‌ست پیش آن چشم‌های خواب‌آلود نالهٔ عاشق و فسانه یکی‌ست پلهٔ دین و کفر چون میزان دو نماید، ولی زبانه یکی‌ست گر ہزار است بلبل این باغ همه را نغمه و ترانه یکی‌ست پیش مرغ شکسته‌پر صائب قفس و باغ و آشیانه یکی‌ست